یمن: معاونتی مشن پر جانے والا سعودی عرب کا جنگی طیارہ گر کر تباہ

،تصویر کا ذریعہEPA
یمن کے شمالی صوبے الجوف میں سعودی عرب کی اتحادی افواج سے تعلق رکھنے والا ایک طیارہ گر کر تباہ ہو گیا ہے۔
سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق اس اتحاد کے ترجمان نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایک سعودی ٹارنیڈو لڑاکا طیارہ یمنی افواج کی یونٹس کے نزدیک ایک معاونتی مشن پر تھا جب وہ ’گرا‘۔
یمن کے حوثی باغیوں نے اس طیارے کو گرانے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
سعودی عرب کی سربراہی میں یہ اتحاد حوثی باغیوں کی تحریک کے خلاف سنہ 2015 سے لڑ رہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس اتحاد کی جانب سے یہ مداخلت اس وقت کی گئی جب حوثی باغیوں نے یمن کے دارالحکومت صنعا میں موجود بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کا تختہ الٹا تھا۔
حوثی باغیوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے جمعے کی شب زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں کے ذریعے اس جنگی طیارے کو گرایا۔

سعودی عرب نے اب تک اس حملے میں ہونے والی اموات کے حوالے سے تفصیلات نہیں بتائیں۔
اس حملے کا پسِ منظر کیا ہے؟
یمن سنہ 2015 سے حالتِ جنگ میں ہے۔ اُس سال حوثی باغیوں نے یمن کے صدر عبدربہ منصور ہادی اور ان کی کابینہ کو صنعا سے فرار ہونے پر مجبور کر دیا تھا۔
سعودی عرب صدر ہادی کی حمایت کرتا ہے اور اس نے خطے کے دیگر ممالک سے بنے ایک اتحاد کے ذریعے باغیوں پر فضائی حملے کرتا ہے۔
یہ اتحاد تقریباً ہر روز ہی اس طرح کے حملے کرتا ہے جبکہ حوثی باغی بھی اکثر سعودی عرب میں میزائل داغتے ہیں۔
اس خانہ جنگی نے دنیا کا بدترین انسانی آفت کو جنم دیا ہے اور تقریباً 80 فیصد آبادی یعنی دو اعشاریہ چار کروڑ آبادی امداد اور حفاظت کے منتظر ہیں۔
اس تنازع کے باعث اب تک ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔


























