آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
محمد بن سلمان: سعودی ولی عہد کی جیکٹ کے سوشل میڈیا پر چرچے
سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان ان دنوں بالکل ہی مختلف وجوہات کے سبب سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کر رہے ہیں۔
اس ٹرینڈ کی وجہ ایک جیکٹ ہے جو انھوں نے سعودی دارالحکومت ریاض میں ’فارمولا ای‘ ریس کی تقریب کے دوران پہنی تھی۔
محمد بن سلمان نے ایویئٹر سن گلاسز اور سپورٹس شوز کے ساتھ اپنے روایتی سفید لباس پر یہ جیکٹ پہنی اور مشرقِ وسطیٰ اور مغربی طرز کا ایک مرکب پیش کیا۔
یہ جیکٹ جس برطانوی برانڈ کی تھی انھوں نے عربی زبان میں ٹوئٹر پر ایک ہیش ٹيگ شروع کیا جس کا مطلب ’ولی عہد کی جیکٹ‘ تھا۔ اس کے بعد محمد بن سلمان کے اس ’نئے لُک‘ کی سوشل میڈیا پر تعریف و توصیف شروع ہوگئی۔
ایک صارف نے اس جیکٹ کو آن لائن تلاش کیا اور شہزادہ محمد بن سلمان کی تصویر کے ساتھ لکھا: ’یہ اس کا سب سے بڑا اشتہار ہے۔‘
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک صارف نے لکھا کہ ’یہ جیکٹ تھوڑی ہی دیر میں تمام کی تمام فروخت ہوگئی۔‘
کچھ صارفین نے اس جیکٹ کو خریدنے کے سکرین شاٹس بھی شیئر کیے۔
اس سے پہلے بھی محمد بن سلمان اپنے لباس کے لیے بحث کا موضوع رہ چکے ہیں۔
سنہ 2016 میں وہ امریکہ میں فیس بک کے بانی مارک زکربرگ سے ملاقات کے دوران شرٹ، بلیزر اور جینز میں نظر آئے تھے۔
جون سنہ 2016 میں اپنے امریکی دورے پر محمد بن سلمان نے پہلے واشنگٹن میں اس وقت کے امریکی صدر براک اوباما اور سینیئر عہدیداروں سے ملاقات کی تھی۔
اس کے بعد انھوں نے مائیکرو سافٹ کے چیف ایگزیکٹیو افسر ستیہ نڈیلا اور فیس بک کے بانی مارک زکربرگ سے بھی ملاقات کی۔
شہزادہ محمد بن سلمان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ امریکہ میں ٹیکنالوجی کے گڑھ سلیکون ویلی کے ساتھ مضبوط رشتوں کے حامی ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان دوروں کا مقصد سعودی عرب کے وژن 2030 کے تحت وہاں ایک ہائی ٹیک سیکٹر کا قیام تھا۔
اس وقت بھی محمد بن سلمان کے مغربی لباس کو بیرونی دنیا تک ان کے ’لبرل‘ پیغام پہنچانے کی کوشش کے طور پر دیکھا گیا تھا۔
ان کی ایک دوسری تصویر اس وقت بحث کا موضوع بنی جب سعودی عرب میں ایک پہاڑ پر وہ سینیئر وزرا کے ساتھ ٹی شرٹ اور شارٹس میں نظر آئے۔
محمد بن سلمان نے سعودی عرب میں کئی سطحوں پر اصلاح پسند تبدیلیاں کی ہیں۔ ان میں سنیما کھولنے اور محفل موسیقی کے انعقاد کی اجازت کے ساتھ خواتین کی ڈرائیونگ پر پابندی ختم کرنا شامل ہے۔
تاہم ان کے کچھ ناقدین ان چیزوں کو ان کی ذاتی مشہوری کے پروگرام کا حصہ سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ شہزادہ محمد بن سلمان ولی عہد بننے کے بعد سے سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبا رہے ہیں۔