جسٹس رنجن گوگوئی: انڈیا کے شہر ایودھیا میں بابری مسجد کا فیصلہ دینے والے جج ریٹائر

رنجن گوگوئی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, وبھو راج
    • عہدہ, بی بی سی ہندی، دہلی
  • وقت اشاعت

12 جنوری سنہ 2018 کو ایک خط اور ایک پریس کانفرنس نے اس دن انڈیا کی سیاست سے لے کر عدلیہ تک میں ہلچل مچا دی تھی۔ دنیا کی تاریخ میں پہلی بار سپریم کورٹ کے چار جج پریس سے مخاطب تھے۔

انڈیا کی سب سے بڑی عدالت کے اس وقت کے چیف جسٹس دیپک مشرا کو 'انتہائی ناراضگی اور تشویش کے ساتھ' تحریر کردہ خط پر دستخط کرنے والے چار ججوں میں جسٹس رنجن گوگوئی بھی شامل تھے۔

یہ وہ دور تھا جب سپریم کورٹ بلاوجہ سرخیوں میں تھی اور یہ قیاس آرائیاں ہو رہی تھی کہ مرکزی حکومت جسٹس دیپک مشرا کے جانشین کی حیثیت سے سنیارٹی کی روایت کو نظر انداز کرتے ہوئے جسٹس گوگوئی کی جگہ دوسرا نام دے سکتی ہے۔

لیکن 13 ستمبر سنہ 2018 کو راشٹرپتی بھون سے جاری کردہ خط نے ان بد گمانیوں کو دور کر دیا۔

جسٹس دیپک مشرا کی الوداعی تقریب میں تقریر کرتے ہوئے جسٹس گوگوئی نے کہا تھا: 'جسٹس دیپک مشرا نے ہمیشہ شہریوں کی آزادی کے حق کو برقرار رکھا ہے۔ انھوں نے خواتین کے حقوق کی حمایت کی۔'

روسٹر تنازع

چیف جسٹس بننے سے پہلے رنجن گوگوئی 12 جنوری سنہ 2018 کی جس پریس کانفرنس کے بعد شہ سرخیوں میں آئے اس کی وجہ سپریم کورٹ کا روسٹر سسٹم تھا۔ سپریم کورٹ میں روسٹر کا مطلب وہ فہرست ہے جس میں یہ درج کیا جاتا ہے کہ کون سا مقدمہ کس کے پاس جائے گا اور اس کی سماعت کب ہو گی۔

یہ بھی پڑھیے

دیپک مشرا اور رنجن گوگوئی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

روسٹر بنانے کا اختیار چیف جسٹس کو حاصل ہے اور انھیں 'ماسٹر آف روسٹر' کہا جاتا ہے۔ سپریم کورٹ کے رجسٹرار چیف جسٹس کے حکم کے مطابق روسٹر بناتے ہیں۔ نومبر سنہ 2017 میں اس وقت کے چیف جسٹس دیپک مشرا کی سربراہی میں آئینی بنچ نے فیصلہ کیا تھا کہ چیف جسٹس 'ماسٹر آف روسٹر' ہیں۔

اس فیصلے میں یہ بھی لکھا گیا تھا کہ کوئی جج کسی بھی مقدمے کی سماعت اس وقت نہیں کر سکتا جب تک چیف جسٹس اسے کیس تفویض نہیں کرتے۔

لیکن جسٹس گوگوئی سمیت سپریم کورٹ کے چار ججوں کے میڈیا میں آنے کے بعد روسٹر کا معاملہ بلند ہوا۔ ان ججوں نے کہا کہ چیف جسٹس کو روسٹر بنانے اور مقدمات کو ججوں کے حوالے کرنے کا حق ہے لیکن وہ بھی 'ہم پلہ ججوں میں پہلے ہیں اور کسی سے زیادہ یا کم نہیں ہیں۔'

