سپرم عطیہ کرنے والے غیر رجسٹرڈ مرد حاملہ ہونے کی خواہش مند خواتین کا استحصال کیسے کرتے ہیں؟

A woman with long dark hair, wearing a black coat and scrolling on a phone. Behind her are images of sperm and a hand holding an empty sample pot with a red lid.
    • مصنف, گیما دونستان
    • عہدہ, بی بی سی نیوز
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 11 منٹ

ماں بننے کے لیے بے تاب خواتین خواتین کو جنسی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور انھیں آن لائن سستے اور غیر قانونی سپرم کے نمونوں کی پیشکشیں کی جا رہی ہیں۔

فرٹیلیٹی ٹریٹمنٹ تک رسائی نہ رکھنے والی کچھ خواتین نے سوشل میڈیا سائٹس پر آپشنز تلاش کرنا شروع کیے، جس کے سبب بے قاعدہ مارکیٹس بڑھ رہی ہیں۔ یہاں تک کچھ خواتین ’ٹنڈر فار سپرمز‘ ویب سائٹس کا بھی رُخ کر رہی ہیں۔

بی بی سی ویلز کی تحقیقات کے دوران نمونے کی ڈیلیوی کے لیے ایک ایسے شخص کو 100 پاؤنڈ ادا کیے گئے، جس نے آن لائن اپنی ’سپرم‘ کی تشہیر کی تھی اور اسے ٹماٹو پاساتا کے منجمد پیکٹ کے ساتھ ایک ڈبے میں بھیجا۔

برطانیہ کے فرٹیلیٹی ریگولیٹر نے خبردار کیا کہ خواتین ’عطیہ دہندگان کے ہاتھوں استحصال‘ کے خطرے سے دوچار ہیں۔

تحقیقات کے دران میں نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ آن لائن سپرم حاصل کرنا کتنا آسان ہے اور اس طرح کی خدمات پیش کرنے والے مردوں کی کوئی کمی نہیں تھی۔

ایک آن لائن اشتہار میں مجھے بتایا گیا کہ میں ڈاک کے ذریعے ڈیلیوری کے لیے جو ڈونر نامی شخص پر ’انحصار‘ کر سکتی ہوں۔

وہ ایک عادی عطیہ دہندہ ہیں جن کا دعویٰ ہے کہ دنیا بھر میں ان کے 180 بچے ہیں، جو جنسی تعلق اور مصنوعی بارآوری کے ذریعے پیدا ہوئے ہیں۔

کارڈف میں ایک مقدمے کے بعد فیملی کورٹ ایک جج نے غیر معمولی اقدام اٹھاتے ہوئے اس شخص کا نام رابرٹ البون عوامی طور پر ظاہر کر دیا تاکہ غیر منظم طریقے سے سپرم عطیہ کرنے کے خطرات سے خبردار کیا جا سکے۔

A bald man with stubble, wearing a black shirt and looking at the camera with a serious expression. He is against a plain pale blue background.

،تصویر کا ذریعہFabulous

،تصویر کا کیپشن’جو ڈونر‘ سپرم عطیہ کرنے کے بارے میں بات کرنے سے گھبراتے نہیں اور انھوں نے کافی انٹرویوز بھی دیے ہیں
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ہم نے ایک فرضی نام استعمال کرتے ہوئے ان سے رابطہ کیا اور صرف چند ای میلز اور ایک فون کال کے ذریعے اگلے دن ڈیلیوری کا انتظام ہو گیا۔

انھوں نے ہم سے اس بات کی تصدیق نہیں کہ ہم کون ہیں یا ہمیں صحت کی جانچ کے لیے کوئی ٹیسٹ کرنے کا نہیں کہا۔

انھوں نے ایک سرنج میں سپرم کے بدلے ہم سے ڈاک کے ذریعے نقد 100 پاؤنڈ وصول کیے، جسے ٹماٹو پاساتا کے ڈبے کو برف کی طرح استعمال کرتے ہوئے ٹھنڈا رکھا گیا تھا۔

ایک لائسنس یافتہ کلینک نے اس نمونے کی وصولی کے چار گھنٹوں بعد اس کا معائنہ کیا اور کہا کہ اس میں تمام سپرم سیلز مر چکے ہیں۔

رابرٹ نے ہم سے سوال کیا کہ ہم نے اسے کس طرح سے محفوظ رکھا اور کسی طرح سے اس منتقل کیا۔ انھوں نے کہا کہ عام طور پر بارآوری کے لیے کافی مقدار میں سپرم ڈیلیوری کے عمل کے دوران محفوظ رہتا ہے اور اس طریقے سے ان کے مطابق ’بہت سے حمل کامیابی‘ سے ٹھہر چکے ہیں۔

