آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
گوادر میں سکیورٹی اہلکار کی ہلاکت کے مقدمے میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو عمر قید کی سزا
- مصنف, محمد کاظم
- عہدہ, بی بی سی اردو، کوئٹہ
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے گوادر میں ایک سکیورٹی اہلکار کی ہلاکت کے مقدمے میں بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بی وائی سی کے رہنما صبغت اللہ شاہ کو عمر قید کی سنا دی ہے۔
انسداد دہشت گردی کی عدالت کوئٹہ ون کے جج محمد علی مبین نے پیر کے روز یہ فیصلہ ایک ایسے موقع پر سنایا جب نہ صرف ڈاکٹر ماہ رنگ اور بی وائی سی کے دیگر گرفتار رہنماؤں اور ان کے وکلا نے عدالت کا بائیکاٹ کیا بلکہ گرفتار رہنما ڈسٹرکٹ جیل ہدہ میں 12 جون سے دھرنے پر بیٹھے ہیں۔
ڈاکٹر ماہ رنگ اور بی وائی سی کے دیگر رہنماؤں کے وکیل اسرار جتک ایڈووکیٹ نے بتایا کہ ڈاکٹر ماہ رنگ اور صبغت اللہ شاہ اور دیگر کے خلاف یہ مقدمہ 2024 میں گوادر میں ’بلوچ راجی مچی‘ نامی جلسے میں ایک سکیورٹی اہلکار کی ہلاکت کے حوالے سے درج ہوا تھا۔
انھوں نے بتایا کہ عدالت نے اس مقدمے میں دونوں کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔
یاد رہے بی وائی سی نے 28 جولائی 2024 میں گوادر میں ہونے والے اجتماع کو میرین ڈرائیو پر دو مطالبات تسلیم ہونے تک دھرنے میں تبدیل کر دیا تھا۔
اس میں افغانستان اور ایران سے تعلق رکھنے والے بلوچوں کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔
اس دوران گوادر سمیت بلوچستان کے متعدد اضلاع میں چھوٹے بڑے دھرنے دیے گئے تھے اور بی وائی سی کے کارکنان اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان تصادم میں متعدد ہلاکتیں بھی ہوئی تھیں۔
پیر کو نادیہ بلوچ ایڈووکیٹ نے اپنی بہن ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے خلاف فیصلے کو ایک ’فیس لیس عدالت‘ کا فیصلہ قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کر دیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ 12 جون سے بی وائی سی کے رہنماؤں نے عدالت کے خلاف نہ صرف دھرنا دیا تھا بلکہ ان کے علاوہ ان کے وکلا نے عدالت کا بائیکاٹ بھی کیا تھا۔
انھوں نے بتایا کہ بائیکاٹ کے دوران حکومت کی جانب سے ماہ رنگ اور دیگر رہنماؤں کے لیے وکیل مقرر کیا گیا، لیکن ان تمام افراد نے سرکار کی جانب سے مقرر کردہ وکلا کو مسترد کیا تھا۔
انھوں نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ ’جس شخص پر ایف سی اہلکار کو مارنے کا الزام تھا اسے پہلے ہی بری کر دیا گیا تھا جبکہ جن لوگوں نے تقریر کی، ان کو سزا سنائی گئی۔‘
دوسری جانب صوبائی حکومت نے اس فیصلے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
بلوچستان کے وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے عدالتی فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ دو سال پر محیط قانونی جدوجہد کے بعد بالآخر شبیر بلوچ کو انصاف مل گیا ہے۔
ایکس پر اپنے بیان میں سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ شبیر بلوچ کو دورانِ ڈیوٹی بی وائی سی کے مشتعل مظاہرین نے ماہ رنگ کی قیادت میں پتھر مار مار کر ہلاک کیا تھا۔
’آج عدالت کی جانب سے ماہ رنگ لانگو اور اُن کے ساتھیوں کو سزا سنائے جانے کے بعد حکومت بلوچستان کا یہ مؤقف درست ثابت ہوا کہ پرامن احتجاج کے نام پر قانون ہاتھ میں لینے، تشدد کو فروغ دینے اور ریاستی اہلکاروں کو نشانہ بنانے والے عناصر دراصل دہشت گردی کے سہولت کار ہیں۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’بلوچستان میں دہشت گردوں، اُن کے ہمدردوں، سہولت کاروں اور حمایتی عناصر کے خلاف ریاستی جنگ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رہے گی۔‘
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے خلاف مقدمات
