1000 سے زائد جوہری وار ہیڈز کا ہدف اور 12 ہزار کلومیٹر رینج والے میزائل: چین اپنے جوہری عزائم مبہم کیوں رکھتا ہے؟

،تصویر کا ذریعہVCG via Getty Images
- مصنف, ٹام لیم
- عہدہ, بی بی سی مانیٹرنگ
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
چین نے گذشتہ دہائیوں کے دوران اپنے جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے اور اس سے متعلق پالیسی کے حوالے سے بڑی حد تک ابہام برقرار رکھا ہے۔
چین کا سرکاری مؤقف یہ ہے کہ اُس کی جوہری پالیسی بنیادی طور پر ملکی دفاع کے لیے ہے۔ وہ طویل عرصے سے ’نو فرسٹ یوز‘ کے عزم کا اظہار کرتا رہا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ چین کسی بھی صورت میں پہلے جوہری ہتھیار استعمال نہیں کرے گا، بلکہ صرف جواباً استعمال کرے گا۔
تاہم اس کے ساتھ ساتھ چین یہ مطالبہ بھی مسترد کرتا آیا ہے کہ وہ امریکہ اور روس کے ساتھ اسلحہ کنٹرول کرنے سے متعلق سہ فریقی بات چیت میں شریک ہو۔
تاہم، مغربی مبصرین نے نشاندہی کی ہے کہ حالیہ برسوں میں چین اپنی جوہری صلاحیتوں کو جدید بنا رہا ہے اور تخمینہ یہ ہے کہ سنہ 2023 سے سنہ 2025 کے درمیان چین نے ہر سال اپنے ذخیرے میں تقریباً 100 جوہری وارہیڈز کا اضافہ کیا ہے۔
اس دوران مغربی میڈیا نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ چین نے اپنے میزائل پروگرام اور اس سے منسلک مراکز کو بھی جدید خطور پر استوار کیا ہے تاکہ اِس کی کسی بھی ممکنہ حملے کا جواب دینے کی صلاحیتوں میں اضافہ ہو سکے۔
بیجنگ کا کہنا ہے کہ اس کی جوہری صلاحیتیں اس لیے ہیں تاکہ دشمن کو حملہ کرنے سے باز رکھا جا سکے اور یہ کہ کسی بھی ممکنہ جوہری حملے کی صورت میں وہ اپنی جوہری صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ کا شکار نہیں ہو گا۔
سنہ 2024 میں چین نے بحرالکاہل میں بین البرِاعظمی میزائل کا تجربہ کیا تھا اور سنہ 2025 میں دوسری عالمی جنگ کی سالگرہ کے موقع پر کی گئی پریڈ میں پہلی مرتبہ اپنے سہہ رُخی جوہری نظام کی نمائش کی تھی۔ اس میں زمین، سمندر اور فضا سے داغے جانے والے ہتھیار شامل ہیں۔
چین کا سرکاری مؤقف

،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images
اپنے مخصوص جوہری ذخائر کے حوالے سے بیجنگ کا رویہ انتہائی رازدارانہ ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
اس کا سرکاری مؤقف رہا ہے کہ اس کی جوہری پالیسی مکمل طور پر ’مستحکم، مستقل اور قابلِ پیش گوئی‘ ہے اور بنیادی طور پر اپنے دفاع کے لیے ہے۔ اور یہ کہ چین نے ہمیشہ اپنی جوہری صلاحیتوں کو ہمیشہ اس کم از کم سطح پر رکھا ہے جو اس کی قومی سلامتی کے لیے موزوں ہے۔
چین اس بات پر زور دیتا ہے کہ اس نے کبھی جوہری ہتھیاروں کی دوڑ میں حصہ نہیں لیا اور عالمی سٹریٹیجک استحکام برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ جوہری توسیع کے بارے میں سامنے آنے والے دعوؤں کو چین ’بے بنیاد، قیاس آرائی پر مبنی اور پروپیگنڈا‘ قرار دیتا ہے۔
چین اپنے اس عہد کی بھی بھرپور ترویج کرتا ہے کہ وہ کسی بھی صورت جوہری ہتھیار استعمال کرنے میں پہل نہیں کرے گا بلکہ اپنی یہ صلاحیت صرف تب استعمال کرے گا اگر اس پر جوہری حملہ کیا گیا۔
سنہ 2024 میں چین نے ’نو فرسٹ یوز آف نیوکلیئر ویپنز انیشی ایٹو‘ یعنی جوہری ہتھیار پہلے استعمال نہ کرنے کا عہد پیش کیا، جس میں کہا گیا کہ یہ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) کے نفاذ کے لیے ایک ’عملی قدم‘ ہے اور جوہری ہتھیار رکھنے والی ریاستوں سے مطالبہ کیا کہ وہ بھی نو فرسٹ یوز کی پالیسی اپنائیں اور عہد کریں کہ غیر جوہری ریاستوں کے خلاف جوہری ہتھیاروں کا استعمال نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی اس کی دھمکی دی جائے گی۔
اس کے باوجود بیجنگ نے امریکہ کی جانب سے واشنگٹن اور ماسکو کے ساتھ سہ فریقی اسلحہ کنٹرول مذاکرات میں شامل ہونے کی اپیلوں کو بارہا مسترد کیا ہے۔
چینی حکام نے اس ضمن میں کیے گئے مطالبات کو ’غیر منصفانہ، غیر معقول اور غیر حقیقی‘ قرار دیا ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ دنیا کے جوہری ذخائر کی اکثریت امریکہ اور روس کے پاس ہے تو اسلحہ میں کمی کی بنیادی ذمہ داری بھی انھی پر عائد ہوتی ہے۔
مغرب کو اصل صورتحال کا اندازہ
چین کی جوہری ہتھیاروں سے متعلق مبہم پالیسی کے باوجود، مغربی مبصرین نے حالیہ برسوں میں مشاہدہ کیا ہے کہ چین اپنی جوہری صلاحیتوں کو تیزی سے جدید بنا رہا ہے۔
بین الاقوامی سلامتی کے ادارے سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ (سپری) کی تازہ سالانہ رپورٹ میں تخمینہ لگایا گیا ہے کہ جنوری 2026 تک چین کے جوہری ہتھیاروں کا ذخیرہ بڑھ کر تقریباً 620 جوہری وارہیڈز تک پہنچ گیا ہے، جو گذشتہ سال کے دوران 600 تھا۔
سپری کے مطابق سنہ 2023 سے سنہ 2024 کے درمیان چین نے اپنے جوہری ذخیرے میں 90 وارہیڈز اور سنہ 2024 سے 2025 کے درمیان 100 وارہیڈز کا اضافہ کیا۔ یہ اضافہ گذشتہ دہائی میں تیز ترین تھا، تاہم اس کے بعد یہ رفتار سست ہو گئی ہے۔
پینٹاگون کی سنہ 2024 کی ایک رپورٹ میں یہ توقع ظاہر کی گئی تھی کہ سنہ 2030 تک چین اپنے جوہری وارہیڈ ذخیرے کو دگنا کر کے ایک ہزار سے زیادہ کر لے گا۔ تاہم اس میں سنہ 2022 کی رپورٹ میں دی گئی اس سابقہ پیش گوئی کو شامل نہیں کیا گیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ سنہ 2035 تک چین کا ذخیرہ ممکنہ طور پر تقریباً 1500 وارہیڈز تک پہنچ سکتا ہے۔

