یو سی سی: انڈیا میں سب کے لیے یونیفارم سول کوڈ کے مسئلے پر بڑھتا ہوا طوفان

انڈین مسلم خواتین

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنانڈیا میں سب کے لیے ایک ہی سوِل کوڈ ہونے کے بارے میں رائے عامہ منقسم ہے
    • مصنف, سوتِک بِسواس
    • عہدہ, نامہ نگار برائے انڈیا
  • وقت اشاعت

انڈیا میں اس وقت مختلف مذہبی اکائیوں کے لیے شادی، طلاق، وراثت اور بچوں کو گود لینے جیسے معاملات کے بارے میں مختلف قوانین رائج ہیں جن کا اطلاق کسی شہری کے مذہب اور عقیدے کے مطابق کیا جاتا ہے۔

تاہم آزادی کے بعد سے تمام شہریوں کے لیے ایک یونیفارم سوِل کوڈ (یو سی سی) یعنی یکساں عائلی قانون متعارف کروانے کی بحث چلی آ رہی ہے، ایک ایسا قانون جو بوقت ضرورت بنا لحاظِ مذہب، جنس اور جنسی میلان تمام شہریوں پر ایک ہی طرح لاگو کیا جا سکے۔ حتیٰ کہ ملکی آئین میں بھی کہا گیا ہے کہ ریاست کو ایسا قانون بنانے کی ’کوشش‘ کرنی چاہیے۔

مگر ایسے یکساں قانون کی مخالفت ہندو اکثریت اور سب سے بڑی مسلم اقلیت دونوں ہی کی جانب سے سامنے آئی ہے اور سپریم کورٹ کے الفاظ میں یہ ایک ’ڈیڈ لیٹر‘ یعنی ایسا مسئلہ ہے جو سرد خانے میں ڈال دیا گیا ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی کی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اس معاملے کو پھر سے اٹھا رہی ہے۔ اتر پردیش، ہماچل پردیش اور مدھیہ پردیش، جہاں بی جے پی کی حکومتیں ہیں، یو سی سی یا یونیفارم سوِل کوڈ کی بات زور شور سے کر رہی ہیں۔

یو سی سی بھارتیہ جنتا پارٹی کے بنیادی انتخابی منشور کا بالکل اسی طرح سے حصہ رہا ہے جیسا کہ ایودھیا کی متنازع جگہ پر مندر کا قیام اور کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ۔ اب جب کہ مندر زیر تعمیر ہے، اور انڈیا کے زیر انتظیم کشمیر کو مخصوص خود مختاری سے محروم کیا جا چکا ہے تو توجہ یو سی سی پر منتقل ہو گئی ہے۔

دائیں بازو کا ہندو بیانیہ ایک مشترکہ عائلی قانون کے خیال کی ترویج میں پیش پیش ہے جس کے نزدیک مسلم عائلی قوانین ’رجعت پسندانہ‘ ہیں، اور سخت گیر ہندو اپنی بات کی تائید میں ایک ہی وقت میں تین طلاق کے مسئلے کو دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

مودی حکومت نے ایک ساتھ تین طلاق دینے کو 2019 میں جرم قرار دے دیا تھا۔ بی جے پی کا منشور کہتا ہے کہ ’انڈیا میں اس وقت تک برابری قائم نہیں ہو سکتی جب تک یہاں یونیفارم سوِل کوڈ نافذ نہیں ہو جاتا۔‘

مگر سیاسی تجزیہ کار عاصم علی کی نظر میں ’حقیقت اس سے کہیں زیادہ پچیدہ ہے۔‘

India marriage

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنانڈیا میں مختلف مذہبی اکائیوں کے لیے الگ الگ عائلی قوانین رائج ہیں

با الفاظ دیگر یو سی سی ہندو اکثریت کے لیے بھی، بی جے پی جس کی نمائندگی کا دعویٰ کرتی ہے، مسائل کا طوفان کھڑا کر دے گا۔ عاصم علی کے مطابق ’یو سی سی ہندوؤں اور مسلمانوں کی سماجی زندگی میں خلل ڈال دے گا۔‘

انڈیا جیسے متنوع اور بڑے ملک کے اندر عائلی قوانین میں ایک ہی سانچے میں ڈھالنا نہایت مشکل ہے۔

