آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
بی جے پی کے سومترا خان کی بیوی سجاتا منڈل کو پارٹی چھوڑنے پر طلاق کی دھمکی، سوشل میڈیا پر دلچسپ تبصرے
انڈین ریاست مغربی بنگال کی سیاست اپنی نظریاتی بنیاد کے لیے جانی جاتی ہے لیکن گذشتہ کچھ دنوں میں اس نے ذاتی تعلقات کو بھی متاثر کرنا شروع کر دیا ہے، یہاں تک کہ بی جے پی کے ایک ممبر پارلیمنٹ نے حریف پارٹی میں شامل ہونے پر اپنی بیوی کو طلاق کی دھمکی دی ہے۔
سومترا خان، جو ریاست میں بی جے پی کے یوتھ ونگ کے سربراہ بھی ہیں، نے اپنی بیوی کی ریاست میں حکمران پارٹی ترنمول کانگریس پارٹی (ٹی ایم سی) میں شمولیت کے چند گھنٹوں بعد ہی ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ ان کی اہلیہ سجاتا منڈل خان کے ساتھ ان کا رشتہ ختم ہو چکا ہے۔
صحافیوں سے بات کرتے ہوئے سومترا نے اپنی اہلیہ کے فیصلے کو ایک بہت بڑی غلطی قرار دیا اور رو پڑے۔ انھوں نے کہا کہ ’میں آپ کو پوری آزادی دیتا ہوں۔ میری آپ سے اپیل ہے کہ آپ میرے خاندانی نام ’خان‘ کو اپنے نام سے ہٹا لیں۔
سجاتا مونڈل خان نے حریف پارٹی ٹی ایم سی میں شمولیت اختیار کی ہے جو ریاست میں 2011 سے حکومت کر رہی ہے اوریہ توقع کی جا رہی ہے کہ اگلے سال ہونے والے ریاستی انتخابات میں یہ جماعت فاتح رہے گی۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ٹی ایم سی کے ذریعے ماضی میں مبینہ طور پر انھیں ہراساں کرنے کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے سومترا نے انھیں مشکل وقتوں میں اپنی حمایت کی یاد دلائی۔
انھوں نے کہا: ’اس موقع پر میں نے آپ سے جو وعدہ کیا تھا اسے پورا کیا۔ اپنی تنخواہ کا 50 فیصد ہر مہینے آپ کے کھاتے میں منتقل کیا تاکہ آپ کو کسی سے مانگنے کی ضرورت نہ ہو۔ اب آپ نے ان لوگوں کے ساتھ ہاتھ ملایا ہے جنھوں نے آپ کو ماضی میں نقصان پہنچایا تھا۔‘
انھوں نے اعتراف کیا کہ انکی اہلیہ نے پچھلے انتخابات کے دوران انتخابی مہم میں مدد کی تھی لیکن ان کی جیت ان کی پارٹی کے حمایت کے بنا ناممکن ہوتی۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’ہر گھر میں لڑائی ہوتی ہے لیکن آپ نے اپنے عزائم کو پورا کرنے کے لیے فیملی پر سیاست کو فوقیت دی ہے۔ آپ خود پھنس گئی ہیں اور یہ آپ کی بہت بڑی غلطی ہے۔‘
انڈین ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے سجاتا نے کہا کہ خاندان اور سیاست پر ایک ہی پلیٹ فارم پر بات نہیں ہو سکتی ہے لہذا ان معاملات پر بات نہ کریں۔
انھوں نے کہا ’آج میں نے یہ فیصلہ کیا ہے لیکن اس بات کی ضمانت کون دے گا کہ مستقبل میں سمترا خاں خود میری پارٹی میں شامل نہیں ہوں گے؟‘
سوشل میڈیا پر ردعمل
اس خبر پر سوشل میڈیا پر دلچسپ تبصرے بھی جاری ہیں۔ ایک صارف نے اس خبر پر شاعرانہ تبصرہ کرتے ہوئے لکھا: ’
’وہ جماعت بدلنے کے جو بھی مقاصد بتایئں لیکن یہ اقدام مزید طاقت حاصل کرنے کی لالچ ہے۔‘جو مودی سے کرتے ہیں پیار، وہ بیوی کو بھی کرتے ہیں انکار۔‘
شاہد صدیقی نے لکھا: ’رشتہ ختم۔۔۔ بی جے پی کے رکن پارلیمان نے کہا ہے کہ وہ ترنمول پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے پر اہلیہ کو طلاق دیں گے۔ طلاق، طلاق، طلاق۔‘
ایک اور صارف سوھینی نے لکھا: ’اگر سیاسی رائے میں اختلافات کی وجہ سے علیحدگیاں ہونا نارمل ہو جاتا ہے تو یہ معاشرے کی بہت بڑی خدمت ہو گی۔‘
کولکتہ کہ عالیہ یونیورسٹی میں شعبہ صحافت کے سربراہ محمد ریاض کا کہنا ہے کہ بنگال میں طویل عرصے سے نظریاتی بنیاد پر سیاست ہوتی رہی ہے لیکن اب ریاستی سیاست میں موقع پرستی غیر معمولی نہیں رہ گئی ہے۔
انھوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ 1990 کی دہائی کے آخر سے کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتوں کے بہت سے رہنما ٹی ایم سی میں شامل ہوئے ہیں لیکن آپ کو یہ بات ذہن میں رکھنی ہو گی کہ جو شخص آپ کی مخالف پارٹی کو ذاتی فائدے کے لیے چھوڑ سکتا ہے وہ آپ کو بھی ترک کرسکتا ہے اور اس طرح کی سرگرمیاں جاری رہیں گی۔‘
پروفیسر ریاض ایک اور ایسے رہنما کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں جو اپنی بیوی سے لڑائی کے بعد بی جے پی میں شامل ہوئے کہ مغربی بنگال میں کل سے ایک لطیفہ چل رہا ہے کہ ’ان دونوں جماعتوں نے سیاسی جماعتوں کو باپر باری اور سسر باری میں تبدیل کر دیا ہے۔‘
جس کا مطلب یہ ہے کہ دونوں پارٹیوں کے رہنما اختلافات کے بعد ایک دوسرے جماعتوں میں ایسے منتقل ہو رہے ہوں جیسے میاں بیوی کی لڑائی کے بعد گھر چھوڑ کر سسرال یا میکے جانا۔