کابل حملہ: ’ماں ایک پنسل کی طرح ہے جو ہر لحظہ گھٹتی چلی جاتی ہے اپنے بچوں کی خاطر‘

افغان دارالحکومت کابل کے علاقے دشت برچی میں آٹھ مئی کو سید الاشہدا سکول کی طالبات چھٹی ہونے پر عمارت سے باہر آ رہی تھیں جب علاقہ یکے بعد دیگرے تین زوردار دھماکوں سے گونج اٹھا۔
ایک دھماکہ سکول کے بالکل سامنے ہوا تھا۔ ان حملوں میں مجموعی طور پر 85 افراد ہلاک ہوئے جن میں اکثریت طالبات کی تھی۔
زیادہ تر طالبات کی عمریں 13 سے 17 برس تک تھیں۔
ہلاک ہونے والی کچھ طالبات کے لواحقین نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وہ غم اور خوف کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
افغانستان کے کمیشن برائے حقوقِ انسانی نے ان حملوں کو قتل عام قرار دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تعلیم سے جنون کی حد تک لگاؤ
ہلاک ہونے والوں میں 14 برس کی باس گل بھی شامل تھی۔
وہ ڈاکٹر بننا چاہتی تھی۔ اسے شاعری سے لگاؤ تھا اور فزکس اور کمیسٹری میں بھی تیز تھی۔
اس کی بڑی بہن عزیزہ نے بی بی سی کو اس کی ایک نظم دکھائی جس میں اس نے ماں کو پنسل سے تشبہ دی تھی، 'اس نے لکھا ہے: 'ماں ایک پنسل کی طرح ہے جو ہر لحظہ گھٹتی چلی جاتی ہے اپنے بچوں کی خاطر۔۔۔''

عزیزہ اس کی سب سے اچھی سہیلی تھی۔ وہ بال بال بچ گئی۔
'ہم ساتھ ہی گئے تھے، لیکن میں 10ویں جماعت میں ہوں اس لیے ہماری کلاس دیر سے ختم ہوئی اور ہم بچ گئے۔ میری امی نے آکر مجھے گلے لگایا اور پوچھا کہ باس گل کہاں ہے۔ میں نے کہا مجھے نہیں پتا کیونکہ اس کی کلاس پہلے ختم ہو جاتی ہے۔'

باس گل اپنے سکول کے بالکل سامنے ہی ماری گئی۔
اس کی والدہ کبریٰ کہتی ہیں: 'پتھر کا بنا دل بھی پگھل جائے گا۔ پچھلے سال جب کووڈ کی وجہ سے سکول بند تھے تو وہ بہت اداس تھی۔ اس نے کہا تھا کہ میری زندگی برباد ہوگئی ہے۔ اس نے سخت محنت شروع کر دی تھی۔ اسے پڑھنے کا بہت شوق تھا۔'
’آنسو خشک ہوگئے‘
بم حملے کا نشانہ بننے والے سکول سے ہزاروں لڑکیوں نے تعلیم پائی ہے۔ زیادہ تر غریب گھرانوں سے تھیں۔
سولہ برس کی سہیلا ان میں سے ایک تھی۔

غم سے نڈھال اس کی ماں فیروزہ کا کہنا تھا کہ 'روتے روتے میری آنکھوں میں آنسو خشک ہو گئے ہیں۔'
سہیلا انگریزی الگ سے سیکھتی تھی جس کی فیس کے لیے وہ قالین بنتی تھی۔
ایک ہفتے بعد وہ سکول کی تعلیم سے فارغ ہو جاتی۔
فیروزہ کو اب سکول جانے والی اپنی دوسری بیٹیوں کی فکر ہے: 'دل پر پتھر رکھ کر بچوں کو سکول بھیجتے ہیں۔ کیونکہ اگر انھیں بھیجیں تو حالت یہ ہے، اگر نہ بھیجیں تو ان کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔'

سب سے بڑا سوال
اس سکول پر حملے کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی۔ حکومت نے اسے قیام امن کے عمل پر حملہ قرار دیتے ہوئے الزام طالبان پر لگایا، جسے طالبان نے مسترد کر دیا۔
گزشتہ کئی برسوں کے دوران دشت برچی میں متعدد حملے کیے گئے جن میں سکولوں، تربیتی مراکز، ہسپتالوں، شادی ہالوں اور مسجدوں کو نشانہ بنایا گیا۔
پچھلے برس زچہ بچہ کے ایک وارڈ کو نشانہ بنایا گیا تھا جس میں 24 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
اِسی برس ایک تربیتی مرکز پر کیے گئے حملے میں 30 افراد مارے گئے تھے۔
سنہ 2018 میں یہاں ایک ٹیوشن سینٹر پر ہونے والے حملے میں 50 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
یہاں کی زیادہ تر آبادی ہزارہ اور شیعہ مسلمانوں پر مشتمل ہے۔
انھیں ڈر ہے کہ ان کے خلاف تاریخی طور پر جو ظلم و ستم روا رکھا گیا تھا اسے پھر سے دہرایا جا رہا ہے۔
افغانستان امن کا متلاشی ہے۔ مگر وہاں کے رہنے والوں کے سامنے ایک ہی مشکل سوال ہے: ان کے بچوں کا مستقبل کیا ہوگا؟
























