انڈین ریاست اتردیش کے اسمبلی انتخابات: 'ہم مسلمانوں کو قربانی کے بکرے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے'

تاج محل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشناترپردیش میں مسلمانوں کی آبادی چار کروڑ یعنی ریاست کی آبادی کا 20 فیصد ہے
    • مصنف, گیتا پانڈے
    • عہدہ, بی بی سی نیوز، دلی
  • وقت اشاعت

انڈیا کی شمالی ریاست اترپردیش کے مندروں والے شہر متھرا میں گذشتہ سال اگست کے وسط میں ایک ہندو گروہ نے تین مسلمان بھائیوں کے ایک مشہور فوڈ سٹال پر حملہ کیا تھا۔

شری ناتھ ڈوسا کارنر چلانے والے بھائیوں میں سے ایک عابد نے بتایا کہ ان افراد نے ان پر ہندو دیوتا کے نام پر منافع کمانے کا الزام لگایا اور ان کے پوسٹرز اور سائن بورڈ پھاڑ ڈالے۔

عابد نے بتایا 'انھوں نے کہا کہ ہندو یہاں کھاتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ تم ہندو ہو۔'

عابد کا فوڈ سٹال ایک الیکٹرانک سامان فروخت کرنے والے بازار میں واقع ہے جو ہندو دیوتا کرشن کے لیے وقف ایک مندر سے صرف چند کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ شری ناتھ ان کا (کرشن کا) دوسرا نام ہے اور عقیدت مند متھرا کو کرشن کے پیدائش کی سرزمین مانتے ہیں۔

مندر کے قریب کھانے کے ہر سٹال کا نام دیوی دیوتا کے نام پر ہے، سوائے عابد کے ریستوراں کے جسے اب ’امریکن ڈوسا کارنر‘ کہا جاتا ہے۔

حملے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد عابد نے پولیس میں شکایت درج کرائی۔ ان کی شکایت کے بعد توڑ پھوڑ کرنے والوں میں سے ایک کو گرفتار کر لیا گیا۔

لیکن ایک مقامی صحافی بتاتے ہیں کہ چھ ماہ بعد، عابد اس معاملے کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں 'کیونکہ وہ مزید کوئی پریشانی نہیں چاہتے۔'

سنہ 2014 میں وزیر اعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے انڈیا میں اقتدار میں آنے کے بعد سے اتر پردیش (یو پی) مسلمانوں کے خلاف پرتشدد جرائم کی وجہ سے سرخیوں میں رہا ہے۔ مرکز میں اقتدار میں آنے کے تین سال بعد بی جے پی نے ریاست میں بھی بھاری اکثریت حاصل کر لی تھی۔

بی جے پی نے یوگی آدتیہ ناتھ کو وزیر اعلیٰ مقرر کیا، جو بھگوا پوش ہندو سادھو سے سیاست دان بنے ہیں اور اپنے مسلم مخالف موقف کے لیے مشہور ہیں۔

عابد کا ریستوراں
،تصویر کا کیپشنعابد نے اب اپنے فوڈ سٹال کا نام امریکن ڈوسا کارنر رکھ لیا ہے

جیت کے چند ہی دنوں کے اندر یو پی کے ایک گاؤں میں ایسے پوسٹرز لگائے گئے جن میں مسلمانوں کو وہاں سے نکل جانے کے لیے کہا گیا تھا۔ یہ ان پہلی ریاستوں میں سے ایک ہے جہاں زبردستی تبدیلی مذہب کے خلاف قانون منظور کیا گیا۔ اس قانون کو ہندو خواتین کے ساتھ تعلقات رکھنے والے مسلمان مردوں کو ہراساں کرنے اور جیل بھیجنے کے لیے معمول کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ شہریت کے متنازع قانون کے خلاف احتجاج کرنے والے مسلمانوں کو مارا پیٹا جاتا رہا اور ان کی جائیدادیں ضبط کی جاتی رہیں یہاں تک کہ سپریم کورٹ نے اسے غیر قانونی قرار دے دیا۔ جبکہ وبائی مرض کے دوران، بی جے پی کے رہنماؤں نے مسلمان مردوں پر 'کورونا جہاد' یا ایسے مبینہ رویے کا الزام لگایا کہ جس سے وائرس پھیلتا ہے۔

اس طرح کا اور اس سے کہیں زیادہ روز بروز کا امتیازی سلوک مسلمانوں کو پسماندہ کر رہا ہے۔ ریاست میں مسلمانوں کی تعداد چار کروڑ یعنی ریاست کی آبادی کا تقریباً 20 فیصد ہے۔ اب جبکہ ریاست میں ایک نئی حکومت کو منتخب کرنے کے لیے ووٹ ڈالے جا رہے ہیں تو مسلم برادری کے بہت سے اراکین نے بی بی سی کو بتایا کہ بی جے پی کی ہندو قوم پرست حکومت کے تحت، وہ اپنے ہی ملک میں 'دوسرے درجے کے شہری' بن چکے ہیں۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں دینیات کے ریٹائرڈ پروفیسر مفتی زاہد علی خان کا کہنا ہے کہ آدتیہ ناتھ 'کسی بی جے پی سیاستدان کی طرح برتاؤ کرتے ہیں، نہ کہ کسی سرکاری عہدیدار کے طور پر۔