مثلاً ہندو عائلی قوانین کے ایک مجموعے پر عمل درآمد کرتے ہیں، مگر ساتھ ہی مختلف ریاستوں کے اندر مختلف برادریوں کے رواجوں کو بھی تسلیم کیا جاتا ہے۔ اسی طرح سے مسلمانوں کے عائلی قوانین بھی مکمل طور پر یکساں نہیں ہیں، مثلاً کچھ سنّی بوہری وراثت کے معاملے میں ہندو قانون کے اصولوں سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔

پھر جائیدار اور وراثت کے معاملے میں مختلف ریاستوں کے قوانین بھی الگ الگ ہیں۔ شمال مشرق میں مسیحی اکثریت والی ریاستوں ناگالینڈ اور میزورام کے اپنے قوانین ہیں جو مذہب کے بجائے مقامی رسم و رواج کے تابع ہیں۔ گووا میں 1867 کا مشترکہ سوِل لاء ہے جس کا اطلاق تمام برادریوں پر ہوتا ہے مگر ساتھ ہی کیتھولِک اور دوسرے فرقوں کے لیے علیحدہ سے بھی ضابطے ہیں جن میں ہندوؤں کے لیے بائیگیمی (ایک ہی وقت میں دو شادیوں) کا تحفظ بھی شامل ہے۔

عائلی قوانین کے موضوع سے مرکز اور ریاستوں دونوں ہی کو دلچسپی ہے۔ اسی لیے ریاستیں 1970 کی دہائی سے اپنے اپنے قوانین بناتی رہی ہیں۔ موروثی جائیداد میں بیٹیوں کو بیٹوں کے برابر حصہ دینے کے لیے سنہ 2005 میں وفاقی سطح کے ہندو عائلی قانون کے نفاذ سے بہت پہلے کم سے کم پانچ ریاستوں نے اس سلسلے میں اپنے قوانین میں تبدیلیاں کی تھیں۔

بی جے پی کی خواتین راہنما

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنبی جے پی کی خواتین راہنما نومبر 2016 میں یونیفارم سوِل کوڈ کی حمایت میں مظاہرہ کرتے ہوئے

ذرا غور کیجیے کہ عائلی قوانین مختلف معاملات کو کس طرح دیکھتے ہیں۔

اڈاپشن یعنی گود لینے (منہ بولی اولاد) کو ہی لیں۔ ہندو رواج کے مطابق کسی کو گود لیتے وقت سیکولر اور مذہبی دونوں پہلوؤں کو پیش نظر رکھا جاتا تھا یعنی ایک مرد وارث ہو جو وراثت کا حقدار بنے اور والدین کی آخری رسومات کو پورا بھی پورا کر سکے۔

اس کے برعکس اسلامی عائلی قوانین لے پالک یا منہ بولی اولاد کے حق کو تسلیم نہیں کرتے۔ مگر انڈیا میں ’جووینائل جسٹس‘ کے عنوان سے ایک قانون موجود ہے جو شہریوں کو بنا لحاظ مذہب بچوں کو گود لینے کا حق دیتا ہے۔

ماہرین اس بارے میں حیران ہیں کہ ایک مشترکہ قانون کی تشکیل کے لیے وہ کون سے غیر جانبدار اصول ہیں جنھیں اختیار کرکے قانون سازی کی جائے۔

بینگلور میں قانون سازی سے متعلق ایک خود مختار مشاورتی گروپ، وِدھی سینٹر فار لیگل پالیسی سے وابستہ الوک پراسانا پوچھتے ہیں کہ ’آپ کن اصولوں کو اختیار کریں گے، ہندو، مسلم یا کرِسچن؟‘

ان کا کہنا ہے کہ یو سی سی کو چند بنیادی سوالوں کے جواب سامنے رکھنے ہوں گے: شادی اور طلاق کا معیارِ اصول کیا ہوگا؟ گود لینے کا طریقہ کار اور اس کے نتائج کیا ہوں گے؟ طلاق کی صورت میں نان نفقہ کا حق اور دولت کی تقسیم کا تعین کیسے ہوگا؟ اور وراثت کی تقسیم کن اصولوں کی بنیاد پر ہو گی؟

