سارہ انعام قتل کیس: مرکزی ملزم شاہنواز امیر کی والدہ ضمانت خارج ہونے پر گرفتار

،تصویر کا ذریعہStephen Nash
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی پولیس نے پاکستانی نژاد کینیڈین شہری سارہ انعام کے قتل کیس میں مرکزی ملزم شاہنواز امیر کی والدہ ثمینہ شاہ کی ضمانت خارج ہونے پر انھیں گرفتار کر لیا ہے۔
بدھ کو اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت میں مرکزی ملزم شاہ نواز کی والدہ کی درخواست ضمانت پر سماعت کے موقع پر ایڈیشنل سیشن جج سہیل شیخ نے ملزمہ ثمینہ شاہ کی ضمانت خارج کی۔
یاد رہے کہ اسلام آباد کی مقامی عدالت نے اس سے قبل 27 ستمبر کو ملزم شاہنواز امیر کی والدہ ثمینہ شاہ کی طرف سے اپنی بہو کے قتل اور بیٹے کی گرفتاری کے تین بعد درخواست ضمانت پر ابتدائی طور پر عبوری ضمانت منظور کی تھی، جس میں بعد میں توسیع کی جاتی رہی۔
بدھ کو ہونے والی سماعت کے دوران ملزمہ ثمینہ شاہ اپنے وکلا کے ہمراہ، سارہ کے والد انجینئر انعام الرحیم، مقدمے کے مدعی اپنے وکیل راؤ عبد الرحیم کے ہمراہ اور کیس کے تفتیشی افسر ریکارڈ سمیت عدالت میں پیش ہوئے۔
مدعی کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ثمینہ شاہ اپنے بیانات کی بنیاد پر اس مقدمے میں ملزمہ نامزد کی گئیں۔ جس پر ثمینہ شاہ کے وکیل نے موقف اپنایا کہ ان کی موکلہ نے ملزم کو گرفتار کروانے میں پولیس کی مدد کی ہے اور یہ کہ ان کی فقط اتنی غلطی ہے کہ وہ وقوعہ کے وقت فارم ہاؤس میں موجود تھیں۔
ان کے وکیل ارسل ہاشمی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ فنگر پرنٹ یا اس کے علاوہ بھی کوئی ثبوت ثمینہ شاہ کے خلاف نہیں ہے۔

،تصویر کا ذریعہSOCIAL MEDIA
مدعی کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ دو دن پہلے سی سی ٹی وی بند کیوں ہوا اس کا جواب نہیں دیا گیا ہے، ثمینہ شاہ کا کردار صرف مدد کرنے کی حد تک ہے یا قتل میں بھی کردار ہے یہ تفتیش میں سامنے آئے گا۔
مدعی کے وکیل راؤ عبدالرحیم نے کہا کہ پولیس ریکارڈ کے مطابق ملزمہ ثمینہ شاہ کو مزید ضمانت نہیں دی جانی چاہیے، انھوں نے عدالت سے استدعا کی کہ ثمینہ شاہ کی مزید ضمانت قبل از گرفتاری خارج کی جائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
چنانچہ عدالت نے ملزمہ ثمینہ شاہ کی ضمانت خارج کر دی، جس کے بعد تھانہ شہزاد ٹاؤن کی پولیس نے انھیں کمرہ عدالت کے باہر سے گرفتار کر لیا۔

خیال رہے کہ 23 ستمبر کو سارہ انعام کو اسلام آباد کے علاقے چک شہزاد میں قتل کر دیا گیا تھا اور اس قتل کے الزام میں اُن کے شوہر شاہنواز امیر کو گرفتار کیا گیا تھا۔ شاہنواز کے والد اور سینیئر صحافی ایاز امیر کو بھی بعدازاں حراست میں لیا گیا تھا تاہم بعد ازاں انھیں شواہد کی عدم موجودگی کے باعث انھیں رہا کرنے کے احکامات جاری ہوئے تھے۔
جبکہ تین اکتوبر کو ہونے والی سماعت میں اسلام آباد کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سہیل شیخ کی عدالت نے سارہ انعام قتل کیس میں مرکزی ملزم شاہنواز امیر کی والدہ ثمینہ شاہ کی عبوری ضمانت میں توسیع کر دی تھی۔
یاد رہے کہ ستمبر کے آخری ہفتے میں ہونے والی سماعت میں اسلام آباد کی مقامی عدالت نے سارہ انعام کے قتل کے مقدمے سے سینیئر صحافی ایاز امیر کا نام نکالنے اور انھیں رہا کرنے کا حکم دیا تھا جبکہ پولیس نے شاہنواز کے فارم ہاؤس سے اسلحہ برآمد کرتے ہوئے ان کے خلاف ناجائز اسلحہ رکھنے کا مقدمہ درج کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہSocial Media
یہ بھی پڑھیے
واقعہ کیسے پیش آیا تھا؟
پولیس کے مطابق سارہ انعام کے قتل کا یہ واقعہ 23 ستمبر بروز جمعہ صبح 10 سے 11 بجے کے درمیان پیش آیا تھا۔ اس مقدمے کی ایف آئی آر کے مطابق قتل کی اس واردات کی اطلاع ملزم شاہنواز کی والدہ ثمینہ شاہ نے پولیس کو دی تھی۔
اطلاع ملنے پر پولیس چک شہزاد میں واقع فارم ہاؤس پہنچی تو ملزم نے پولیس کو دیکھتے ہی خود کو کمرے میں بند کر لیا تھا تاہم پولیس نے کمرہ کھلوانے کے بعد ملزم کو قابو میں کر لیا تھا۔
ایف آئی آر کے مطابق جب ملزم کو کمرے سے نکالا گیا تو اُن کے کپڑوں پر خون کے دھبے موجود تھے۔ ایف آئی آر کے مطابق ملزم نے ابتدائی تفتیش میں پولیس کو بتایا کہ انھوں نے لڑائی کے دوران اپنی اہلیہ سارہ انعام کے سر پر ڈمبل مارا اور بعدازاں ان کی لاش کو واش روم میں چھپا دیا۔
ایف آئی آر میں یہ بھی درج ہے کہ ملزم نے آلہ قتل یعنی ڈمبل بھی خود برآمد کروایا جس پر انسانی خون اور بال لگے ہوئے تھے۔ ایف آئی آر کے مطابق ملزم کا کہنا تھا کہ اس نے ڈمبل کے متعدد وار کر کے اپنی اہلیہ کا قتل کیا۔
