'جب سے وہ اقتدار میں آئے ہیں، مسلمان خوف میں زندگی گزار رہے ہیں۔ جب بھی ہمارے بچے باہر جاتے ہیں، ہماری خواتین ان کی بحفاظت واپسی کے لیے دعا کرتی ہیں۔'

ریاست میں ایم ایل اے اور بی جے پی کے نائب صدر وجے پاٹھک نے کہا کہ 'یہ درست نہیں ہے کہ یوپی میں مسلمان احساس کمتری کا شکار ہیں۔'

انھوں نے کہا کہ 'حکومت ذات پات یا مذہب کی بنیاد پر امتیاز نہیں کرتی۔ مسلمان ان انتخابات میں ہمیں بڑی تعداد میں ووٹ دیں گے۔'

لیکن ناقدین یوگی اور ان کی پارٹی کے کئی رہنماؤں کے حالیہ اقلیت مخالف بیانات کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

ریاست کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ اپنے مسلم مخالف بیان کے لیے مشہور ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنریاست کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ اپنے مسلم مخالف بیانات کے لیے مشہور ہیں

بی جے پی کے ایک قانون ساز نے کہا کہ اگر دوبارہ منتخب ہو گئے تو وہ 'اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ مسلمان ٹوپیاں پہننا بند کر دیں اور ہندوؤں کی طرح صندل کے ٹیکے لگانا شروع کر دیں۔ جبکہ گذشتہ ماہ بہت سے ہندو مذہبی رہنماؤں نے مساجد اور مسلم علما پر حملوں کی اپیل کی تھی۔

علی گڑھ میں حزب اختلاف کی سماج وادی پارٹی کے سابق رکن اسمبلی ضمیر اللہ خان کا کہنا ہے کہ 'ہم ہندوؤں کے ساتھ کام کرتے ہیں، ہم ان کے ساتھ تجارت کرتے ہیں، ہم ایک دوسرے کے ہاں ہونے والی شادیوں میں شرکت کرتے ہیں'، لیکن ان دنوں 'نفرت کی سیاست عروج پر ہے' اور جب بھی انتخابات قریب ہوتے ہیں تو اس میں مزید شدت آ جاتی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ 'ہم قربانی کے بکرے ہیں، ہمیں کھلایا جاتا ہے اور موٹا کیا جاتا ہے اور پھر پارٹی کے مفاد میں ذبح کر دیا جاتا ہے۔ سیاست دان ووٹ حاصل کرنے کے لیے مسلم مخالف جذبات بھڑکاتے ہیں اور لوگوں کو پولرائز کرتے ہیں۔ اور جب انتخابات ختم ہو جاتے ہیں تو سب اپنے گھر چلے جاتے ہیں۔'

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، مسلمان انڈیا کا سب سے غریب مذہبی گروہ ہیں اور ان میں سے تقریباً 46 فیصد لوگ غیر رسمی شعبے میں الیکٹریشن، پلمبر، دکاندار اور یومیہ اجرت پر کام کرتے ہیں۔ اور یو پی میں بھی ان کی صورت حال کچھ مختلف نہیں ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق حکومتی پالیسیوں کے ساتھ وبائی بیماری نے ان کی صورتحال کو مزید خراب کیا ہے۔

یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت نے مذبح خانوں کو بند کر دیا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پچھلے ساڑھے چار سالوں میں کم از کم 150 مذبح خانے بند ہوئے ہیں جنھیں روایتی طور پر مسلمان چلاتے ہیں۔ ان مذبح خانوں کو غیر قانونی قرار دے کر بند کیا گیا ہے۔ جو مذبح خانے کھلے ہیں ان میں سے کئی کو مختلف اضلاع میں ہندو تہواروں کے دوران کئی دنوں تک بند کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

متھرا میں ایک ریستوراں چلانے والے ذاکر حسین کا کہنا ہے کہ ان باتوں نے قصابوں کو سخت نقصان پہنچایا ہے اور بہت سے صارفین کو اپنی خوراک تبدیل کرنے پر مجبور کیا ہے۔

گزشتہ آٹھ برسوں سے حسین اور ان کے بھائی ’مجید ریستوراں‘ چلا رہے ہیں جو متھرا میں چکن بریانی کے لیے مشہور ہے اور ایک دن میں وہ تقریباً 500 پلیٹ بریانی فروخت کر لیتے ہیں۔

