کیا پاکستان میں واقعی درآمد شدہ موبائل فونز پر ’پی ٹی اے ٹیکس‘ کم ہونے جا رہا ہے؟

    • مصنف, تنویر ملک
    • عہدہ, صحافی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

پاکستان کے ایوان زیریں قومی اسمبلی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن قاسم گیلانی کا کہنا ہے کہ ملک میں موبائل فونز کی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی ختم کر دی گئی ہے۔ تاہم اب تک سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

ملک میں درآمد شدہ فونز پر بھاری ڈیوٹیز اور ٹیکسز عائد کیے جاتے ہیں جن کی وصولی پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (پی ٹی اے) کی طرف سے کی جاتی ہے۔ صارفین کو اپنے درآمد شدہ فونز کو رجسٹر کرنا پڑتا ہے۔ وہ ان ڈیوائسز پر ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس ادا کیے بغیر سِم کارڈز استعمال نہیں کر پاتے۔

قاسم گیلانی کی جانب سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر موبائل فون پر ریگولیٹری ڈیوٹی کے خاتمے کے اعلان کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ اقدام رابطے بڑھانے کے لیے مثبت ہے اور یہ عوام کے لیے ٹیکنالوجی تک رسائی بڑھانے کے لیے بھی اچھا اقدام ہے۔

واضح رہے کہ قاسم گیلانی رکن قومی اسمبلی تو ہیں تاہم وہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ اور محصولات کے رکن نہیں جو اس وقت نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ پر غور و غوض کر کے اپنی سفارشات کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہے۔ قائمہ کمیٹی کی جانب سے اس سلسلے میں کوئی موقف سامنے نہیں آیا ہے۔

بی بی سی نے قائمہ کمیٹی کے اراکین سے بات کی ہے جن کے مطابق ریگولیٹری ڈیوٹی میں رعایت پر بات ہوئی ہے اور اس میں کچھ رعایت دی جا سکتی ہے۔ تاہم ان کے بقول ڈیوٹی کے مکمل خاتمے پر کوئی بات نہیں ہوئی۔

قائمہ کمیٹی میں کیا طے پایا؟

تو قومی اسمبلی میں موبائل فونز پر ریگولیٹری ڈیوٹی کے خاتمے کے سلسلے میں کیا بات ہوئی؟

اس بارے میں قائمہ کمیٹی کے رکن ارشد وہرہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ یہ معاملہ کمیٹی کے اجلاس میں زیر بحث آیا اور اس سلسلے میں اس ڈیوٹی کی مختلف سلیبز میں رعایت پر بات ہوئی۔

انھوں نے کہا کہ اس ریگولیٹری ڈیوٹی کی شرح کے لیے مختلف سلیبز موجود ہیں۔ وہرہ نے بتایا کہ کمیٹی میں 201 ڈالر سے زیادہ قیمت کے موبائل فون پر ریگولیٹری ڈیوٹی کم کرنے کی بات پر فیصلہ ہوا۔

قائمہ کمیٹی کے ایک اور رکن مرزا اختیار بیگ کے مطابق ریگولیٹری ڈیوٹی کا مکمل خاتمہ نہیں ہوا بلکہ ایک سلیب میں اس میں رعایت پر بات ہوئی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ 201 سے 350 ڈالر تک کے موبائل فون پر ڈیوٹی میں کمی پر اتفاق ہوا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس سلیب میں رعایت کے بارے میں حتمی فیصلہ قائمہ کمیٹی کی سفارشات میں دیا جائے گا جو جلد مکمل کر کے قومی اسمبلی میں جمع کرائی جائیں گی۔

انھوں نے کہا کہ موبائل فونز پر پی ٹی اے ٹیکس کے خاتمے پر کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔

ادھر قاسم گیلانی نے ایکس پر دیگر پیغامات میں کہا ہے کہ فنانس کمیٹی نے مالیاتی بل 2026-27 میں ایک قابلِ نفاذ شق شامل کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے جس کے تحت ’ایف بی آر کو پی ٹی اے ٹیکس کی ادائیگی کے لیے اقساط پر مبنی منصوبے سے متعلق قواعد وضع کرنے کے اختیارات حاصل ہوں گے۔‘

پاکستان میں موبائل فون کی درآمد پر کتنی ڈیوٹی اور ٹیکس ہیں؟

پاکستان میں موبائل فون پر ریگولیٹری ڈیوٹی کے نفاذ کے لیے مختلف سلیبز مقرر ہیں۔ جبکہ شناختی کارڈ اور پاسپورٹ پر بھی ان ٹیکسز میں فرق ہے۔

ایف بی آر کی ویب سائٹ کے مطابق شناختی کارڈ کی صورت میں مندرجہ ذیل ڈیوٹی اور ٹیکسز عائد ہوتے ہیں:

