بورس جانسن کی جانب سے برطانیہ میں نسلی امتیاز پر کمیشن کی قیادت کے لیے منیرہ مرزا کی تقرری پر تنقید

،تصویر کا ذریعہGetty Images
برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے امریکہ میں جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے بعد برطانیہ میں ہونے والے مظاہروں کے تناظر میں نسلی تعصب اور عدم مساوات پر کمیشن قائم کرنے کا اعلان کیا اور اس کی قیادت کے لیے اپنی مشیر منیرہ مرزا کو چنا۔
تاہم اس فیصلے پر سماجی و سیاسی حلقوں میں شدید تنقید کی جا رہی ہے جس کی وجہ ماضی میں منیرہ مرزا کے نسلی تعصب اور مذہب کے بارے میں دیے گئے بیانات ہیں۔
برطانوی پارلیمان اور حزب اختلاف کی لیبر پارٹی کے رکن ڈیوڈ لیمی جو ماضی میں خود بھی نسلی امتیاز کے بارے میں حکومتی رپورٹ پر کام کر چکے ہیں اس فیصلے کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ بورس جانسن کے اس معاملے پر بنائے جانے والے کمیشن کو مزید کمزور کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
وہ کہتے ہیں ’میرے پیش کردہ جائزے کا سب جماعتوں، کوربن، کیمرون اور مے نے خیر مقدم کیا تھا۔ لیکن منیرہ مرزا نے اس پر کڑی تنقید کی تھی۔
’جانسن بلیک لائیوز میٹر مہم کی بات نہیں سن رہے۔ وہ ایک معاشرتی جنگ چھیڑ رہے ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہTwitter/DavidLammy
جب ماضی میں ڈیوڈ لیمی کی انکوائری رپورٹ شائع ہوئی تھی تو اُس وقت اس بارے میں بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں منیرہ مرزا کا کہنا تھا کہ اس طرح کی رپورٹس برطانیہ میں مختلف رنگ و نسل کے افراد کے حالات کی انتہائی منفی تصویر کشی کرتی ہیں۔
انھوں نے کہا تھا کہ وہ اسے نسلی عدم مساوات قرار دیتی ہیں جو حقیقت کے برخلاف صورتحال کا منظرنامہ پیش کرتی ہیں بجائے ان رویوں کے پیچھے اصل وجوحات پر نظر ڈالنے کے۔
’یہ مختلف رنگ ونسل کے افراد میں ہتک کا احساس بڑھاتی ہیں اورانھیں ناراض کرتی ہیں۔‘
جب بی بی سی کے ساتھ انٹرویو میں ان سے سوال کیا گیا کہ کیا ان کے مطابق اداراوں میں نسلی امتیاز نہیں ہے تو منیرہ مرزا کا کہنا تھا کہ ’اس ملک میں امتیازی سلوک بھی ہوتا ہے اور نسلی بنیادوں پر بھی لوگ نشانہ بنتے ہیں لیکن اسے بڑھا چڑھا کہ پیش کرنا کہ کتنا زیادہ نسلی امتیاز ہے یہ کسی کے لیے بھی فائدہ مند نہیں۔ اس کی مختلف وجوہات ہیں جو سب کو متاثر کرتی ہیں‘۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’اداروں پر یہ الزام لگانا کہ وہ لوگوں سے ان کے رنگ کی وجہ سے غیر منصفانہ رویہ برتتے ہیں بنیادی طور پر سفید فام افراد پر الزام ہے کہ وہ لوگوں کے ساتھ ان کی رنگ و نسل کی بنیاد پر غیر منصفانہ رویہ اختیار کرتے ہیں، میرے خیال میں یہ بہت نقصان دہ ہے‘۔
منیرہ مرزا کے ماضی کے خیالات اُن کی تقرر ی پر شدید ردعمل کی وجہ بنے ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
صحافی ایڈم بیانکو نے انتہائی دائیں بازو کے خیالات کی عکاسی کرنے والی ویب سائٹ سپائیکڈ کے کچھ کالمز کے سکرین شاٹ شیئر کیے جو منیرہ مرزا نے لکھے تھے۔

،تصویر کا ذریعہTwitter/@SaimaMohsin
پاکستانی نژاد برطانوی صحافی صائمہ محسن نے بہت سے لوگوں کی طرح ایڈم بیانکو کی ٹویٹ کو ری ٹویٹ کیا اور لکھا کہ یہ غلط فہمی ہے کہ ایک بھوری رنگت والا شخص ہر نکتہ نظر کی نمائندگی کرتا ہے اور یوں نسل پرستی اور تعصب ختم ہو جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا ’بھوری رنگت رکھنے اور ظلم کی پالیسی کی حمایت کرنے سے آپ تنوع، شمولیت اور اس عمل کا حصہ نہیں بن جاتے۔ وہ سیاہ فام نہیں ہیں اور اسلام مخالف بیانات دیتی رہی ہیں‘۔

