عمران خان نااہل قرار: ’جھنڈے والی گاڑی کو بھی بغیر پوچھے نہیں جانے دینا‘

    • مصنف, سحر بلوچ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

پاکستان تحریکِ انصاف کے قائدین کو جب الیکشن کمیشن آف پاکستان کے داخلی دروازے سے جانے کا راستہ نہ ملا تو وہ گیٹ پھلانگنے کے لیے تیار ہو گئے۔ جمعے کے روز ایک بڑا فیصلہ الیکشن کمیشن نے کیا جس میں سابق وزیرِ اعظم عمران خان کو آئین کے آرٹیکل 63 ون پی کے تحت نااہل قرار دے دیا۔

اس فیصلے سے پہلے ای سی پی کے دفتر کے باہر مناظر کچھ یوں تھے کہ کسی کو کبھی اندر جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی تھی۔ دروازے پر موجود سکیورٹی پر مامور اہلکار نے دوسرے سے کہا کہ ’جھنڈے والی گاڑی کو بھی بغیر پوچھے نہیں جانے دینا۔‘

الیکشن کمیشن کے دفتر کے چاروں طرف صرف پولیس کی نفری نظر آ رہی تھی اور گیٹ کے سامنے پولیس بھی بڑی تعداد میں تعینات کر دی گئی تھی۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اسلام آباد، لاہور اور پشاور میں پی ٹی آئی کارکنان نے کسی ’منفی فیصلے‘ کے نتیجے میں پہلے سے احتجاج کی کال دے رکھی تھی۔

الیکشن کمیشن کے اندر کا احوال کچھ یوں تھا کہ پی ٹی آئی کے قائدین ایک ایک کر کے عمارت میں پہنچنا شروع ہوئے۔ شیریں مزاری، شاہ محمود قریشی اور سینیٹر فیصل جاوید الیکشن کمیشن میں سب سے پہلے پہنچے اور وہاں آ کر انھیں پتا چلا کہ دیگر قائدین کو گیٹ پر روک لیا گیا ہے۔

ابھی یہی بات جاری تھی کہ پی ٹی آئی رہنماؤں کی گیٹ پھلانگنے کی ویڈیوز آنا شروع ہو گئیں۔ ان ویڈیوز کے کچھ لمحوں بعد عمر ایوب اور اسد عمر الیکشن کمیشن پہنچ گئے۔

بظاہر پی ٹی آئی رہنما خود اعتماد نظر آنے کی کوشش کر رہے تھے لیکن اُن کی چہروں پر پریشانی بھی واضح تھی۔ کیونکہ فیصلہ آنے سے پہلے ہی صحافی حلقوں میں یہ چہ میگوئیاں ہو رہی تھیں کہ عمران خان کے حق میں فیصلہ نہیں آئے گا۔

اسی دوران چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کمیشن کے دیگر ممبران کے ہمراہ کمرہ عدالت میں میں داخل ہوئے۔ ان کے بیٹھتے ہی عمران خان کے وکیل نے شکایت کی کہ انھیں اجازت ہوتے ہوئے بھی دروازے کے باہر کھڑا رکھا گیا اور کافی مشکل سے اندر آنے دیا گیا۔

چیف الیکشن کمیشنر نے انھیں کہا کہ ’خاص طور سے کہا گیا تھا کہ وکلا کو تنگ نہ کیا جائے۔ آپ بے فکر ہو جائیں ہم اس کی پوچھ گچھ کریں گے۔‘

اس کے بعد اگلے دو سے تین منٹ کے اندر چیف الیکشن کمیشنر نے مختصر فیصلہ سُناتے ہوئے عمران خان کو نااہل قرار دے دیا۔ یہ فیصلہ متفقہ تھا لیکن ممبر پنجاب ناسازی طبعیت کے باعث اس موقع پر موجود نہیں تھے۔

فیصلہ آتے ہی پی ٹی آئی کے رہنما خاموشی سے پہلے بیٹھے رہے اور پھر ایک ایک کر کے باہر کی طرف نکلے۔ کچھ دیر کے لیے سیڑھیوں کے پاس وہ اپنے وکلا سے بات کرتے ہوئے اور فیصلے کو سمجھنے کی کوشش کرتے نظر آئے۔

یہ بھی پڑھیے

وکلا انھیں بتا رہے تھے کہ فیصلے کا مطلب کیا ہے اور یہ کہ کس بنیاد پر عمران خان کو ڈی سیٹ کیا گیا ہے۔

لیکن پھر ایک اور وکیل نے کہا کہ عمران خان پر حلف لینے کے بعد کرپشن کا الزام لگایا گیا ہے جس کے نتیجے میں انھیں پانچ سال کے لیے نااہل کیا گیا ہے۔

انھیں باتوں کو سمجھتے سمجھتے پی ٹی آئی رہنماؤں نے گیٹ کا رُخ کیا جہاں پر پی ٹی آئی کے کارکن پہلے سے ہی پُرجوش نعرے لگانے میں مصروف تھے۔ یہاں پر اسد عمر نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’مائنس عمران فارمولا نہیں چل سکتا۔ اس سے پاکستان میں جمہوریت بھی نہیں چلے گی۔‘

ای سی پی دفتر کے باہر جمع کارکنان ہر اس بندے کی تاک میں تھے جس کا تعلق مسلم لیگ نواز سے تھا۔ پہلے کارکنوں کے ایک بڑے گروہ نے عطا اللہ تارڑ کا پیچھا کیا، ان کے بعد مسلم لیگ ن کے رکنِ قومی اسمبلی بیرسٹر محسن نواز رانجھا کے پیچھے دوڑے۔ اس دوران مزید نفری بلا لی گئی لیکن پی ٹی آئی کارکنان ای سی پی کے باہر جمع رہے اور نعرے بازی کرتے رہے۔

اسی دوران ایک ہجوم سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کی جانب دوڑتا ہوا دکھائی دیا۔ ایک سوال کے جواب میں فواد چوہدری نے کہا کہ ’ہمیں بالکل ایسے فیصلے کی توقع تھی۔ لیکن اب انقلاب آ چکا ہے۔ ہم اپیل میں بھی جائیں گے اور سڑکوں پر بھی لڑیں گے۔‘