سرخ سیب: سرخ رنگ کی کشش ہمیں کیسے ذائقے سے دور لے جا رہی ہے؟

چمکتا ہوا سرخ سیب

،تصویر کا ذریعہPVM

،تصویر کا کیپشنرنگوں کی جینیات سے متعلق معلومات سے پہلے بھی رنگین سیب انسانوں کے لیے بہت کشش رکھتے تھے
وقت اشاعت

انسان نسلوں سے سرخ رنگ کے سیب کا دلدادہ ہے لیکن اب بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اس گلابوں جیسے سرخ رنگت والی لذت کا سحر توڑ سکتے ہیں۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اچھے سیب کی مثال دینی ہو تو ہمارے ذہن میں سرخ سیب ہی آتا ہے۔ پھل کی دکانوں پر کہیں پیلے اور کہیں سبز سیب ہو سکتے ہیں۔ کچھ جگہوں پر آپ کو اس میں بھی ورائٹی ملے گی جہاں دھاری دھار اور رنگ برنگے سیب بھی دکھائی دیں گے جیسے کہ سیبوں کی وہ خوبصورت قسم جسے برطانیہ میں کاکس کہتے ہیں۔

لیکن بچوں کی کتابوں میں جب سیب کی تصویر بنتی ہے تو سرخ یا کبھی کبھی خالص سبز رنگت والے گرینی سمتھ سیب ہی نظر آتے ہیں۔ یہ بات اس لیے دلچسپ ہے کیونکہ سیب کبھی بھی ایک رنگ کے نہیں رہے۔

دور جدید کے سیب کے اجداد قازقستان میں چین کی سرحد پر پہاڑوں کی مغربی ڈھلوانوں پر پائے جانے والے درخت ہیں۔ آج بھی وہاں جنگلی سیب اگتے ہیں اور فضا میں پک کر گرے ہوئے پھلوں کی مہک ہوتی ہے جو جنگل میں گھومتے ریچھوں کی خوراک بنتے ہیں۔

مزید پڑھیے

جنگلی سیبوں کی شرح گذشتہ 50 برسوں میں 90 فیصد تک کم ہو گئی ہے اور اس سب کی ذمہ دار انسانی ترقی ہے اور باقی رہ جانے والے درختوں کا مستقبل بھی غیر یقینی ہے۔

سیبوں کی اقسام میں پیلا، سرخی مائل، کھلتا سبز رنگ بھی ہوتا ہے لیکن عموماً سرخ ان میں زیادہ نمایاں نہیں ہوتا۔

سائنسدانوں کے مطابق سیبوں کی رنگت ان کے چھلکے میں ایک مخصوص جینز کی وجہ سے ہوتی ہے۔

نیوزی لینڈ میں پلانٹ اینڈ فوڈ ریسرچ کے جینیاتی ماہر ڈیوڈ چیگنی وضاحت کرتے ہیں کہ انزائمز کے سیٹ مل کر کام کرتے ہیں اور کچھ خاص مالیکیولز کو رنگت میں بدلتے ہیں جسے اینتھوکیننز کہا جاتا ہے۔ یہ اسی قسم کا مادہ ہے جو جامن، شکر قندی، انگوروں اور آلو بخارے کے رنگوں میں پایا جاتا ہے۔

ان اینزائمز کی مقدار MYB10 نامی پروٹین سے کنٹرول ہوتی ہے اور جتنا زیادہ یہ پروٹین ہو گا عموماً اتنا ہی سرخ سیب کا رنگ ہو گا۔ ایک تحقیق کے مطابق سرخ دھاریوں والے سیبوں کے دھاریوں والے حصے میں اس پروٹین کی شرح سب سے زیادہ تھی۔

مختلف رنگ کے سیب

،تصویر کا ذریعہZhorzh2008

،تصویر کا کیپشنجنگلی سیبوں کی شرح گذشتہ 50 برسوں میں 90 فیصد تک کم ہو گئی ہے اور اس سب کی ذمہ دار انسانی ترقی ہے اور باقی رہ جانے والے درختوں کا مستقبل بھی غیر یقینی ہے

دلچسپ بات یہ ہے کہ سیبوں کا یہ رنگ درجہ حرارت کی وجہ سے بھی ہوتا ہے۔ چینگی کہتے ہیں کہ ایک مکمل سرخ سیب تیار کرنے لیے کے درجہ حرارت کا کم ہونا ضروری ہے کیونکہ اگر یہ 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر جاتا ہے تو سرخ رنگ کے ذمہ دار اجزا کی سطح گر جاتی ہے۔

سپین کے خطے پیرینیز میں انھوں نے اور ان کے ساتھیوں نے دیکھا کے عمومی طور پر سرخ دھاری دھار سیب جولائی کے گرم دنوں میں مکمل طور پر پیلے پڑ جاتے ہیں۔ ان کے خیال میں جب درجہِ حرارت گرم ہو جاتا ہے تو سیبوں کے لیے سرخ ہونا مشکل ہو جاتا ہے۔

