آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’میں نے سڑک پر رہتے ہوئے اپنے کاروبار کی بنیاد رکھی‘
- مصنف, کیٹی سلور
- عہدہ, بزنس رپورٹر
- وقت اشاعت
فون بکس میں سونے سے لے کر مارشل آرٹس کی تعلیم دینے والے لاکھوں کے کاروبار کی بنیاد رکھنے تک، گیون ایستھم کے لیے یہ دو سال خاصے ہنگامہ خیز رہے۔
گذشتہ برس فروری میں سڑک پر ان کی پہلی رات ہی اولوں کی بارش ہو گئی۔
ان کی 36 سالہ شادی ٹوٹ گئی تھی اور کمر میں چوٹ لگنے کے بعد وہ کام کرنے کے قابل بھی نہیں رہے تھے۔
وہ کہتے ہیں ’چونکہ میں اصل میں نارتھ ویلز سے نہیں ہوں، اس کا مطلب یہ تھا کہ میرے وہاں کوئی جاننے والے نہیں تھے۔ میرے پاس جانے کی کوئی جگہ نہیں تھی۔‘
ان کی سابقہ اہلیہ کا خیال تھا کہ ان کے پاس رہنے کی کوئی اور جگہ ہے لیکن ایسا نہیں تھا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خود کو گرم رکھنے کے لیے پہلے انھوں نے مقامی لائبریری جانے کا فیصلہ کیا۔
انھوں نے بی بی سی کے ’ویک اپ ٹو منی‘ کو بتایا کہ ’میں نے سوچا کہ جس لمحے میں بے گھر ہوں، میں بے گھر نظر آؤں گا۔ اور اگر میں بے گھر نظر آتا ہوں تو لوگ مجھے ایک خاص انداز میں دیکھیں گے۔‘
کچھ دن وہاں گزارنے کے بعد مقامی لائبریرین مشکوک ہوگئی۔ گیون نے انھیں بتایا کہ وہ اپنا کاروبار قائم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں ’میں نے سوچا کہ مجھے مثبت تبدیلی لانے کی ضرورت ہے، مجھے کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔‘
دن کو حکمتِ عملی اور رات شیلٹر میں
وہ زیادہ اہم کام کے لیے بھی لائبریری کا استعمال کر رہے تھے: ’دراصل میں یہ تحقیق کر رہا تھا کہ بے گھر ہو کر کیسے رہنا ہے۔ میں شہر میں رہنے والا لڑکا ہوں اس لیے میں نے تحقیق کی اور سڑکوں پر رہنے کے بارے میں بلاگز اور فورم پڑھے۔ ‘
رات کے وقت وہ پناہ تلاش کرنے پر توجہ دیتے اور دن کے وقت کاروباری حکمت عملی سے متعلق کتابیں پڑھتے تھے۔
’یہ پاگل پن لگتا ہے لیکن میں صرف ایک ہی چیز میں بہتر تھا اور وہ ہے مارشل آرٹس۔ میں اسے اپنا مستقبل محفوظ کرنے کے موقع میں کیسے بدل سکتا ہوں؟‘
انھوں نے تحقیق شروع کی اور ایک کمپنی کا نام اور لوگو بنایا، ایک نصاب لکھا اور 1.58 پاؤنڈز کا ڈومین نام خریدا۔
’میں نے سوچا اگر میرے پاس ڈومین نام آ جائے تو مجھے اس کام کو جاری رکھنا ہو گا۔‘
’میں نے یہ خواب دیکھا تھا جسے شاید ایک دن پورا کر سکوں گا اور یہی چیز مجھے وہ توانائی دے رہی تھی جس کی مجھے ضرورت تھی۔‘
تین ہفتے سڑک پر گزارنے کے بعد وہ عارضی رہائش حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے اور اس کے بعد گذشتہ برس مئی میں انھوں نے ویلز کے علاقے فلنشائر میں اپنا مارشل آرٹس سکول کوبرا لائف لانچ کیا۔
وہ کہتے ہیں اب ان کا ایک ’کامیاب کاروبار ہے جو لاکھوں میں تبدیل ہو رہا ہے۔‘
وہ ایسے مذید مراکز کھولنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور ساتھ ہی ایک کل وقتی انسٹرکٹر کی خدمات حاصل کرنے کے بھی خواہاں ہیں۔ وہ کہتے ہیں’اس سے مجھے فلور سے اتر کر بالکونی میں جانے، حکمت عملی بنانے اور اس کاروبار کو مذید وسعت دینے کا موقع ملے گا۔`
وہ کہتے ہیں کہ مارشل آرٹس کی تعلیم نے انھیں زندہ رہنے کی طاقت دی ہے ’میں بچپن سے ہی یہ ضروری ہنر استعمال کر رہا ہوں۔ حالانکہ وقت مشکل تھا لیکن میں جانتا تھا کہ مجھے اپنے مقاصد پر قائم رہنا اور توجہ مرکوز رکھنی ہے جو درحقیقت میرے خواب تھے۔