  • 30 امریکی ڈالر تک کی قیمت کے فونز پر 550 روپے
  • 31 سے 100 ڈالر کے فون پر 4323 روپے
  • 101 سے 200 امریکی ڈالر کے فون پر 11561 روپے
  • 201 سے 350 ڈالر کے فون پر 14661 روپے کے ساتھ 17 فیصد سیلز ٹیکس
  • 351 سے 500 ڈالر کے فون پر 23420 کے ساتھ 17 فیصد سیلز ٹیکس
  • 501 ڈالر سے اوپر 37007 روپے کے ساتھ 17 فیصد سیلز ٹیکس

موبائل فون کی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی کب لگی؟

ٹیکس امور پر نظر رکھنے والے مبصرین کے مطابق پاکستان میں موبائل فونز پر عائد ریگولیٹری ڈیوٹی (آر ڈی) اور دیگر درآمدی محصولات کی تاریخ خاصی پیچیدہ رہی ہے۔

مختلف ادوار میں حکومتوں نے کبھی درآمدی مالیت کے تناسب سے ٹیکس (ایڈ ویلیورم) مقرر کی تو کبھی مقررہ شرحوں پر مبنی ڈیوٹی اور بعد ازاں ٹیرف اصلاحات کے وسیع فریم ورک کے تحت ان محصولات میں تبدیلیاں کیں۔

ٹیکس امور کے ماہر ڈاکٹر اکرام الحق نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ سب سے پہلے پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کے دوران درآمد شدہ موبائل فونز پر فی سیٹ 200 روپے ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کی گئی تھی۔ یہ ڈیوٹی مالی سال 2015-16 تک نافذ رہی۔

انھوں نے بتایا کہ سلیب پر مبنی ریگولیٹری ڈیوٹی کا نفاذ 2019 میں ہوا جب پی ٹی اے کے ڈیوائس آئیڈینٹیفکیشن، رجسٹریشن اینڈ بلاکنگ سسٹم (ڈی آئی آر بی ایس) کے آغاز کے بعد حکومت نے موبائل فونز پر ٹیکسز کا نیا ڈھانچہ متعارف کروایا۔

فنانس سپلیمنٹری (ترمیمی) ایکٹ 2019 کے تحت جاری ہونے والے ایس آر او 327(I)/2019 کے تحت موبائل فونز کی درآمدی قیمت کی بنیاد پر ریگولیٹری ڈیوٹی کے چھ مختلف سلیبز قائم کیے گئے۔

انھوں نے کہا کہ مالی سال 2021-22 کے بجٹ اقدامات کے تحت موبائل فونز پر ریگولیٹری ڈیوٹی میں نمایاں اضافہ کیا گیا۔

انھوں نے کہا کہ زرِ مبادلہ کے بحران کے دوران عائد کی گئی درآمدی پابندیوں میں نرمی کے بعد حکومت نے موبائل فونز پر ریگولیٹری ڈیوٹی میں تقریباً 50 فیصد تک کمی کی جب اپریل 2023 میں یہ فیصلہ کیا گیا۔

ڈاکٹر اکرام نے بتایا کہ ان تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ پاکستان نے موبائل ڈیوائس مینوفیکچرنگ پالیسی بھی متعارف کروائی، جس کے تحت مقامی اسمبلنگ کے لیے درآمد کیے جانے والے سی کے ڈی اور ایس کے ڈی یونٹس کو ترجیحی رعایتیں دی گئیں۔

پالیسی میں مقامی صنعت کے فروغ کے لیے بعض ریگولیٹری ڈیوٹیز اور درآمدی مرحلے پر عائد ٹیکسز کے خاتمے یا کمی کی تجویز بھی شامل تھی۔

انھوں نے بتایا کہ قومی ٹیرف پالیسی 2025-30 کے تحت حکومت نے درآمدی تحفظ میں مرحلہ وار کمی کا ایک جامع پروگرام شروع کیا ہے۔

پالیسی میں ’عدم تسلسل‘

موبائل فونز کی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی لگانے کے فیصلے پر ٹیکس ماہرین نے کہا کہ اس کا مقصد ملک میں موبائل فونز کی تیاری کے شعبے کو فروغ دینا تھا۔

تاہم ڈاکٹر اکرام الحق کے مطابق ’اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ پاکستان میں موبائل فونز کی تیاری کا شعبہ کچھ خاص فروغ نہیں پاسکا۔ ’ریگولیٹری ڈیوٹی کے خاتمے کی ایک وجہ حکومت پاکستان کا ٹیرف اصلاحات کا پروگرام بھی ہے جس کے تحت اسے ختم کرنا ہے۔‘

ٹیکس امور کے ماہر ذیشان مرچنٹ نے اس سلسلے میں بی بی سی کو بتایا کہ صنعتی شعبے پر ٹیکس کی بلند شرح کی وجہ سے موبائل فونز کی مقامی صنعت میں اتنی پیداوار نہیں بڑھ سکی۔

وہ کہتے ہیں کہ کارپوریٹ شعبے کے لیے یہ ٹیکس 39 فیصد ہے جو کہ ’نئی سرمایہ کاری کے لیے رکاوٹ ہے۔‘

ان کی رائے میں پالیسی میں ’عدم تسلسل‘ اس کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