کیا جسٹس گوگوئی کے چیف جسٹس بننے کے بعد روسٹر سسٹم میں کچھ تبدیلی آئی ہے؟

سپریم کورٹ کے معاملات پر رپورٹ کرنے والی صحافی سوچترا موہنتی کا کہنا ہے 'جسٹس گوگوئی نے اس مسئلے کو مکمل طور پر فراموش کر دیا۔ روسٹر کے معاملے کو ایک طرح سے بھلا دیا گیا۔ روسٹر سسٹم جس طرح جسٹس دیپک مشرا کے دور میں چل رہا تھا جسٹس گوگوئی کے دور میں بھی اسی طرح کام کرتا رہا۔‘

مظاہرہ

،تصویر کا ذریعہSAJJAD HUSSAIN/AFP VIA GETTY IMAGES

جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزامات

چیف جسٹس کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد سات ماہ کے اندر اپریل میں جسٹس گوگوئی پر ان کی سابق جونیئر اسسٹنٹ نے جنسی ہراسانی کا الزام لگایا۔ اس وقت جسٹس گوگوئی نے اسے عدلیہ کی آزادی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا اور کہا کہ یہ عدلیہ کو غیر مستحکم کرنے کی ایک 'بڑی سازش' ہے۔

لیکن معاملہ اس قدر سادہ بھی نہیں تھا۔

اس معاملے کی سنگینی کا اندازہ اس حقیقت سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ رنجن گوگوئی کے خلاف جنسی ہراسانی کا الزام لگانے والی سپریم کورٹ کی سابق اہلکار نے جسٹس بوبڈے کی سربراہی میں انٹرنل تحقیقاتی کمیٹی (ہاؤس کمیٹی) میں پیش ہونے سے انکار کر دیا۔

شکایت کرنے والی خاتون نے الزام لگایا کہ انھیں 'ان ہاؤس کمیٹی' کے سامنے اپنے وکیل کو رکھنے کی اجازت نہیں ملی ہے۔ وہ کسی وکیل اور معاون کے بغیر سپریم کورٹ کے ججوں کے سامنے گھبراہٹ محسوس کرتی ہیں۔ انھیں اس کمیٹی سے انصاف کی توقع نہیں ہے، لہذا وہ اس کارروائی میں حصہ نہیں لیں گی۔

جسٹس رنج گوگوئی کے بعد جسٹس بوبڈے سینیئر ترین جج تھے اور ان کے جانشین بھی۔

یہ معاملہ اس لیے بھی تاریخی تھا کیونکہ ملک میں پہلی بار ایک جج خود پر عائد الزامات کی سماعت خود ہی کر رہا تھا۔ وکلا کے ایک طبقے کا کہنا تھا کہ ایسی سماعت جنسی ہراسانی کی شکایات کے لیے وضع کردہ طریقۂ کار کی خلاف ورزی ہے۔

جسٹس گوگوئی

،تصویر کا ذریعہSONU MEHTA/HINDUSTAN TIMES VIA GETTY IMAGES

اپریل 2019 کے بعد؟

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ جنسی طور پر ہراساں کرنے کا معاملہ سامنے آنے کے بعد حکومت اور عدلیہ کے مابین تعلقات میں تبدیلی آئی ہے۔ جسٹس گوگوئی کا الزامات سے بری ہونے کے لیے سرکاری وکیلوں پر انحصار تھا۔

سینیئر صحافی منوج مٹٹا کہتے ہیں: 'لویا کیس سے نمٹنے کے طریقے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جسٹس رنجن گوگوئی نے چار ججوں کی پریس کانفرنس میں شرکت کرکے عوام کی توقعات کو بڑھا دیا کہ وہ آزادانہ طور پر کام کریں گے لیکن جنسی ہراسانی کے تنازعے میں پھنس جانے کے بعد وہ چیف جسٹس آف انڈیا کی توقعات پر پورا نہیں اتر سکے۔'