لیکن ستمبر میں آدتیہ ناتھ نے کرشن مندر کے اردگرد 10 مربع کلومیٹر (تقریباً چار مربع میل) کے دائرے میں گوشت کے پکوان پیش کرنے پر پابندی کا حکم دیا تھا۔ مندر کے قریب ہی مسجد بھی ہے اور اس علاقے میں بہت سے مسلمان خاندانوں کا گھر بھی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

راتوں رات مجید کے مینو سے ان کے مخصوص پکوان غائب ہو گئے جس کے لیے زیادہ تر گاہک ان کے یہاں آیا کرتے تھے۔

حسین نے کہا 'درجنوں ریستوران اور تقریباً سو دکانیں جو گوشت اور انڈے فروخت کرتی تھیں بند ہو گئیں اور ہزاروں لوگوں کی روزی روٹی ختم ہو گئی۔'

ذاکر حسین کا کہنا ہے کہ پابندی کے بعد سے انھوں نے گوشت والے پکوان فروخت کرنا بند کر دیا ہے

،تصویر کا ذریعہSURESH SAINI

،تصویر کا کیپشنذاکر حسین (بائیں جانب) کا کہنا ہے کہ پابندی کے بعد سے انھوں نے گوشت والے پکوان فروخت کرنا بند کر دیے ہیں

ان کے بھائی ذاکر کا کہنا ہے کہ 'یہ ہم مسلمانوں کو کاروبار سے باہر کرنے کے لیے کیا گیا ہے کیونکہ پچھلے کچھ مہینوں میں ہندوؤں کے ذریعے چلائے جانے والے کئی نان ویجیٹیرین ریستوران ممنوعہ علاقے سے باہر کھل گئے ہیں۔'

ان بھائیوں نے ’محفوظ علاقے‘ میں ایک نیا ریستوراں کھولنے کے لیے ایک جگہ کرائے پر لی، لیکن دکان کھلنے کے تیسرے ہی دن ان پر مبینہ طور پر ہندو قوم پرستوں کے ایک ہجوم نے حملہ کر دیا۔

ذاکر حسین نے کہا کہ انھوں نے پولیس میں اس کی شکایت درج کی ہے۔ اس کے ساتھ انھوں نے یہ بھی کہا کہ 'انھوں نے ہم سے کہا کہ ہم انھیں مفت کھانا دیں اور ہر ماہ انھیں پروٹیکشن منی (تحفظ فراہم کرنے کے لیے رقم) ادا کریں۔ جب ہم نے انکار کیا تو انھوں نے ریستوران میں توڑ پھوڑ کی اور ہم پر حملہ کیا۔'

انھوں نے کہا 'اس میں میرے تین دانت ضائع ہو گئے، میرا جبڑا ٹوٹ گیا، میں ایک ماہ سے ہسپتال میں تھا۔ میرا بھائی اور دیگر رشتہ دار بھی زخمی ہوئے۔'

حملہ آوروں نے جوابی شکایت درج کرائی اور الزام لگایا کہ لڑائی اس لیے شروع ہوئی کیونکہ حسین برادران نے انھیں گائے کا گوشت کھانے پر مجبور کرنے کی کوشش کی۔ واضح رہے کہ بہت سے ہندو گائے کو مقدس سمجھتے ہیں اور یو پی سمیت کئی ریاستوں میں گائے کے گوشت پر پابندی عائد ہے۔

حسین برادران اور کئی دوسرے ریستورانوں کے مالکان نے الہ آباد ہائی کورٹ میں اس پابندی کو ختم کرنے کے لیے درخواست دائر کی ہے۔

شاکر حسین کا کہنا ہے کہ بی جے پی ایک خطرناک کھیل کھیل رہی ہے۔ 'نفرت اتنی پھیل گئی ہے کہ لوگ خوفزدہ ہیں۔۔۔ہندو مسلمانوں سے ڈرتے ہیں، اور مسلمان ہندوؤں سے ڈرتے ہیں۔'

صحافی عالیشان جعفری، جو مسلمانوں کے خلاف تشدد کے کیسز پر نظر رکھتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ بی جے پی کے رہنماؤں اور ہندو پجاریوں کی اشتعال انگیز تقریریں 'اب صرف کھوکھلی بیان بازی نہیں رہی۔ یہ نفرت انگیز تقاریر مسلمانوں کی زندگیوں اور معاش کو متاثر کر رہی ہیں۔'

جعفری کا کہنا ہے کہ یہ ریاست اور انڈیا بھر میں ’مسلمان ہونے اور مسلم شناخت' پر حملہ ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ 'یہ بات قابل قبول ہو گئی ہے کہ ہندو اس بارے میں نارض ہونے میں حق بجانب ہیں کہ مسلمان کیا پہنتے، کھاتے یا وہ کس سے شادی کرتے ہیں۔ مسلمانوں کی ثقافت کو آہستہ آہستہ ختم کیا جا رہا ہے۔'