،تصویر کا ذریعہSamir Hussein
کنزرویٹو پارٹی کے حامی ان کا دفاع بھی کر رہے ہیں۔
کنزرویٹو پارٹی کے خیالات کی عکاسی کرنے والی ویب سائیٹ کنزرویٹو ہوم کے چیف ایگزیکیٹو لکھتے ہیں کہ ’افسوس ہے کہ منیرہ مرزا کو نشانہ بنانے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ پریتی پٹیل کی طرح ایسے خیالات نہیں رکھتیں جیسے اُن کے پسِ منظر کے لوگوں کے ہونے چاہییں۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
ڈیرن گرائمز جو سوشل میڈیا پر بہت متحرک ہیں اور کنزرویٹو پارٹی سے وابستہ ہیں لکھتے ہیں کہ ’بائیں بازو کی سیاسی سوچ رکھنے والے منیرہ مرزا سے اس لیے نفرت کرتے ہیں کیونکہ وہ حقائق کی اپنے احساسات سے زیادہ پروا کرتی ہیں۔‘
باب جونز نے منیرہ مرزا کے ایک پرانے انٹرویو کی وڈیو شیئر کی اور لکھا کہ ’انھیں تھوڑا سمجھنے کی کوشش کریں، سب اقلیتوں کے بائیں بازو کے افراد کی طرح خیالات نہیں ہوتے‘۔
ایشلی جائلز نے ان کا دفاع کرتے ہوئے لکھا کہ ’وہ اچھی طرح سمجھتی ہیں کہ یہ موجود ہے اور انھوں نے شواہد کا جائزہ لے کر سمجھنے کی کوشش کی ہے کہ معاشرے سے نسلی امتیاز کو کیسے ختم کیا جائے؟‘
مائیکل ولسن لکھتے ہیں کہ میانہ روی والی سوچ رکھنے والے شخص کی یقیناً ضرورت ہے جسے چنا جائے تاکہ عدم مساوات پر کمیشن کی رہنمائی کی جا سکے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 3
ریچل سونڈن نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ ’منیرہ مرزا جو ڈاؤننگ سٹریٹ کی ایک مشیر ہیں جنھوں نے ادارتی سطح پر نسل پرستی کا انکار کیا اور ماضی میں کی جانے والی انکوائری کے بارے میں کہا کہ یہ ہتک کے احساس کو بڑھاوا دیتی ہے۔
’یہ لوگ کبھی نہیں سیکھیں گے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 4
ایک اور ٹوئٹر صارف نے لکھا کہ ’منیرہ مرزا نسل پرستی کے بارے میں انکوائری کریں گی جبکہ ان کا عقیدہ ہے کہ ایسا ہوتا ہی نہیں۔
’کیا یہ مذاق ہے؟ خدا کے واسطے بارس جانسن آپ ہمارے وزیر اعظم ہیں ۔۔۔۔ آپ کے ہاتھ میں لوگوں کی زندگیاں ہیں۔
’اپنی زندگی میں کم از کم ایک بار دیانت داری دکھائیں اور ہمیں عزت کا مقام دیں۔‘
منیرہ مرزا کون ہیں؟
منیرہ مرزا ایک عرصے سے کنزرویٹو پارٹی اور بارس جانسن کے ساتھ کام کرتی رہی ہیں۔ آجکل منیرہ مرزا وزیرِ اعظم کے دفتر میں ڈائریکٹر آف پالیسی ہیں اورجن دنوں بورس جانسن لندن کے میئر تھے، منیرہ مرزا اُن کے ساتھ ڈپٹی میئر کے طور پر کام کر چکی ہیں۔
منیرہ مرزا اولڈہیم شہر میں پیدا ہوئیں جہاں پاکستانی نژاد لوگ بڑی تعداد میں رہتے ہیں۔ وہاں انھوں نے بریز ہل اور اولڈہیم سکول سے تعلیم حاصل کی۔
انھوں نے یونیورسٹی آف آکسفورڈ کے مینز فیلڈ کالج سے انگریزی ادب میں گریجویشن کیا۔ بعد میں سنہ 2009 میں یونیورسٹی آف کینٹ سے سماجیات میں پی ایچ ڈی کیا۔























