امریکہ کی ہواوے کی فنانشل چیف منگ وینزاؤ کی ساتھ ممکنہ معاہدے کے لیے بات چیت

Meng Wanzhou

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنہواوے کی فنانشل چیف کو 2018 میں امریکی وارنٹ پر کینیڈا میں گرفتار کر لیا گیا تھا
وقت اشاعت

امریکی محکمہ انصاف چینی کمپنی ہواوے کی چیف فنانشل آفیسر منگ وینزاؤ کے ساتھ ایک ممکنہ معاہدے کے بات چیت کر رہا ہے۔

امریکہ کے ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی متعدد رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ امریکی محکمہ انصاف منگ وینزاؤ کے وکلا کے ساتھ ایک ممکنہ ڈیل کے حوالے سے بات چیت کر رہا ہے۔

ہواوے کی چیف فنانشل آفیسر کو دو برس پہلے کینیڈا میں گرفتار کرلیا گیا تھا۔ اگر یہ ڈیل طے پا گئی تو منگ وینزاؤ واپس چین جا سکیں گیں۔

اس خبر کو سب سے پہلے رپورٹ کرنے والے وال سٹریٹ جنرل کے مطابق ہواوے چیف کو اپنے اوپر لگے الزامات تسلیم کرنے ہوں گے۔

منگ وینزاؤ پر ایران پر لگی امریکی پابندیوں کی مبینہ خلاف ورزی کی فرد جرم عائد کی گئی ہے۔

ان پر الزام ہے کہ انھوں نے ایچ ایس بی سی بینک کو ایسی غلط معلومات فراہم کیں جس سے ایران پر لگی امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی ممکن ہو سکتی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

منگ وینزاؤ کو امریکی وارنٹ پر کنینڈا میں گرفتار ہوئے دو برس بیت چکے ہیں۔ ان کو اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ وینکور سے چین کے لیے فلائٹ لینے والی تھیں۔

وہ گذشتہ دو برسوں سے امریکہ کو حوالگی کے خلاف قانونی جنگ لڑ رہی ہیں۔

وہ اس وقت ضمانت پر رہا ہیں لیکن انھیں وینکور سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہے۔

منگ وینزاؤ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنمنگ وینزاؤ کے مقدمے پر صرف چین اور کینیڈا میں ہی نہیں بلکہ دوسرے ممالک میں بھی نظر رکھی جا رہی ہے

اطلاعات کے مطابق امریکہ میں صدارتی انتخاب کے بعد امریکی محکمہ انصاف اور ہواوے کی چیف فنانشل آفیسر کے وکلا کے مابین ہونے والی بات چیت میں تیزی آئی ہے۔

ہواوے اور اس کی چیف فنانشل آفیسر پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ انھوں نے ’سکائی کام‘ نامی کمپنی سے جو مبینہ طور پر ہواوے کی ایک فرنٹ مین کمپنی ہے، تعلق کے حوالے سے ایچ ایس بی سی کو صحیح معلومات فراہم نہیں کی تھیں۔

سیاسی محرکات

امریکی حکام کا الزام ہے کہ ’سکائی کام‘ کمپنی نے ایسی اشیا کو ایران پہنچایا جن پر پابندی عائد ہو چکی تھی۔

منگ وینزاؤ ہواوے کمپنی کے مالک رین زینگفی کی بیٹی ہیں۔ انھوں نے ہمیشہ اپنے خلاف عائد کیے جانے والے الزامات کی تردید کی ہے۔ ان کا موقف ہے کہ ان کے خلاف کارروائی کے محرکات سیاسی ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ ہواوے کمپنی پر الزام عائد کرتی ہے کہ اس کے آلات کو چین کے لیے جاسوسی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ہواوے نے اس کی بار بار تردید کی ہے۔

امریکہ نے چینی کمپنی کو گذشتہ برس بلیک لسٹ کر دیا تھا اور امریکہ دوسرے ممالک پر دباؤ ڈالتا رہا ہے کہ وہ ہواوے کمپنی کو فائیو جی نیٹ ورک کا حصہ نہ بننے دیں۔

ٹرمپ انتظامیہ نے امریکی کمپنیوں پر پابندی عائد کر رکھی ہے کہ اگر وہ آلات چین کو بیچنا چاہتی ہیں تو انھیں پہلے حکومت سے اجازت حاصل کرنا ہو گی۔

چین کینیڈا تعلقات کشیدہ

ہواوے کی چیف فنانشل آفیسر منگ ہونزاؤ کی امریکی وارنٹ پر کینیڈا میں گرفتاری نے چین اور کینیڈا کے تعلقات کو کشیدہ کر دیا تھا۔ چین نے کینیڈا سے کینولا آئل کی درآمد پر پابندی عائد کر رکھی ہے اور اس کے دو کینیڈین شہریوں کو جاسوسی کے الزام پر گرفتار کر رکھا ہے جو اب بھی حراست میں ہیں۔

کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے کینیڈین شہریوں کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہیں اور ان کا موقف ہے کہ امریکہ اور چین کے مابین سفارتی چپقلش میں کینیڈین شہریوں کو استعمال کیا جا رہا ہے۔