رابرٹ اور دیگر سینکڑوں مرد سپرم کی متلاشی خواتین سے رابطوں کے لیے فیس بُک کا استعمال کر چکے ہیں، وہاں موجود کچھ گروپس میں اراکین کی تعداد تقریباً 40 ہزار ہے۔

میں ایک خالی پروفائل کے ساتھ ایک ڈونر گروپ میں شامل ہوئی اور مجھے کچھ ایسے پیغامات بھی موصول ہوئے جو بظاہر حقیقی لگ رہے تھے لیکن بہت سے پیغامات میں جنسی تعلق کی پیشکش کی گئی یا نمونوں کے بدلے قیمتوں کا ذکر کیا گیا، نجی تصاویر مانگی گئیں اور مسلسل پیغامات بھیج کر انتظامات کرنے کی کوشش کی گئی۔

کچھ مرد مجھے مسلسل سیکس کے لیے کہتے رہے اور قائل کرنے کی کوشش کرتے رہے کہ یہ سب سے سستا اور مؤثر طریقہ ہے۔

ٹماٹو پاساتا

میں نے ایک خاتون کو یہ تنبیہ کرتے ہوئے دیکھا کہ انھیں شمالی ویلز کے ایک شخص سے عطیہ ملا تھا، جس کے بارے میں بعد میں انھیں معلوم ہوا کہ وہ ایک سزا یافتہ جنسی مجرم ہے۔

ہیومن فرٹیلائزیشن اینڈ ایمبریالوجی اتھارٹی (ایچ ایف ای اے) نے بےضابطہ عطیات کو ایسے عطیے کے طور پر بیان کیا ہے جو ایچ ایف ای اے کے کسی بھی لائسنس یافتہ مرکز کی حدود سے باہر ہے اور مزید بتایا کہ یہ برطانیہ میں ایک جرم ہے۔

ٹیانا اور ان کی اہلیہ نکّی نے بھی ساؤتھ ویلز میں بےضابطہ عطیات کی طرف رُخ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ این ایچ ایس کی فنڈنگ کے اہل نہیں تھے اور نجی ٹریٹمنٹ انتہائی مہنگا تھا۔

ٹیانا کہتی ہیں کہ ’میں ہمیشہ جانتی تھی کہ میں ماں بننا چاہتی ہوں، ہمیں معلوم تھا کہ ہمارے خاندان میں کسی چیز کی کمی ہے۔ ‘

انھوں نے مزید کہا کہ وہ خطرات سے آگاہ ہیں اور ممکنہ عطیہ دہندگان کی جانب سے کسی بھی دباؤ کے بارے میں بھی محتاط ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’آپ کو ایسے عجیب لوگ بھی ملتے ہیں جو اس کام میں بالکل غلط وجوہات کی بنا پر شامل ہوتے ہیں۔‘

’ایک ویب سائٹ ہے، یہ کسی حد تک کیٹلاگ اور ٹنڈر جیسی ہے، جہاں آپ آنکھوں کے رنگ، بالوں کے رنگ کے مطابق فلٹر لگا سکتے ہیں تاکہ آپ بالکل وہی چیز تلاش کر سکیں جس کی آپ کو ضرورت ہو۔‘

اس جوڑے نے مصنوعی بارآوری کا انتخاب کیا تھا تاہم ان کا کہنا تھا کہ مرد اکثر جنسی تعلق کو بہترین آپشن کے طور پر تجویز کرتے تھے۔

ٹیانا کہتی ہیں کہ ’میرے خیال میں یہ ہمارے لیے واقعی مددگار تھا کہ میں اور میری اہلیہ ایک دوسرے کے ساتھ تھے، اس لیے کوئی ہمیں کسی ایسی چیز کے لیے دباؤ میں نہیں لا سکتا تھا جو ہم نہیں کرنا چاہتے تھے کیونکہ جب آپ کی خواہش صرف ایک بچے کی ہوتی ہے، تو آپ ایک بہت نازک صورتحال میں ہوتے ہیں۔‘

A woman with long dark hair wearing a black top and smiling at the camera. She is sat down with a blurred living room space behind her.
،تصویر کا کیپشنجنوبی ویلز سے تعلق رکھنے والی تیانا کا کہنا ہے کہ جب آپ کو بچے کی خواہش ہوتی ہے تو آپ ’بہت کمزور حالت میں ہوتے ہیں‘

ٹیانا اور نکی کو بالآخر ایک کو پیرنٹنگ ویب سائٹ پر ایک ایسا ڈونر ملا جس پر انھیں اعتماد محسوس ہوا اور انھوں نے ایک کنٹریکٹ تیار کیا تاکہ تمام فریقین ان کے رابطوں اور والدین کے حقوق سے متعلق منصوبوں سے آگاہ ہوں۔