عاصم علی کے نزدیک اس معاملے کا ایک اور پہلو سیاسی ہے جس کی وجہ سے ایسی کسی کوشش کو دھچکا لگ سکتا ہے۔ بی جے پی کی حکومت ایسا کوئی یکساں قانون کیسے بنا پائے گی جس کے تحت مختلف مذاہب اور برادریوں کے افراد بلا روک ٹوک ایک دوسرے سے شادی کر سکیں، خاص طور سے ان حالات میں کہ جب وہ مختلف عقائد کے ماننے والوں کے درمیان شادیوں کو روکنے کے لیے بڑے جوش و خروش سے اینٹی کنورژن یعنی تبدیلئ مذہب کو روکنے والے قوانین کی حمایت کرتی ہے۔

عاصم علی کو خدشہ ہے کہ کہیں بی جے پی مقامی ’رسم و رواج میں مداخلت‘ کیے بغیر چھوٹی ریاستوں کے اندر قوانین متعارف کروانے کی منصوبہ بندی تو نہیں کر رہی ہے۔

مسلم خواتین

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنبہت سی مسلمان عورتوں نے ’تین طلاق‘ کو ضابطۂ فوجداری کے تحت جرم قرار دینے کے مسودۂ قانون کا خیرمقدم کیا تھا

یو سی سی کے معاملے میں سپریم کورٹ بھی ابہام کا شکار نظر آتی ہے۔ پچھلی چار دہائی کے دوران وہ اپنے مختلف فیصلوں میں حکومت کو ’قومی سالمیت کی خاطر‘ ایک مشترکہ سوِل کوڈ یعنی سب کے لیے عائلی قوانین کا ایک ہی ضابطۂ قانون نافذ کرنے کی ترغیب دیتی رہی ہے۔ حکومت کو قانونی اصلاحات سے متعلق مشورے دینے والے لا کمیشن نے 2018 میں کہا تھا کہ ایسا کوئی ضابطۂ قانون نہ تو ضروری ہے اور نہ ہی مناسب۔

ظاہر ہے کہ یو سی سی ہر مسئلے کا حل نہیں ہے۔ الوک کمار کہتے ہیں کہ ’یکسانیت کسی قانون کی قدر میں اضافہ ہی نہیں کرتی کسی بڑی قدر کو تو بھول ہی جائیں۔ ایک اچھا قانون وہ ہوتا ہے جو عدل پر مبنی، واضح اور آئینی ہو۔‘

ماہرین کہتے ہیں کہ عائلی قوانین کے اندر موجود صنفی یا جینڈر عدم مساوات (نا برابری) کو دور کرنے کے لیے ان میں تبدیلیاں کی جائیں نہ کہ ایک مشترکہ قانون بنانے پر زور دیا جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تمام عائلی قوانین کی اچھی باتوں کو اپنا لیا جائے۔

عاصم علی کا خیال ہے کہ بی جے پی کی حکومت والی ریاستیں یو سی سی کے لیے زور اس وجہ سے نہیں لگا رہیں کہ یہ وہاں پر مقبول ہے یا اس کی وجہ سے زیادہ ووٹ ملتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’بلکہ اس کا مقصد زیادہ سے زیادہ سیاسی سرمایہ جمع کرنا، اور بی جے پی کے ڈھانچے کے اندر ہندو نظریے سے اپنی وابستگی کا مسلسل اعادہ کرنا ہے۔‘

کئی لوگ اس بات پر حیران ہیں کہ کئی ریاستوں کے اندر طویل عرصے سے اقتدار میں رہنے کے باوجود بی جے پی وہاں ایسا ضابطۂ قانون کیوں متعارف نہیں کروا سکی ہے۔

عام انتخابات میں دو سال رہ گئے ہیں، تو ایک پارٹی اب سمجھتی ہے کہ اپنے منشور کے اس مقصد کو پورا کرنے کا وقت آ چکا ہے؟ آلوک کمار کا کہنا ہے کہ ’فی الحال یو سی سی بس نعرے بازی کی حد تک ہے، اور سیاسی طور پر اس پر بحث بھی شروع نہیں ہوئی۔ مجھے مجوزہ قانون کا کوئی مسودہ تو دکھائیں؟‘