سورن سنگھ کی آخری رسومات ادا، مسلمان بھی شریک

سردار سورن سنگھ پاکستان تحریک انصاف کے رکن صوبائی اسمبلی تھے

،تصویر کا ذریعہFacebook

،تصویر کا کیپشنسردار سورن سنگھ پاکستان تحریک انصاف کے رکن صوبائی اسمبلی تھے
    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
  • وقت اشاعت

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں یہ شاید پہلا موقع ہوگا جس میں کسی اقلیتی رکن کی آخری رسومات میں بڑی تعداد میں مسلمانوں نے بھی شرکت کی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے رکن صوبائی اسمبلی اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے اقلیتوں کے اُمور کے مشیر سردار سورن سنگھ کی آخری رسومات اتوار کو پیر بابا بونیر میں ادا کردی گئی ہیں۔

سردار سورن سنگھ کی آخری رسومات میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا، اور سکھ برادری کے علاوہ بڑی تعداد میں مقامی لوگوں نے بھی شرکت کی ہے۔ مقامی صحافی محب الحق نے بی بی سی کو بتایا کہ سورن سنگھ کی ہلاکت کی خبر کے فورا بعد دور دراز سے لوگ پیر بابا پہنچ گئے تھے۔

انھوں نے کہا کہ بونیر میں ان کی یاداشت کے مطابق کبھی کسی اقلیت رکن کو اس طرح نہیں مارا گیا۔ سردار سورن سنگھ کی علاقے میں بہت قدر کی جاتی تھی اور وہ لوگوں کے کام آتے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ بونیر میں بڑی تعداد میں سکھ رہتے ہیں اور مقامی لوگ ان کی حفاظت کو اپنا فرض سمجھتے ہیں۔

سورن سنگھ کی آخری رسومات اسی شمشان گھاٹ میں ادا کی گئیں جس کا افتتاح گذشتہ سال خود انھوں ہی نے کیا تھا۔ مقامی لوگوں کے مطابق انھوں نے رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہونے کے بعد ایک شمشان گھاٹ اور مسلمانوں کے لیے دو جنازہ گاہوں کا افتتاح کیا تھا۔

آخری رسومات میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا، اور سکھ برادری کے علاوہ بڑی تعداد میں مقامی لوگوں نے بھی شرکت کی

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنآخری رسومات میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا، اور سکھ برادری کے علاوہ بڑی تعداد میں مقامی لوگوں نے بھی شرکت کی

سورن سنگھ کو جمعے کی شام خیبر پختونخوا کے ضلع بونیر میں پیر بابا کے مقام پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔ سردار سورن سنگھ کا آبائی گھر پیر بابا میں ہے۔

پولیس حکام کے مطابق سورن سنگھ پر حملے میں ملوث مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اور اُن سے پوچھ گچھ جاری ہے۔

بونیر کے ضلعی پولیس افسر خالد محمود ہمدانی کے مطابق پولیس ملزمان کے قریب پہنچ چکی ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس واقعہ کے فورا بعد سارے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا تھا اور مشتبہ مقامات کی نشاندہی کے بعد ان علاقوں میں مارے گئے۔

اس حملے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان عمر خراسانی نے اپنی تنظیم کی جانب سے قبول کی ہے ۔

 پشاور شہر ہشتنگری گیٹ کے قریب سکھوں کے ایک گوردوارے کو 70 سال بعد عبادت کے لیے کھول دیا گیا تھا۔ سردار سورن سنگھ حکومت کے اس اقدام کو سراہا تھا
،تصویر کا کیپشن پشاور شہر ہشتنگری گیٹ کے قریب سکھوں کے ایک گوردوارے کو 70 سال بعد عبادت کے لیے کھول دیا گیا تھا۔ سردار سورن سنگھ حکومت کے اس اقدام کو سراہا تھا

انھوں نے سنیچر کو پھر ایک وضاحت بھی کی ہے۔

عمر خراسانی نے ایک ای میل میں کہا ہے کہ سورن سنگھ کو اقلیت کی وجہ سے نہیں مارا گیا بلکہ اس کی وجوہات کچھ اور ہیں جس کا علم حکومت اور اس کے اداروں کو ہے۔

سورن سنگھ نے سال 2011 میں پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی تھی جبکہ اس سے پہلے وہ جماعت اسلامی سے وابستہ تھے۔

وہ سکھ برادی کے اہم رکن تھے اور اقلیتوں کے حقوق کے لیے انھوں نے ہمیشہ آواز اٹھائی ہے ۔

پیشے کے لحاظ سے وہ ڈاکٹر تھے اور اس کے علاوہ پشتو زبان کی ٹی وی چینل اے وی ٹی خیبر کے لیے وہ تین سال تک ایک پروگرام کی میزبانی کرتے رہے جس کا نام تھا ’زہ ہم پاکستانی یم‘ جس کا مطلب ہے میں بھی پاکستانی ہوں۔

31 مارچ کو اندرون پشاور شہر ہشتنگری گیٹ کے قریب سکھوں کے ایک گوردوارے کو 70 سال بعد عبادت کے لیے کھول دیا گیا تھا۔ سردار سورن سنگھ نے حکومت کے اس اقدام کو سراہا تھا اور کہا تھا کہ اس میں مرکزی اور صوبائی دونوں حکومتوں نے اہم کردار ادا کیا ہے۔