لیکن اس کنٹریکٹ کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔

ٹیانا اعتراف کرتی ہیں کہ ’مستقبل میں اس بات کا اب بھی امکان موجود ہے کہ وہ آ سکتے ہیں اور والدین کے حقوق کا دعویٰ کرتے ہوئے ہمیں عدالت لے جا سکتے ہیں۔‘

’لیکن میں سمجھتی ہوں کہ ہم نے ایسا ہونے سے روکنے کے لیے جتنا ممکن تھا وہ سب کچھ کر لیا اور مجھے واقعی یقین ہے کہ وہ ہمارے ساتھ ایسا کبھی نہیں کریں گا۔‘

اب ان کا ایک برس کا بیٹا ہے۔

’ہم اسے ایک لمبے عرصے سے چاہتے تھے۔ ظاہر سی بات ہے ہم نے ایک رسک تو لیا لیکن یہ رسک لیا جا سکتا تھا۔‘

کسی قائدے یا قانون کے بغیرعطیہ دینے والے مختلف طریقوں سے خدمات دیتے ہیں۔ کچھ بلا معاوضہ تعلق قائم کرتے ہیں جبکہ کچھ مصنوعی بارآوری کے لیے دنیا بھر میں سفر کے اخراجات لیتے ہیں۔

25 سالہ ڈینیئل باین امریکہ میں رہتے ہیں لیکن وہ 2025 کے موسمِ گرما میں مصنوعی بارآوری کے ذریعے عطیہ دینے کے لیے برطانیہ گئے۔

اس سفر کے نتیجے میں چار بچوں کی پیدائش ہوئی۔

بی بی سی نے ڈین کے ساتھ تین دن فلم بندی کی۔ وہ آن لائن ویڈیوز میں خود کو ’سب سے زیادہ معاوضہ لینے والا عطیہ دہندہ‘ اور ساتھ ہی ’بغیر منافع کام کرنے والا‘ کہتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’عطیہ وصول کرنے والے کو صرف سفر کے نہیں بلکہ میرے طبی اور رہائشی اخراجات بھی دینے ہوتے ہیں۔ اس میں رابطہ، صحت، انسٹاگرام پر پوسٹ کرنا، معلومات دینا اور آگاہی بھی شامل ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ وہ برطانیہ میں صرف سفر کے اخراجات لیتے ہیں لیکن بعض دیگر مواقع پر انھوں نے کہا کہ انھیں ایک عطیے کے لیے 20,000 امریکی ڈالر تک کی پیشکش ہوئی۔

جب بی بی سی نے ان سے ان لوگوں سے فائدہ اٹھانے کے بارے میں سوال کیا جن کے پاس پیسہ ہو سکتا ہے تو انھوں نے کہا کہ ’مجھے اس کی پرواہ نہیں کہ لوگ کیا سوچتے ہیں۔ مجھے اس بات کی فکر ہے کہ بچوں اور ان خاندانوں کے لیے کیا بہتر ہے جن کے ساتھ میں کام کرتا ہوں۔‘

ڈین خود کو ’اوپن ڈونر‘ کہتے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ بچے ان کی شناخت جان سکیں۔ وہ اپنی زندگی اور صحت کے ٹیسٹ کے نتائج کے بارے میں ویڈیوز بھی شیئر کرتے ہیں لیکن ہر بات نہیں بتاتے۔

انھوں نے کہا کہ ’بطور عطیہ دہندہ اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کے لیے بہتر ہے کہ آپ کے نام پر زیادہ اثاثے نہ ہوں، تاکہ کوئی آپ کی زندگی اور خاندان کو نقصان نہ پہنچا سکے۔‘

’میرا خیال ہے کہ آپ کو اپنی صحت اور اپنی سکریننگ کے بارے میں جھوٹ نہیں بولنا چاہیے لیکن ایک چیز جس کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں دینی چاہیے وہ یہ کہ آپ کہاں کام کرتے ہیں، کیا کرتے ہیں، یا وہ معلومات جن سے لوگ آپ پر مقدمہ کر سکیں، جیسے آپ کا مکمل نام یا پتہ۔‘

ڈین نے دعویٰ کیا کہ انھوں نے برطانیہ میں عطیہ دیتے ہوئے کوئی قانون نہیں توڑا۔

برطانیہ میں لائسنس یافتہ کلینکس کو ہیومن فرٹیلائزیشن اینڈ ایمبریولوجی(ایچ ایف ای اے) کے تحت منظم کیا جاتا ہے، جنھوں نے اپنی ویب سائٹ پر ایک صفحہ بنایا ہے جہاں لوگ قانون سے واقفیت حاصل کر سکتے ہیں۔

