دیوالی کے موقع پر انڈیا میں سوشل میڈیا پر ’بقر عید‘ کا ٹرینڈ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کسی بھی تہوار کے موقع پر سوشل میڈیا پر اس کا ذکر کوئی انوکھی بات نہیں لیکن کسی ایک مذہب کے تہوار کے موقع پر کسی اور مذہب کے تہوار کا سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کرنا انوکھی بات ضرور ہے۔
ایسا ہی کچھ انڈیا میں ہوا جب دیوالی کے موقع پر وہاں سوشل میڈیا پر ’بقر عید‘ کا تہوار ٹرینڈ کرنے لگا۔
دیوالی ہندو مذہب کا ایک اہم تہوار ہے اور اسے ’روشنیوں کے تہوار‘ کے طور پر جانا جاتا ہے کیونکہ لوگ اس تہوار کے موقع پر دیے اور موم بتیاں روشن کرتے ہیں جو روشنی کے اندھیرے پر اور اچھائی کے برائی پر غالب آنے کی علامت ہے۔
دوسری جانب بقر عید یعنی عیدالاضحی مسلمانوں کا مذہبی تہوار ہے جس کا مطلب ’قربانی کی عید‘ ہوتا ہے۔ اس عید پر مسلمان مختلف جانور ذبح کر کے سنت ابراہیمی کو پورا کرتے ہیں۔
اس ٹرینڈ پر اگر غور کیا جائے تو یہ بات سامنے آئے گی کہ جہاں انڈیا میں لوگ دیوالی کے موقع پر پٹاخے پھوڑنے سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر اپنے غصے کا اظہار کر رہے ہیں وہیں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو کہہ رہے ہیں کہ دیوالی پر تو مسئلہ نظر آ گیا لیکن مسلمانوں کے مذہبی تہوار بقر عید پر ان کے بقول ان کو کوئی مسئلہ نظر کیوں نہیں آیا۔
لوگ اس ٹرینڈ پر حیرت کا اظہار کرتے بھی نظر آئے۔ شجاع نامی ایک صارف نے لکھا کہ ایک طرف لوگ بھوک اور مہنگائی سے مر رہے ہیں اور کچھ لوگوں کو دیوالی پر عید کا ٹرینڈ چلانے کی فکر لگی ہے۔
سیمہ نامی ایک صارف نے لکھا کہ وہ اور ان کی طرح کے بہت سے لوگ دیوالی کی تصاویر شیئر کر رہے ہیں لیکن ’وہ‘ عید منانے کی کتنی تصاویر دکھا سکتے ہیں۔
رادھا رام داس نامی ایک صارف نے لکھا: ’کرسمس کے موقع پر 120 ملین درخت کاٹے جاتے ہیں اور بقر عید پر 10 ملین جانور ذبخ کیے جاتے ہیں۔ یہ دونوں تہوار آلودگی کا باعث بنتے ہیں جو تین گھنٹے کی آتش بازی اور پٹاخوں سے کہیں زیادہ ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہTwitter/@Radharamndas
انھوں نے مزید لکھا: ’ضرورت اس امر کی ہے کہ غیر منطقی متعصبانہ احکامات کے خلاف سول نافرمانی کی تحریک چلائی جائے۔‘
واضح رہے کہ دیوالی کے موقع پر آتش بازی سے ہر سال ہوا میں آلودگی بڑھ جاتی ہے۔ خاص طور پر دلی میں صورتحال انتہائی خراب ہے جہاں فضائی آلودگی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے اور وہاں سموگ نے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔
اگرچہ ماضی میں اس طرح کی پابندیوں پر تنقید کی جاتی تھی لیکن اس بار دیوالی سے پہلے بہت سی ریاستوں میں آتش بازی کرنے پر مکمل یا جزوی پابندی لگانے کا حکم دیا گیا تھا۔
انڈین فرسٹ کے نام سے ایک صارف نے لکھا: ’فراڈ سیکولرز کو عید کے موقع پر جانوروں کی چیخیں اور رونا سنائی نہیں دیتا۔ انھیں دیوالی کے موقع پر صرف پٹاخوں کی آواز آتی ہے۔ جانوروں کا خون بہانا جائز اور بغیر خون بہائے دیوالی کا تہوار غیر قانونی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter/@first_desi
انڈیا کی سپریم کورٹ کے ایک وکیل ششانک شیکھر جھا نے لکھا: ’اگر سپریم کورٹ کے حکم کے بعد دلی میں پٹاخے پھوڑنے پر پولیس آپ کو ہراساں کرتی ہے تو مجھ سے رابطہ کریں۔ میں بغیر کسی فیس کے ان کی قانونی معاونت کروں گا۔‘
انھوں نے مزید لکھا: ’کسی ہندو کو ہراساں نہیں کیا جانا چاہیے کیونکہ وہ پٹاخوں کے اجزا کے بارے میں نہیں جانتے ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہTwitter/@Shashank_ssj
کچھ صارفین ایسے بھی تھے جنھیں دیوالی کے موقع پر یہ ٹرینڈ دیکھ کر گاندھی کی یاد آئی۔
عبداللہ نامی صارف نے لکھا: ’دیوالی کے موقع پر بقر عید کا ٹرینڈ۔۔۔ یہ میرا انڈیا ہے جس کا خواب گاندھی نے دیکھا تھا۔‘
ایک اور صارف نے لکھا: ’انڈیا کو سیکولر ثابت کرنے کے لیے بھکت دیوالی کے موقع پر بقر عید کا ٹرینڈ بنا رہے ہیں۔‘






















