محمد بن سلمان: سعودی ولی عہد کی جیکٹ کے سوشل میڈیا پر چرچے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان ان دنوں بالکل ہی مختلف وجوہات کے سبب سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کر رہے ہیں۔
اس ٹرینڈ کی وجہ ایک جیکٹ ہے جو انھوں نے سعودی دارالحکومت ریاض میں ’فارمولا ای‘ ریس کی تقریب کے دوران پہنی تھی۔
محمد بن سلمان نے ایویئٹر سن گلاسز اور سپورٹس شوز کے ساتھ اپنے روایتی سفید لباس پر یہ جیکٹ پہنی اور مشرقِ وسطیٰ اور مغربی طرز کا ایک مرکب پیش کیا۔
یہ جیکٹ جس برطانوی برانڈ کی تھی انھوں نے عربی زبان میں ٹوئٹر پر ایک ہیش ٹيگ شروع کیا جس کا مطلب ’ولی عہد کی جیکٹ‘ تھا۔ اس کے بعد محمد بن سلمان کے اس ’نئے لُک‘ کی سوشل میڈیا پر تعریف و توصیف شروع ہوگئی۔

،تصویر کا ذریعہTwitter/@Badermasaker
ایک صارف نے اس جیکٹ کو آن لائن تلاش کیا اور شہزادہ محمد بن سلمان کی تصویر کے ساتھ لکھا: ’یہ اس کا سب سے بڑا اشتہار ہے۔‘
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک صارف نے لکھا کہ ’یہ جیکٹ تھوڑی ہی دیر میں تمام کی تمام فروخت ہوگئی۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter/@1993_725
کچھ صارفین نے اس جیکٹ کو خریدنے کے سکرین شاٹس بھی شیئر کیے۔
اس سے پہلے بھی محمد بن سلمان اپنے لباس کے لیے بحث کا موضوع رہ چکے ہیں۔
سنہ 2016 میں وہ امریکہ میں فیس بک کے بانی مارک زکربرگ سے ملاقات کے دوران شرٹ، بلیزر اور جینز میں نظر آئے تھے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
جون سنہ 2016 میں اپنے امریکی دورے پر محمد بن سلمان نے پہلے واشنگٹن میں اس وقت کے امریکی صدر براک اوباما اور سینیئر عہدیداروں سے ملاقات کی تھی۔
اس کے بعد انھوں نے مائیکرو سافٹ کے چیف ایگزیکٹیو افسر ستیہ نڈیلا اور فیس بک کے بانی مارک زکربرگ سے بھی ملاقات کی۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
شہزادہ محمد بن سلمان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ امریکہ میں ٹیکنالوجی کے گڑھ سلیکون ویلی کے ساتھ مضبوط رشتوں کے حامی ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان دوروں کا مقصد سعودی عرب کے وژن 2030 کے تحت وہاں ایک ہائی ٹیک سیکٹر کا قیام تھا۔
اس وقت بھی محمد بن سلمان کے مغربی لباس کو بیرونی دنیا تک ان کے ’لبرل‘ پیغام پہنچانے کی کوشش کے طور پر دیکھا گیا تھا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 3
ان کی ایک دوسری تصویر اس وقت بحث کا موضوع بنی جب سعودی عرب میں ایک پہاڑ پر وہ سینیئر وزرا کے ساتھ ٹی شرٹ اور شارٹس میں نظر آئے۔
محمد بن سلمان نے سعودی عرب میں کئی سطحوں پر اصلاح پسند تبدیلیاں کی ہیں۔ ان میں سنیما کھولنے اور محفل موسیقی کے انعقاد کی اجازت کے ساتھ خواتین کی ڈرائیونگ پر پابندی ختم کرنا شامل ہے۔

،تصویر کا ذریعہSAUDI ROYAL PALACE / BANDAR AL-JALOUD
تاہم ان کے کچھ ناقدین ان چیزوں کو ان کی ذاتی مشہوری کے پروگرام کا حصہ سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ شہزادہ محمد بن سلمان ولی عہد بننے کے بعد سے سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبا رہے ہیں۔

