سپری نے نشان دہی کی ہے کہ اگر سنہ 2030 تک چین نے ایک ہزار وارہیڈز سے زیادہ بنا بھی لیے تو یہ تعداد امریکہ اور روس کے موجودہ جوہری ذخائر کے مقابلے میں تقریباً ایک چوتھائی کے برابر ہو گی۔
اس کے باوجود، سپری نے اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ چین نے ملک کے شمالی علاقے میں تین بڑے مقامات پر سینکڑوں میزائل رکھے ہیں، جبکہ مشرق کے تین پہاڑی علاقوں میں اس نوعیت کے مزید 30 فیسیلیٹیز مکمل کرنے پر کام جاری ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹز کی مئی 2026 کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ چین کے شمال مغربی علاقے سنکیانگ کے صحرا میں 80 سے زائد لانچ پیڈز، مضبوط بنکرز اور کمانڈ سینٹرز پر مشتمل ایک وسیع نیٹ ورک موجود ہے، جو میزائل لانچرز کی معاونت کے لیے بنایا گیا ہے، اور یہ بیجنگ کی حملہ کرنے کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتا ہے۔
جوہری صلاحیتوں کی نمائش

،تصویر کا ذریعہVCG via Getty Images
اگرچہ چین کا سرکاری ریاستی میڈیا مغربی اعداد و شمار پر تبصرہ کرنے سے گریز کرتا ہے، تاہم بیجنگ نے حالیہ برسوں میں کُھل کر اپنی جوہری صلاحیتوں کی نمائش کی ہے، جیسا کہ سنہ 2024 میں، لگ بھگ 44 سال کے وقفے کے بعد، پہلی مرتبہ بحرالکاہل میں بین البرِِاعظمی میزائل کا تجربہ کیا گیا تھا۔
چین کی وزارت دفاع نے سرکاری طور پر تو کوئی تفصیلات جاری نہیں کیں، اس کے باوجود چینی میڈیا نے بتایا تھا کہ میزائل نے دو ہزار کلومیٹر دور ہدف کو نشانہ بنایا، جبکہ اس کی مجموعی رینج 12 ہزار کلومیٹر تھی۔ میڈیا کے مطابق یہ میزائل جنوبی قطب، پورے یورپی براعظم اور امریکہ کے مغربی ساحل کے تمام بڑے شہروں تک پہنچ سکتا ہے۔
چین کے ماہر دفاعی امور ڈو وینلونگ کے مطابق یہ تجربہ کسی بھی فضائی دفاعی اور اینٹی میزائل نظام کو عبور کرنے کی چین کی صلاحیت کا مظاہرہ ہے۔ جبکہ تائیوان کے عسکری تجزیہ کاروں نے اس بات پر زور دیا کہ جس وقت یہ تجربہ کیا گیا اُس وقت پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) میں وسیع پیمانے پر انسدادِ بدعنوانی مہم جاری تھی اور راکٹ فورس کے اعلیٰ جرنیل برطرف کیے گئے تھے۔
سنہ 2025 میں جاپان کے خلاف فتح کی 80 ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ فوجی پریڈ میں، بیجنگ نے پہلی مرتبہ اپنے تین رُخی (زمین، فضا اور سمندر) جوہری نظام کی نمائش کی۔
چینی میڈیا نے اسے ’سٹریٹیجک طاقت‘ قرار دیا۔ اس نظام میں فضا سے داغا جانے والا طویل فاصلے کا میزائل، آبدوز سے داغا جانے والا بین البرِاعظمی میزائل، زمین سے داغا جانے والا میزائل، اور مائع ایندھن سے چلنے والا بین البرِاعظمی جوہری میزائل شامل تھے۔
























