انسٹاگرام پر غذائی عارضے کی شکار لڑکی کی تصاویر سے وزن کم کرنے کی ترغیب

،تصویر کا ذریعہKARA HENRY
- مصنف, ٹام گرکن
- عہدہ, بی بی سی نیوز، واشنگٹن
- وقت اشاعت
کئی انسٹاگرام اکاؤنٹس وزن میں کمی کی ترغیب دینے کے لیے غذائی عارضے سے بحال ہونے والی ایک لڑکی کی تصاویر استعمال کر رہے ہیں۔
بی بی سی نے ایسے 30 سے زیادہ اکاؤنٹس دیکھے ہیں جنھوں نے یہ تصاویر استعمال کی ہیں اور ان میں سے چند کے 10 لاکھ سے زائد فالوورز بھی ہیں۔
یہ تصاویر کارا ہینری نے لی تھیں جس میں انھوں نے غذائی عارضے سے بحالی کے اپنے سفر کو دستاویزی شکل دی تھی جب ان کا وزن 25 کلو سے بھی کم تھا۔
ان کی تصاویر ان کی اجازت کے بغیر ان دعوؤں کے ساتھ شیئر کی گئیں کہ یہ کامیابی سے وزن کم کرنے کی کہانی ہے۔
کارا کی تصاویر استعمال کرنے والے ان اکاؤنٹس کو وزٹ کرنے والے افراد کو 'بائیو میں موجود لنک پر کلک' کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے تاکہ وہ تصویر میں نظر آنے والے نتائج کے حصول کے لیے وزن کم کرنے کا یا ڈائٹ پلان خریدیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انسٹاگرام سے جب اس حوالے سے تبصرے کی درخواست کی گئی تو انھوں نے جواب نہیں دیا۔
کارا نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کا اندازہ ہے کہ گذشتہ تین ماہ میں ان کی تصاویر تقریباً 100 مرتبہ اپ لوڈ کی جا چکی ہیں مگر اس کے باوجود وہ انھیں ہٹوا نہیں سکی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’یہ بالکل میرے کنٹرول سے باہر ہے۔ میری ایک تصویر غیر مناسب انداز میں بالکل سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کی جا رہی ہے۔'
'اسے اس انداز میں شائع کیا جا رہا ہے جیسے میں 27 کلو کے صحتمند وزن کی حامل ہوں، اور اس کے ساتھ ڈائٹ پلان کا اشتہار بھی دیا جا رہا ہے۔ یہ نہایت پریشان کُن ہے۔‘
’میں اسے رپورٹ کرتی رہتی ہوں اور بہتر کی امید میں ہوں۔ میرے کئی جاننے والے بھی ان اکاؤنٹس کو رپورٹ کر رہے ہیں مگر اب بھی بظاہر انسٹاگرام کی جانب سے کوئی ایکشن نہیں لیا گیا ہے۔‘
جب سے بی بی سی نے ان تصاویر کے متعلق انسٹاگرام سے رابطہ کیا ہے، تب سے کئی اشتعال انگیز پوسٹس ہٹا دی گئی ہیں مگر کئی پوسٹس اب بھی موجود ہیں۔
ایسی ہی ایک پوسٹ جو 6 جنوری 2020 کو اپ لوڈ کی گئی اور اب تک نہیں ہٹائی گئی، اس میں تصاویر کو 14 ہزار سے زائد مرتبہ لائک کیا جا چکا ہے اور اس کے ساتھ وزن کم کرنے سے متعلق ہیش ٹیگز بھی استعمال کیے جا رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہkara henry/instagram
کارا کے مطابق ایک تصویر میں تو وہ غذائی قلت کی شکار لگ رہی ہیں اور انھوں نے کہا کہ ان تصاویر کا مقصد لوگوں کو اپنی جدوجہد سے آگاہ کرنا تھا۔
وہ کہتی ہیں کہ ’جب میں نے یہ تصاویر پوسٹ کیں تو میں اپنی بحالی کی سفر میں ایک مختلف مقام پر تھی۔ اب جبکہ میں اس سے آگے آ گئی ہوں، تو مجھے نہیں لگتا کہ یہ تصویر کسی اچھے پیغام کے ساتھ پوسٹ کرنے پر بھی مناسب ہوگی۔‘
’مجھے فکر ہے کہ اس سے لوگوں کو محسوس ہوگا کہ ان کی نفی کی جا رہی ہے کیونکہ ان کو لاحق غذائی عارضہ کسی مخصوص انداز میں نظر نہیں آتا۔ یہ بہت بڑی غلط فہمی ہے کہ غذائی عارضے صرف وہ ہوتے ہیں جو آپ کو بالکل کمزور کر دیں۔‘
غذائی عارضے کی علامات کیا ہیں؟
فلاحی ادارے 'بیٹ' کے مطابق غذائی عارضے کی مندرجہ ذیل علامات ہیں جن پر نظر رکھنی چاہیے
- کھانے کے بارے میں بے تاب ہو جانا
- رویے میں تبدیلی
- اپنی جسامت کے بارے میں عجیب و غریب خیالات
- اکثر تھکاوٹ یا توجہ مرکوز کرنے میں مشکلات
- کھانوں کے بعد ٹوائلٹ میں بیٹھے رہنا
- بہت زیادہ ورزش کرنے لگ جانا
اگر آپ کو بھی غذائی عارضہ ہے تو بی بی سی ایکشن لائن پر مدد کے لیے رابطہ کر سکتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہInstagram
وہ کہتی ہیں کہ 'کم از کم میرا دیا گیا کیپشن درست اور فخریہ انداز میں اس سنسنی خیز بنا دی گئی تصویر کے پیچھے موجود حقیقی کہانی بتاتا ہے۔ یہ بحالی، محنت اور ذاتی ترقی کی ایک کہانی ہے۔'
انسٹاگرام میں ٹوئٹر کی طرح ریٹویٹ کا فیچر نہیں ہے جس کا مطلب ہے کہ انسٹاگرام پر موجود لوگوں کو کسی دوسرے صارف کی تصاویر کو دوبارہ اپ لوڈ کر کے پہلے اپ لوڈ کی گئی تصویر پر لنک دینا پڑتا ہے۔
اس کا نقصان یہ ہے کہ جب بھی تصویر انسٹاگرام پر اپ لوڈ کی جاتی ہے تو کارا کو نوٹیفیکیشن ملتا ہے کہ انھیں تصویر میں ٹیگ کیا گیا ہے۔
جب سے بی بی سی نے اس مضمون کے لیے کارا کا انٹرویو کیا ہے، تب سے یہ تصویر ان کی اجازت کے بغیر دوبارہ اپ لوڈ کی جا چکی ہے۔
























