انڈیا کے ساتھ ’تصادم‘ نہیں چاہتے لیکن پانی روکنا ’جنگی اقدام‘ تصور کیا جائے گا: پاکستان

Indus Water Treaty

،تصویر کا ذریعہGetty Images

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 7 منٹ

پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ وہ انڈیا کے ساتھ کوئی ’تصادم‘ یا ’تنازع‘ نہیں چاہتا لیکن سندھ طاس معاہدے کے تحت ملک کے آبی وسائل کو روکنے کی کوشش کو ایک ’جنگی اقدام‘ تصور کیا جائے گا۔

منگل کو سندھ طاس معاہدے پر اسلام آباد میں منعقد ایک بین الاقوامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ انڈیا کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو ’یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا کوئی جواز نہیں اور نہ ہی بین الاقوامی قانون میں اس کی کوئی گنجائش ہے۔‘

یاد رہے کہ انڈیا کی حکومت نے اپریل 2025 میں پہلگام حملے کا الزام پاکستان پر عائد کرتے ہوئے ایک جوابی قدم اٹھاتے ہوئے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کر دیا تھا۔

پاکستان نے انڈیا کے اس اقدام کو مسترد کر دیا تھا اور عالمی ثالثی عدالت سے رجوع کیا تھا۔ نیدر لینڈز کے شہر ہیگ میں قائم کورٹ آف آربٹریشن یعنی ثالثی عدالت نے واضح کیا تھا کہ انڈیا اس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل نہیں کر سکتا۔

تاہم انڈیا نے اس فیصلے کو مسترد کر دیا تھا اور سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو برقرار رکھنے کا اعلان کیا تھا۔

پہلگام حملے اور انڈیا کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے بعد گذشتہ برس اپریل میں پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی نے کہا تھا کہ انڈیا کی جانب سے پاکستان کا پانی روکنے یا اس کا رُخ موڑنے کی کوشش کو 'جنگی اقدام' تصور کیا جائے گا۔

5 جون کو انڈین وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا تھا کہ سندھ طاس معاہدہ اس وقت تک معطل رہے گا جب تک پاکستان ’سرحد پار دہشت گردی کو مکمل طور پر بند نہیں کر دیتا۔‘

Ishaq Dar

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اسحاق ڈار نے کیا کہا؟

نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے قومی سلامتی کمیٹی کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اب بھی اس پر قائم ہے اور وہ ’یقینی بنائے گا کہ اس کے حقوق سلب نہ ہوں۔‘

’پاکستان نے ہمیشہ اختلافات کے حل کے لیے بات چیت، سفارت کاری اور دونوں فریقوں کے متفقہ طریقۂ کار کا راستہ اختیار کرنے کی بات کی ہے۔ تاہم اس حوالے سے کسی قسم کی غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کو حاصل آبی حقوق سے محروم کرنے کی کوئی بھی کوشش کی علاقائی امن و سلامتی کے لیے گہرے اور دور رس نتائج ہوں گے۔‘

منگل کو ہونے والے اس سیمینار میں پاکستانی حکومتی شخصیات کے علاوہ دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور ماہرین نے بھی شرکت کی تھی۔

اس موقع پر پاکستان میں انڈس واٹر کے کمشنر سید محمد مہر علی شاہ نے کہا کہ گذشتہ برس اپریل کے بعد سے وہ دریائے چناب کے بہاؤ میں تبدیلی کے حوالے سے اپنے انڈین ہم منصب کو چار خطوط لکھ چکے ہیں لیکن ان کی جانب سے تاحال کوئی جواب نہیں آیا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ دریائے چناب میں پانی کے بہاؤ میں اتار چڑھاؤ کوئی ’فنی پریشانی‘ نہیں بلکہ ’ایک تزویراتی خطرہ‘ ہے۔

سندھ طاس معاہدے کی معطلی سے پاکستان کو درپیش خطرات

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

اپنی تقریر میں پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ ’اپریل 2025 سے پاکستان نے ایسے اقدامات کا ایک سلسلہ دیکھا ہے جس نے سنگین خدشات کو جنم دیا ہے، جن میں دریائے چناب اور جہلم میں پانی کے بہاؤ میں اچانک اور غیر معمولی اتار چڑھاؤ اور سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کے لیے مختص پانی کو قابو میں رکھنے کی صلاحیت رکھنے والے بنیادی ڈھانچے کو وسعت دینے کی مسلسل کوششیں شامل ہیں۔‘

