احمد شہزاد اور پیٹرسن کی گفتگو مزاح یا تضحیک

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کورونا وائرس کی وبا کے دوران خود ساختہ تنہائی اختیار کیے لوگوں کو انٹرٹینمنٹ فراہم کرنے کے لیے دنیا بھر کے فنکار اور کھلاڑی انسٹاگرام لائیو کر رہے ہیں لیکن انگلینڈ کے سابق بیٹس مین کیون پیٹرسن اور پاکستان کے احمد شہزاد کے انسٹاگرام لائیو سے سوشل میڈیا صارفین کچھ زیادہ محظوظ ہوتے نظر نہیں آئے کیونکہ بہت سے صارفین کے خیال میں پیٹرسن کا رویہ پاکستانی کرکٹ کھلاڑی کے ساتھ تضحیک آمیز تھا۔
کیون پیٹرسن نے گذشتہ روز احمد شہزاد کے ساتھ انسٹاگرام لائیو کیا جس میں انھوں نے ان سے ان کی مسلسل خراب کارکردگی کے بارے میں پوچھا۔
یہ بھی پڑھیے
جب احمد نے انھیں فارم میں نہ ہونے کا جواب دیا تو پیٹرسن نے انھیں کہا کہ وہ انھیں روایتی جواب نہ دیں جو وہ صحافیوں دیتے ہیں اور ان کی موجودہ کارکردگی پر تو انھیں کسی تیسرے درجے کی ٹیم میں تیرواں کھلاڑی ہونا چاہیے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
اس کے علاوہ پیٹرسن احمد شہزاد کے بالوں ہر تبصرہ کرتے بھی نظر آئے اور برطانوی بیٹس مین نے احمد شہزاد سے کہا کہ انھیں اپنے بال کٹوا لینے چاہیے جس کے جواب میں احمد شہزاد کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کی وجہ ہونے والے لاک ڈاؤن کے باعث وہ نائی کی دکان پر نہیں جا سکتے اور خود انھیں بال کاٹنے نہیں آتے۔
پیٹرسن کا اس کے جواب میں کہنا تھا کہ وہ یہ ماننے کو تیار نہیں کہ جو شخص اپنی بھویں بناتا ہو اور منھ پر کریم لگاتا ہو اسے بال کاٹنے نہیں آتے۔
سوشل میڈیا صارفین نے اس لائیو سیشن کی ویڈیوز ٹوئٹر پر اپنے تبصرے کے ساتھ شئیر کیں ۔کچھ کے خیال میں پیٹرسن کا روایہ توہین آمیز تھا تو کچھ نے برطانوی کرکٹر کا یہ کہہ کر دفاع کیا وہ دونوں دوست ہیں اور پیٹرسن صرف مذاق کر رہے تھے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
ایک صارف ندا کا کہنا تھا کہ پیٹرسن کا یہ رویہ ان کے گورے رنگ کی وجہ سے ان کو حاصل استحقاق کے باعث ہے۔
’میں دیکھنا چاہوں گی کہ برصغیر یا افریقہ کے کسی ملک کا کھلاڑی پیٹرسن کی اس طرح بے عزتی کرے اور اسے کچھ نہ کہا جائے۔‘
جبکہ لاویزا نے بھی ندا سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ ہم احمد شہزاد کو کتنا ہی ناپسند کیوں نہ کرتے ہوں لیکن پیٹرسن کے اس رویے کی ہرگز حوصلہ افزائی نہیں کرنی چاہیے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 3
جبکہ کچھ صارفین کے خیال میں احمد شہزاد اس کے مستحق تھے۔
ایک صارف کا کہنا تھا کہ احمد شہزاد کا اپنا رویہ بھی دوسروں کی ساتھ کچھ ایسا ہی ہوتا ہے۔ گذشتہ پی ایس ایل میں انھوں نے جونئیر کھلاڑیوں سے ہاتھ ملانے تک سے انکار کر دیا تھا۔
حسن کا کہنا تھا کہ تمام کرکٹ کے موسمیاتی فینز جو پیٹرسن کے رویہ پر تنقید کر رہے ہیں انھیں احمد شہزاد کے فیلڈ اور اس سے باہر کرئیر پر معلومات حاصل کرنی چاہیے۔
’یہ کسی اور کے ساتھ ہوا ہوتا تو یہ تضحیک آمیز ضرور ہوتا لیکن احمد شہزاد کے ساتھ نہیں۔‘
جبکہ کچھ صارفین نے دونوں ہی کرکٹرز کو ایک جیسی شخصیت کا مالک ٹھرایا ۔ ایک صارف کا کہنا تھا کہ ’پیٹرسن گوروں کے احمد شہزاد ہیں اور اس کو بھی انھیں حرکتوں کی وجہ سے ٹیم سے نکالا گیا تھا۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 4
جبکہ ایک صارف نے احمد شہزاد کی غلطی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے پی ایس ایل کی جگہ آئی پی آیل میں اپنی کارکردگی کی بات کی اس لیے ان کے ساتھ جو ہوا وہ ٹھیک تھا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 5























