بین سٹوکس کے لیے ایک اور اعزاز، نیوزی لینڈ کے شہریوں نے انھیں بہترین کیوی کے ایوارڈ کے لیے نامزد کر دیا

بین سٹوکس کو اب بھی بہت سے نیوزی لینڈر ’اپنا‘ ہی سمجھتے ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنبین سٹوکس کو اب بھی بہت سے نیوزی لینڈر 'اپنا' ہی سمجھتے ہیں
وقت اشاعت

کرکٹ ورلڈ کپ 2019 کے فائنل میں مین آف دی میچ قرار دیے جانے والے انگلینڈ کے کرکٹر بین سٹوکس کو نیوزی لینڈ کے باشندوں نے سال کے بہترین نیوزی لینڈر کے طور پر بھی نامزد کیا ہے۔

بہت سوں کو حیرت تو ضرور ہو گی کہ نیوزی لینڈ کو ہرا کر ان کا دل توڑنے والے کو ہی بہترین نیوزی لینڈر کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ 28 سالہ بین سٹوکس نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں پیدا ہوئے تھے اور 12 سال کی عمر میں اپنے والدین کے ہمراہ انگلینڈ آ گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیئے

بہترین نیوزی لینڈر کے ایوارڈ کے جج نے ان کی نامزدگی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ انھوں نے کیویز کے دل توڑے ہیں، لیکن ابھی بھی کئی نیوزی لینڈر ہیں جو سمجھتے ہیں کہ وہ ان میں سے ہی ہیں۔

آل راؤنڈر بین سٹوکس نے گذشتہ اتوار کو ہونے والے ڈرامائی فائنل مقابلے میں نیوزی لینڈ کو ہرانے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا اور پہلے بڑا سکور کرنے کے بعد میچ ٹائی کیا اور اس کے بعد سوپر اوور کو بھی ٹائی کروا کے باؤنڈریز پر انگلینڈ کو میچ جتوا دیا۔

بین سٹوکس

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنورلڈ کپ کے بعد بین سٹوکس کی مقبولیت میں اور بھی اضافہ ہوا ہے

ایوارڈز کے چیف جج کیمرون بینٹ نے کہا کہ ’اگرچہ وہ بلیک کیپس کے لیے نہیں کھیل رہے لیکن کرائسٹ چرچ میں پیدا ہونے کے حوالے سے، جہاں ماؤری وراثت سے تعلق رکھنے والے ان کے والدین اب بھی رہتے ہیں، واضح طور پر کچھ کیوی سمجھتے ہیں ہم ان پر دعویٰ کر سکتے ہیں۔‘

نیوزی لینڈ کے عوام ہر سال لوگوں کو ’انسپیریشنل (متاثر کن) کیوز‘ کے ایوارڈ کے لیے نامزد کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو عوام سمجھتے ہیں کہ انھوں نے ملک کے لیے خاطر خواہ کام کیا ہے جس سے ملک کا نام بلند ہوا ہے۔

سٹوکس کے علاوہ ٹورنامنٹ میں پلیئر آف دی ورلڈ کپ کا اعزاز پانے والے نیوزی لینڈ کے کپتان کین ولیمسن بھی نامزد کیے گئے ہیں جو کہ سٹوکس کے لیے ایک مرتبہ پھر ایک مضبوط حریف کے طور پر سامنے آ سکتے ہیں۔

گیارہ سال سے جاری اس ایوارڈ کے پہلے جیتنے والوں میں نیوزی لینڈ کے رگبی یونین کے کپتان رچی مککاؤ، فلم میکر تائکا وتیتی اور دماغی صحت کے لیے کام کرنے والے مائیک کنگ شامل ہیں۔

نامزدگیاں ستمبر میں بند ہو جائیں گی اور اس کے بعد جج دسمبر میں 10 افراد کی شارٹ لسٹ کا اعلان کریں گے۔

حتمی فاتح کا اعلان اگلے سال فروری میں ایک تقریب میں کیا جائے گا۔