’ہمیں اس قیمت سے آگاہ رہنا چاہیے جو بین الاقوامی سرحدوں سے گزرنے والے دریاؤں سے متعلق ایک بین الاقوامی معاہدے کو نقصان پہنچانے، مشترکہ آبی وسائل کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے، تصادم کا راستہ اختیار کرنے اور بین الاقوامی قانون معاہدوں کی خلاف ورزی کرنے کی صورت میں ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔‘

’پاکستان کے لیے یہ محض ایک قانونی بحث نہیں ہے۔ پانی 25 کروڑ سے زائد لوگوں کی زندگی کی بنیاد ہے۔ ہماری زراعت، ہماری سلامتی، توانائی کی پیداوار اور معاشی ترقی کا انحصار دریاؤں کے پانی کے بلا تعطل بہاؤ پر ہے۔‘

پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ دریاؤں کا تحفظ ’ہماری قومی سلامتی کے لیے اہم ہے۔‘

Indus Water

،تصویر کا ذریعہGetty Images

’ہم خلوصِ نیت سے انڈیا کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ جنگ کے بیج بونے، مشترکہ آبی وسائل کو تنازع کا ذریعہ بنانے اور ہمارے خطے کے امن و سلامتی کو خطرے میں ڈالنے سے گریز کرے۔‘

دریاؤں پر انڈیا کے منصوبے اور حکومتی مؤقف

انڈیا نے حال ہی میں چناب۔بیاس لنک ٹنل پراجیکٹ کا اعلان کیا تھا، جس کے نتیجے میں دریائے چناب سے تقریباً 19 لاکھ ایکڑ فُٹ پانی کا رُخ انڈیا کے بیاس نہری نظام موڑا جا سکتا ہے۔

انڈیا نے اس منصوبے کے لیے کمپنیوں سے بولیاں بھی مانگی ہیں۔

انڈیا کی حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اس منصوبے کی تشہیر کرتی ہوئی نظر آتی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ ’انڈیا اب پرانے اصولوں کے تحت نہیں کھیلے گا۔‘

22 مئی کو اپنے فیس بُک اکاؤنٹ پر بی جے پی نے لکھا کہ ’سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے بعد اب بلآخر انڈیا اب اپنے مغربی دریاؤں کی صلاحیتوں کا ہائیڈرو پاور، واٹر سکیورٹی اور سٹریٹجک استعمال کرنے جا رہا ہے۔‘

بی جے پی کی اس پوسٹ کے مطابق یہ ٹنل آٹھ اعشاریہ سات کلومیٹر پر محیط ہو گا، جو دریائے چندرا سے اضافی پانی بیاس کی طرف موڑ دے گا۔

انڈیا کے سرکاری ادارے نیشنل ہائیڈرو الیکٹرک پاور کارپوریشن نے ہماچل پردیش ٹنل بنانے کے لیے گذشتہ مہینے ٹینڈر جاری کیا ہے۔

یہ ٹنل دراصل انڈین ریاست ہماچل پردیش کے ضلع کوکسار میں بنے گا۔

انڈین خبر رساں ادارے اے این آئی کے مطابق چناب۔بیاس لنک منصوبہ 2620 کروڑ روپے کی لاگت سے بنے گا۔

کچھ دن قبل انڈین ریاست ہماچل پردیش کے گورنر کویندر گپتا نے بھی اس منصوبے کے حوالے سے بات کی تھی اور کہا تھا کہ یہ پراجیکٹ انڈیا کے قومی مفاد میں ہے اور اس کے ذریعے ملک کو اس کے آبی وسائل پوری طرح سے استعمال کرنے کا موقع ملے گا۔

اے این آئی کے مطابق شملہ میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے گورنر گپتا کا کہنا تھا کہ ’چناب۔بیاس لنک ٹنل منصوبہ قومی مفاد کے لیے اہم قدم ہے۔ انڈیا کے پانی کو پہلے اس کے لوگوں اور ریاستوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔‘

پاکستان ان منصوبوں کو سندھ طاس معاہدے کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس معاملے کو متعلقہ ٹریبیونل میں لے گیا ہے۔

دوسری جانب انڈیا اپنے مؤقف پر قائم نظر آتا ہے۔ انڈیا کے وزیرِ برائے آبی وسائل سی آر پاٹل نے چند ہفتوں قبل کہا تھا کہ ’یہ معاہدہ معطل ہے اور جب سے وزیرِ اعظم مودی نے یہ فیصلہ لیا ہے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے کہ پانی کا ایک قطرہ بھی وہاں (پاکستان) نہ جائے۔‘

’وزیرِ اعظم کی ہدایات کی روشنی میں وزیرِ داخلہ امیت شاہ خود اس معاملے کی نگرانی کر رہے ہیں اور اس پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے متحرک ہیں۔‘