وہ اور ان کے ساتھی رنگوں کی اس بائیولوجی کو سمجھتے ہوئے ایشین مارکیٹ کے لیے سرخ سے سرخ سیب اگانا چاہتے ہیں کیونکہ یہاں پر گہرا یاقوتی سرخ رنگ بہت زیادہ مقبول ہے۔

ماحولیاتی تبدیلیوں سے سرخ سیب کو لاحق خطرات کو شاید انھیں اگانے کے گہرے عزم سے کم کیا جا سکتا ہے حتی کہ اگر اس کے لیے کاشت کے مہنگے پروگرام بھی منعقد کرنے پڑیں۔

رنگوں کی جینیات سے متعلق معلومات سے پہلے بھی رنگین سیب انسانوں کے لیے بہت کشش رکھتے تھے۔

مائین کے علاقے پالیرمو سے تعلق رکھنے والے جان بنکر سیب چنتے ہیں اور انھوں نے سیبوں کی کئی اقسام کو جنھیں لوگ بھول گئے ہیں، ناپید ہونے سے بچایا۔ ان میں ایک صدی پہلے اگنے والے لذیذ سیب بھی شامل ہیں مثلاً بلیک آکسفورڈ نامی سیب جس کا گہرا سرخ رنگ دیکھ کر اس پر آلو بخارا ہونے کا شبہ ہوتا ہے۔

جان کہتے ہیں ’یہ رنگ حیرت انگیز ہیں۔ اور میرے خیال میں مجھ سمیت بہت سے لوگوں کے لیے یہی ان کی کشش ہے۔‘

لیکن ابتدا میں جب کسان سیبوں کے لیے درخت کا انتخاب کرتے تھے تو ان کے نزدیک سب سے اہم چیز ذائقہ تھی۔ کچھ سیب میٹھی ڈش میں استعمال ہوتے تھے، کچھ کا سالن بنتا تھا، کچھ سائڈر کے لیے موزوں تھے، کچھ اقسام مربوں اور چٹنیوں کے لیے بہترین تھیں اور کچھ صرف پھل کے طور پر۔ پھل دکھتا کیسا تھا یہ زیادہ اہم نہیں تھا کیونکہ کسان زیادہ تر پھل اپنے ہی علاقے کے لیے اگاتے تھے۔

قازقستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنسیبوں کی بہت سی اقسام کے اجداد کا تعلق قازقستان سے ہے

لیکن یہ سب ایک صدی پہلے بدل گیا جب ہزاروں میل دور کی منڈیاں بھی اہم ہو گئیں۔ بدلے ہوئے ماحول میں جب سیب اور دیگر چیزیں دور دراز کے علاقوں میں فروخت ہونے لگیں تو ان کی شکل اہمیت اختیار کر گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک اور نیا پہلو یہ تھا کہ اب پھل پکنے سے پہلے ہی درخت سے اتارا جانے لگا تاکہ وہ اپنی منزل تک پہنچے سے پہلے خراب نہ ہوں۔

لیکن اس میں ایک مسئلہ تھا کہ رنگ سے سیب کے پکنے کا اندازہ ہوتا ہے۔ وقت سے پہلے درخت سے اترنے والے سیبوں کی رنگت پر کشش نہیں تھی۔ ایسے میں سرخ رنگ اہم ہو گیا۔ سنہ 1921 میں پکنے سے پہلے سرخ رنگ حاصل کرنے والا سیب ’ریڈ ڈلیشس‘ تیار کر کے کسانوں کو باغ میں لگانے کے لیے دیا گیا۔

وہ سیب جو پکنے سے پہلے اچھا رنگ حاصل کر لیتے تھے کاروبار کے لیے اچھے تھے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سیبوں کی اقسام کم ہونے لگیں اور اس کے علاوہ شکل پر زور دیے جانے کی وجہ سے ذائقہ کم اہم ہو گیا۔

یونیورسٹی آف منیسوٹا میں سیبوں پر تحقیق کرنے والے ڈیوڈ بیڈفورڈ نے کہا کہ وہ ’ریڈ ڈلیشس‘ کھاتے ہوئے بڑے ہوئے اس لیے انھیں سیب زیادہ پسند نہیں تھے۔

انھوں نے کہا کہ کالج میں آ کر ان کا سیبوں کی مختلف اقسام سے تعارف ہوا اور انھیں پتہ چلا کہ سیب مزیدار بھی ہو سکتا ہے۔ انھوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر سیبوں کی ’ہنی کرسپ‘ نامی قسم تیار کی جس پر سرخ اور پیلی دھاریاں ہوتی ہیں۔

لیکن اس کے باوجود سرخ رنگ کے سیب کی خواہش سب سے زیادہ ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ انسان کو جب بھی موقع ملا ہے اس نے سرخ رنگ کا ہی انتخاب کیا ہے۔

یہ علم کہ سیبوں کی بہت سی مختلف رنگوں والی اقسام ممکن ہیں، امید پیدا کرتی ہے کہ مستقبل میں ہم زیادہ بہتر ذائقے والے سیب کھا سکیں گے۔ لیکن سیب کا اصل ذائقہ سرخ رنگ کی خواہش پر حاوی آ جائے گا یہ تو وقت ہی بتائے گا۔