لیکن 'دی ٹریبیون' اخبار کے قانونی مدیر ستیہ پرکاش کی رائے مختلف ہے۔

ستیہ پرکاش کا کہنا ہے 'عدلیہ میں اعلیٰ عہدوں پر فائز لوگوں کو مختلف طریقوں سے متاثر کرنے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔ ایسے الزامات بھی لگائے جاتے ہیں جو سراسر بے بنیاد ہوتے ہیں۔ اس معاملے میں سپریم کورٹ کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا۔ اس مقدمے کی سماعت اگر وہ نہیں کرتے تو کون کرتا؟ اگر کسی اور نے یہ کام کیا ہوتا تو بھی یہ کہا جاتا کہ سماعت جوڈیشل کے لوگوں نے کی۔ اگر عدالت عظمیٰ کے دیگر جج کرتے تو کہا جاتا کہ برادرانہ جج ہے، اگر ہائی کورٹ کا جج کرتا تو کہا جاتا ہے کہ وہ جونیئر جج ہے۔'

بابری مسجد

،تصویر کا ذریعہPRAVEEN JAIN/BBC

ایودھیا سے متعلق تاریخی فیصلہ

چیف جسٹس رنجن گوگوئی نے اپنے عہد کے آخری ایام میں گذشتہ کئی دہائیوں سے جاری بابری مسجد رام جنم بھومی تنازعے پر نو نومبر سنہ 2019 کو حتمی فیصلہ سنایا۔

جسٹس گوگوئی کی سربراہی میں پانچ ججوں کے بینچ نے کہا کہ 70 سال قبل 450 سال قدیم بابری مسجد میں مسلمانوں کو غلط طریقے سے عبادت کرنے سے روکا گیا تھا اور یہ کہ 27 سال قبل بابری مسجد کو غیر قانونی طور پر منہدم کیا گیا تھا لیکن انھوں نے ہندوؤں کے حق میں مندر بنانے کا فیصلہ دیا۔

کیا رام کی پیدائش متنازع جگہ پر ہی ہوئی تھی؟ ایودھیا سے متعلق اپنے تاریخی فیصلے میں سپریم کورٹ نے اس سوال کا بھی جواب دینے کی کوشش کی۔

گوگوئی کی سربراہی والی بینچ نے کہا: 'شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ اس جگہ پر مسجد کے وجود کے باوجود اس جگہ کو رام کی جائے پیدائش ماننے والے ہندوؤں کو پوجا سے نہیں روکا گیا تھا۔ مسجد کی موجودگی بھی ہندوؤں کے اس یقین کو متزلزل نہیں کر سکی کہ بھگوان رام اسی متنازع مقام پر پیدا ہوئے تھے۔'

انڈین ججز

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اس فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج جسٹس اشوک کمار گنگولی نے بی بی سی کو بتایا: 'آثار قدیمہ کے شواہد کو متنازع اراضی دینے کی بنیاد بنایا گیا ہے لیکن یہ بھی کہا گیا ہے کہ آثار قدیمہ کے شواہد پر زمین کی ملکیت کا فیصلہ نہیں ہو سکتا۔ ایسی صورت حال میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر زمین کو کس بنیاد پر دیا گیا؟

سپریم کورٹ کے سابق جج گنگولی نے کہا: 'یہ مسجد گذشتہ 500 سالوں سے وہاں موجود تھی اور جب سے آئینِ ہند وجود میں آیا وہاں ایک مسجد موجود تھی۔ آئین آنے کے بعد تمام ہندوستانیوں کو مذہبی آزادی کا حق حاصل ہے۔ اقلیتوں کو بھی مذہبی آزادی حاصل ہے۔ یہ اقلیتوں کا حق ہے کہ وہ اپنے مذہب کی پیروی کریں۔ انھیں اس عمارت کا دفاع کرنے کا حق ہے۔

لیکن یہ بھی ایک سچائی ہے کہ چیف جسٹس آف انڈیا کے عہدے سے سبکدوشی کے بعد جسٹس رنجن گوگوئی کو ایودھیا میں اپنے فیصلے کی وجہ سے یاد رکھا جائے گا۔