بھائی چند پٹیل: دلی میں اپنی پارٹیوں کے لیے مشہور سابق سفارت کار کی زندگی کی روداد

بھائی چند پٹیل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, ریحان فضل
    • عہدہ, بی بی سی نامہ نگار
  • وقت اشاعت

خواتین میں بھائی چند پٹیل کی ابتدائی دنوں سے ہی دلچسپی تھی، شاید کچھ ضرورت سے زیادہ۔

جب وہ پچاس کی دہائی میں دِلی کے شری رام کالج آف کامرس میں تعلیم حاصل کر رہے تھے تو انھیں سب سے بڑا ملال اس بات کا تھا کہ ان کے پورے کالج میں 800 لڑکوں کے درمیان صرف ایک لڑکی پڑھتی تھی۔

ان دنوں لڑکیوں کو ڈیٹ پر لے جانا تو بہت دور کی بات تھی، ان کا ہاتھ پکڑنا ہی ’بدنامی‘ کے لیے کافی ہوتا تھا۔ لڑکوں کے ہاسٹل میں لڑکیوں کا داخل ہونا تقریباً ناممکن تھا۔

بھائی چند کی لڑکیوں کے ساتھ وقت گزارنے کی خواہش تب پوری ہوئی جب وہ لندن سکول آف اکنامکس (ایل ایس ای) پہنچے۔

یہ بھی پڑھیے

بھائی چند پٹیل نے ان دنوں کا احوال اپنی کتاب ’آئی ایم اے سٹرینجر ہیئر مائی سیلف‘ میں لکھا ہے۔

انھوں نے بتایا ہے کہ ’ایل ایس ای کی لڑکیاں محنت کش طبقے سے آتی تھیں۔ وہ میک اپ اور کپڑوں پر زیادہ دھیان نہیں دیتی تھیں۔ لیکن جب میں انر ٹمپل میں قانون کی تعلیم کے لیے پہنچا تو مجھے لگا جیسے مجھے کسی کینڈی سٹور میں چھوڑ دیا گیا ہو۔‘

’اس زمانے میں برطانیہ میں نسل پرستی اپنے عروج پر تھی۔ لیکن ان کی مائیں تب بھی ہم جیسے لڑکوں سے لڑکیوں کے ملنے پر اعتراض نہیں کرتی تھیں، بشرطیکہ وہ حاملہ نہ ہوں اور ہم جیسوں سے عشق نہ کر بیٹھیں۔‘

بھائی چند پٹیل کی کتاب

،تصویر کا ذریعہBhaichand Patel

انڈین اور پاکستانی لڑکیوں کی صرف گوروں میں دلچسپی

بھائی چند پٹیل نے اس دور کے بارے میں بتایا ہے کہ ’مزے کی بات یہ ہے کہ ہم جیسوں کے ساتھ پڑھنے والی انڈین اور پاکستانی لڑکیوں کو ہم میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔‘

’ہم لوگ ان کے لیے مرے جا رہے ہوتے تھے۔ وہ گوروں کے ساتھ گھومتی تھیں۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ اپنے ملک لوٹ کر وہ ہم جیسے دیسیوں سے شادی کرتیں۔‘

مشہور ہستیوں سے تعلقات

بھائی چند پٹیل جب سنہ 1966 میں انڈیا لوٹے تو ممبئی میں کانگریس کے بڑے رہنما اور ملک کے نامی گرامی وکیل رجنی پٹیل کے معاون کے طور پر کام کرنے لگے۔

رجنی پٹیل کے ہاں کام کرنے کے دوران ان کی ملاقات مشہور اداکارہ مینا کماری سے ہوئی۔ ان دنوں مینا کماری کا ان کے شوہر کمال امروہی کے خلاف مقدمہ رجنی پٹیل لڑ رہے تھے۔

بھائی چند بتاتے ہیں کہ ’یہ میرا تجربہ ہے کہ کوئی جتنا بڑا سٹار ہو، اس کا بینک بیلینس اتنا ہی معمولی ہوتا ہے۔‘

’مینا کماری کے ساتھ بھی ایسا ہی تھا۔ ان دنوں ان کے کریئر کا عروج ختم ہو چکا تھا۔ ان کا جسم موٹا ہو چلا تھا اور انھیں کام ملنا بند ہو گیا تھا۔‘

ریکھا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنبھائی چند پٹیل کی ایک پرانی دوست نے ریکھا سے ان کی ملاقات کروائی تھی

ریکھا اور بھائی چند کی ملاقات

بھائی چند نے بتایا ہے کہ ’یہ وہ دور تھا جب ریکھا کی زندگی میں متعدد الجھنیں پیدا ہو چکی تھیں۔ امیتابھ بچن کے ساتھ ان کا افیئر ختم ہو چکا تھا۔‘

انھوں نے ایک میگزین کو دیے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ ’میں اپنے گھر میں کام کرنے والے الیکٹریشن تک سے شادی کر سکتی ہوں۔‘ بھائی چند کے مطابق ’انھوں (ریکھا) نے کسی سے سنا کہ میں اکیلا رہ رہا ہوں اور اقوام متحدہ میں میری اچھی نوکری ہے۔ وہ دلی آئیں اور ہم دونوں کی دوست بینا رمانی نے ایک فلیٹ میں ہم دونوں کی ملاقات کروائی۔‘

’لیکن تھوڑی ہی دیر میں انھیں اندازہ ہو گیا تھا کہ میں ان کے لیے نہیں بنا ہوا۔ شکل و صورت سے میں دیو آنند تو تھا نہیں اور دوسری بات یہ کہ میری شادی بھی ہو چکی تھی۔‘

بھائی چند پٹیل نے آگے بتایا کہ ’میں چند روز بعد تاج پیلیس ہوٹل کے اوریئنٹل ایکسپریس بار میں موکیش اگروال سے ملا۔ وہ ایک کاروباری شخصیت اور میرے دوست تھے۔ موکیش نے بینا رمانی کو فون کر کے کہا کہ وہ ان سے ریکھا کا تعارف کروا دیں۔‘

’سب کچھ بہت تیزی سے ہوا۔ دونوں کی شادی ہو گئی۔ لیکن ایک ہفتے میں ہی ریکھا کو اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ دونوں بے حد مختلف قسم کے انسان ہیں۔ موکیش ریکھا کے فین تھے۔ دونوں کی کوئی بات ایک دوسرے سے نہیں ملتی تھی۔ اس رشتے کا انجام بہت برا ہوا۔ شادی کے چھ ماہ بعد موکیش اگروال نے خود کشی کر لی۔‘

بھائی چند پٹیل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنبھائی چند پٹیل اپنی پارٹیوں کے لیے مشہور ہیں

ابھی بھی فجی کا پاسپورٹ ہے

بھائی چند پٹیل اس وقت 83 برس کے ہیں۔

زندگی کا آغاز بحرالکاہل کے ایک چھوٹے سے ملک فجی سے کرنے والے بھائی چند پٹیل کو کئی وزرائے اعظم، مہارانیوں، اداکاراؤں اور دلچسپ لوگوں کے ساتھ وقت گزارنے کا موقع ملا۔

وہ ایک مصنف، صحافی، فلم ناقد اور وکیل رہ چکے ہیں۔

انھوں نے اقوام متحدہ میں ایک بڑے عہدے پر کام کیا ہے۔ وہ اس وقت دلی کی ایک معروف سماجی شخصیت ہیں۔ انھوں نے اب تک اپنی فجی کی شہریت چھوڑی نہیں ہے۔