اے آر وائی کے سی ای او اور اینکر کے خلاف وارنٹ جاری

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
اسلام آباد ہائی کورٹ نے عدلیہ مخالف پروگرام نشر کرنے اور عدالت میں پیش نہ ہونے پر نجی ٹی وی چینل اے آر وائی کے چیف ایگزیکٹیو سلمان اقبال اور اینکر پرسن مبشر لقمان کے لیے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔
اس سے پہلے اسلام آباد ہائی کورٹ نے عدلیہ مخالف مواد نشر کرنے پر ’کھرا سچ‘ پروگرام اور اس کے اینکرپرسن مبشر لقمان پر پابندی عائد کر دی تھی تاہم سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے اس حکم کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔
جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے منگل کے روز عدلیہ مخالف پروگرام نشر کرنے سے متعلق اسلام آباد ڈسٹرکٹ بار کی طرف سے دائر کی گئی درخواست کی سماعت کی تو درخواست گزار کے وکیل نصیر کیانی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ مبشر لقمان اور نجی ٹی وی چینل نے نہ صرف عدلیہ مخالف پروگرام کیے بلکہ عدالت کے بُلانے کے باوجود وہ پیشی پر نہیں آئے۔
اُنھوں نے کہا کہ میڈیا سے تعلق رکھنے والے بعض افراد خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں اور وہ عدالتی احکامات کو اہمیت نہیں دیتے۔ اس پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا کہنا تھا کہ کوئی بھی قانون سے بڑھ کر نہیں ہے اور سب کو قانون کا احترام کرنا ہوگا۔
عدالت نے عدم پیشی پر اے آر وائی کے چیف ایگزیکٹیو سلمان اقبال اور مبشر لقمان کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
سماعت کے دوران سیکریٹری اطلاعات ڈاکٹر نذیر اور پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی یعنی پیمرا کے قائم مقام چیئرمین پرویز راٹھور بھی عدالت میں پیش ہوئے اور اُنھوں نے عدلیہ کی تضحیک کے بارے میں پروگرام کی سی ڈی پیش کی۔
اُنھوں نے عدالت کو بتایا کہ عدالتی حکم پر اور پیمرا کے قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر اے آر وائی کے پروگرام ’کھرا سچ‘ اور اس پروگرام کے میزبان مبشر لقمان پر پابندی عائد کر دی تھی۔
عدالت نے ان دنوں افراد کو آئندہ حاضری سے استثنی دے دیا۔ اس درخواست کی سماعت اگست کے پہلے ہفتے تک کے لیے ملتوی کر دی گئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی



















