20 برسوں میں پہلی بار شمالی امریکہ میں ایک نئے گوشت خور پودے کی دریافت

یہ پھول اپنی ٹہنیوں سے شکار کرتا ہے

،تصویر کا ذریعہDR. QIANSHI LIN

،تصویر کا کیپشنیہ پھول اپنی ٹہنیوں سے شکار کرتا ہے
وقت اشاعت

سائنسدانوں نے شمالی امریکہ میں ایک نیا گوشت خور پودا دریافت کیا ہے۔

ماہرین نباتات کو پتا چلا ہے کہ یہ خوبصورت سفید پھول اپنے شکار کو اپنے تنے کے ذریعے پکڑتا ہے جس پر ایک قسم کا چپچپا یا گوند کی طرح کا مادہ ہوتا ہے جو ان پر بیٹھنے والے کیڑوں کر جکڑ لیتا ہے۔

چھوٹے کیڑوں کو پھنسانے والے اس پودے کا سائنسی نام 'ٹرائنٹا آکسیڈنٹلس' (Trianta oxidentalis) ہے اور گذشتہ 20 سالوں میں پہچانے جانے والا یہ پہلا گوشت خور پودا ہے۔

لکیر

گوشت خور پودا کیا ہے؟

  • گوشت خور پودے دوسرے جانوروں کو اپنی جانب پھنسانے اور غذا حاصل کےلیے راغب کرتے ہیں۔
  • گوشت خور پودوں کی تقریبا 630 اقسام ہیں۔
  • زیادہ تر گوشت خور پودے کیڑے مکوڑوں کو کھاتے ہیں، لیکن ان پودوں کی بڑی نسلیں رینگنے والے جانوروں اور چھوٹے میملز کا شکار بھی کرتی ہیں۔
  • وینس فلائی کیچر مشہور ترین گوشت خور پودوں کی ایک نسل ہے۔ جب شکار اس کے پتوں کے درمیان آ جاتا ہے تو پتے از خود بند ہو جاتے ہیں۔
لکیر

کیلیفورنیا سے الاسکا تک شمالی امریکہ کے مغربی ساحل کے دلدل والے علاقوں میں گوشت خور پودے پائے جاتے ہیں۔ عام طور پر یہ ان علاقوں کے شہروں میں بھی پائے جاتے ہیں۔

محققین کا خیال ہے کہ بہت سارے گوشت خور پودوں کو ابھی تک دریافت نہیں کیا جا سکا ہے۔

پودا

،تصویر کا ذریعہDANILO LIMA

،تصویر کا کیپشنٹرائنٹا آکسیڈنٹلس پہلا گوشت خور پودا ہے جس کی نشاندہی گذشتہ 20 سالوں میں نباتیات کے ماہرین نے کی ہے

پودوں کے محققین میں سے ایک ڈاکٹر شان گراہم نے کہا: 'گوشت خور پودے وکٹورین دور کے بعد سے موجود ہیں۔ یہ دیکھ کر ہم حیران ہیں کہ امریکہ کے مغربی ساحل پر پایا جانے والا یہ پودا جانداروں کو کھاتا ہے۔'

اس تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر کوانگشی لین نے کہا: 'اس گوشت خور پودے کی منفرد خصوصیت یہ ہے کہ یہ اپنے پھولوں کے قریب تنوں پر کیڑوں کو پھنساتا ہے جو کہ پھولوں کی تخم کاری کرنے وہاں آتے ہیں۔'

انھوں نے کہا: 'ایسا لگتا ہے کہ یہ گوشت خور پودے اور زیرہ کرنے والے کیڑوں کے مابین ایک جدوجہد ہے کیونکہ پودا ان کیڑوں کو نہیں مارنا چاہتا جو اسے دوبارہ پیدا کرنے میں مدد دیتے ہیں۔'

یہ بھی پڑھیے

محققین نے پایا کہ اگرچہ تنوں پر بہت سے کیڑے چپک جاتے ہیں، لیکن تازہ دریافت ہونے والا پودا صرف مچھروں اور بہت چھوٹے کیڑوں کو پھنساتے ہیں۔

شہد کی بڑی مکھیاں اور تتلیاں ان میں نہیں پھنستیں اور وہ ایک پھول سے دوسرے پھول تک جا سکتی ہیں اور بغیر کسی نقصان کے زیرہ ڈال سکتی ہیں۔