گوادر میں سکیورٹی اہلکار کی ہلاکت کے مقدمے کے علاوہ ڈاکٹر ماہ رنگ اور ان کے ساتھیوں کو دیگر کیسز کا بھی سامنا ہے۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بی وائی سی کے دیگر کئی رہنماؤں کو گذشتہ برس مینٹیننس آف پبلک آرڈر کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔ تاہم اس دوران ان کے خلاف تین مزید مقدمات بھی قائم کیے گئے۔
ان کے خلاف تین افراد کے قتل کا مقدمہ بھی درج ہے، جو بی وائی سی کے ایک دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن کے دوران ہلاک ہوئے تھے۔
پولیس کی جانب سے درج ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ یہ لوگ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے ’بلوائیوں‘ کی فائرنگ سے ہلاک اور زخمی ہوئے۔
یہ علاقہ سریاب پولیس تھانے کی حدود میں آتا ہے۔ 21 مارچ کو سریاب پولیس سٹیشن میں درج ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ 'ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، بیبو بلوچ، گلزادی، صبیحہ بلوچ اور صبغت اللہ کی قیادت میں سریاب روڈ پر چار سو سے پانچ سو ’بلوائی کالعدم تنظیموں‘ کی حمایت میں جمع تھے اور وہ ریاست مخالف نعرے لگارہے تھے۔‘
ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ’بلوائیوں نے توڑ پھوڑ کی اور ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور دیگر افراد دھرنے میں شامل مظاہرین کو مسلسل پولیس پر حملے کے لیے اکساتے رہے۔‘
ایف آئی آر میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’بلوائیوں نے پولیس پارٹی پر آتشیں اسلحے سے فائرنگ کی جس سے پولیس اہلکاروں کے علاوہ راہگیر اور بلوائیوں کے اپنے ساتھی بھی زخمی ہوگئے۔‘
ایف آئی آر کے مطابق زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا جارہا تھا کہ ان میں سے تین افراد بولان میڈیکل کمپلیکس ہسپتال منتقلی کے دوران ہلاک ہوگئے۔
اس کے علاوہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں پر کوئٹہ میں واقع سول ہسپتال کے مردہ خانے سے شدت پسندوں کی لاشوں کو زبردستی لے جانے کے الزام میں بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
اس سلسلے میں درج ایف آئی آر کے مطابق ’مدعی دیگر پولیس اہلکاروں کے ہمراہ گشت پر تھے کہ انھیں اطلاع ملی کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے اراکین، ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بیبرگ بلوچ نے اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ پریس کانفرنس کی۔‘
ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ’انھوں نے یہ پریس کانفرنس مارے جانے والے شدت پسندوں کی تحسین اور دہشتگردی کی بیانیے کو بڑھاوا دینے کے لیے کی اور کہا کہ وہ سول ہسپتال میں موجود لاشوں کو لے جائیں گے۔‘
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کون ہیں؟
ماہ رنگ بلوچ کا شمار 2024 میں بی بی سی کی 100 ویمن میں کیا گیا تھا۔
پاکستان بھر میں ہونے والے مظاہروں میں حصہ لینے والی سینکڑوں خواتین میں سے ایک صوبہ بلوچستان میں مبینہ جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاج کرنے والی ماہ رنگ بلوچ بھی ہیں۔
انھوں نے انصاف کا مطالبہ اس وقت کیا جب ان کے والد کو مبینہ طور پر 2009 میں سکیورٹی سروس کے افسران نے حراست میں لے لیا تھا اور دو سال بعد تشدد کے نشانات کے ساتھ مردہ پائے گئے تھے۔
سنہ 2023 کے اواخر میں ماہ رنگ بلوچ نے سینکڑوں خواتین کی قیادت میں دارالحکومت اسلام آباد تک 1000 میل کا مارچ کیا تاکہ وہ اپنے اہل خانہ کے بارے میں معلومات حاصل کر سکیں۔ سفر کے دوران انھیں دو بار گرفتار کیا گیا۔
صوبہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے مظاہرین کا کہنا ہے کہ ان کے پیاروں کو پاکستانی سکیورٹی فورسز نے انسداد بغاوت کی کارروائی کے دوران اغوا کر کے ہلاک کر دیا ہے۔ اسلام آباد میں حکام ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔
اس کے بعد سے یہ ڈاکٹر اپنے ہی انسانی حقوق کے گروپ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے بینر تلے ایک نمایاں کارکن بن گئی ہیں۔
انسانی حقوق کے میدان میں ان کے کام کو ابھرتے ہوئے رہنماؤں کی ٹائم 100 نیکسٹ 2024 کی فہرست میں تسلیم کیا گیا تھا۔