اس ادارے کے مطابق انھوں نے کئی سرگرم غیر منظم عطیہ دہندگان کو پولیس کے حوالے کیا۔

ان کا کہنا ہے کہ ’یہ جاننا اہم ہے کہ غیر منظم عطیہ دہندہ سے مدد لینا کوئی فوجداری جرم نہیں اور آپ قانون نہیں توڑ رہے ہوتے لیکن عطیہ دہندگان یا اس عمل میں شامل دیگر افراد جو سپرم دستیاب کرواتے ہیں، ایک سنگین جرم کر رہے ہو سکتے ہیں۔‘

اس ادارے کے قوائد کے مطابق ’انسانوں کے استعمال کے لیے گیمیٹس (یعنی انڈے یا سپرم) کا استعمال، ذخیرہ، حصول، جانچ، پراسیسنگ اور تقسیم‘ سب غیر قانونی ہیں، جب تک یہ کام ایچ ایف ای اے کے لائسنس یافتہ کلینک میں نہ کیے جائیں۔

ایچ ایف ای اے میں حکمتِ عملی اور کارپوریٹ امور کی ڈائریکٹر کلیر ایٹنگہاؤزن نے کہا کہ ہمیں البون کی جانب سے سپرم کی ترسیل ’حیران کن‘ لگی۔

انھوں نے کہا کہ قانون بالکل واضح ہے کہ ایچ ایف ای اے کے لائسنس کے بغیر آپ سپرم کو پراسیس نہیں کر سکتے، اور نہ ہی اسے تقسیم کر سکتے ہیں۔‘

A man with short blonde hair and a beard, wearing a white t shirt and smiling at the camera. He is stood on a bridge with city skyscrapers behind him.

،تصویر کا ذریعہDaniel Bayen

،تصویر کا کیپشنڈینیئل باین کا کہنا ہے کہ وہ بیک وقت سب سے زیادہ معاوضہ لینے والے ڈونر بھی ہیں اور بغیر منافع بھی کام کرتے ہیں

اس کے جواب میں البون نے کہا کہ یہ ضوابط ان پر لاگو نہیں ہوتے کیونکہ ان کے مطابق رقم وصول کرنے سمیت نجی عطیات دینا ان کے لیے قانونی ہے۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ کسی کمزور خاتون کے لیے ’براہِ راست خطرہ‘ نہیں۔

ایٹنگہاؤزن نے مارچ میں برطانیہ کی پارلیمنٹ کی ایک کمیٹی میں یہ معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا کمپنی میٹا ’قانون کی خلاف ورزی میں مدد فراہم کر رہی ہے۔‘

ایچ ایف ای اے نے کہا کہ اس نے اس معاملے پر براہِ راست میٹا سے بھی رابطہ کیا تاہم ایٹنگہاؤزن نے مزید کہا کہ وہ اس حوالے سے ’حقیقت پسند‘ ہیں کہ اس طرح کے سوشل میڈیا گروپس کو مکمل طور پر بند کرنے سے یہ عمل کہیں اور منتقل ہو جائے گا۔

’مسلسل صحت سے متعلق خبردار کرنا اور لوگوں کو یہ بتانا کہ مدد اور محفوظ علاج کہاں سے حاصل کیا جا سکتا ہے، اس مسئلے کو مکمل طور پر حل نہیں کرے گا لیکن یہ مددگار ضرور ہو گا۔‘

انھوں نے ذاتی تحفظ کے بارے میں بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ’ان میں سے کچھ عطیہ دہندگان صرف قدرتی طریقے سے بارآوری کی شرط رکھتے ہیں جو بعض صورتوں میں خواتین کو ایسے تعلق پر مجبور کرنے کے مترادف ہے جو وہ شاید نہ چاہتی ہوں۔‘

میٹا نے کہا کہ وہ ’شیئر کیے گئے کسی بھی گروپس یا پوسٹس کا جائزہ لے گی اور ایسے مواد کو ہٹا دے گی جو قواعد کی خلاف ورزی کرتا ہو۔‘

میٹا کے مطابق ’ہمارے پاس ریگولیٹرز کے لیے ایک مخصوص رپورٹنگ طریقہ کار موجود ہے تاکہ وہ ایسے مواد کی نشاندہی کر سکیں جو ان پالیسیوں کی خلاف ورزی تو نہیں کرتا۔ ہم اس معاملے پر متعلقہ حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں۔‘

نیشنل پولیس چیفس کونسل کے ایک ترجمان نے کہا کہ ’غیر منظم سپرم عطیہ دینا کئی خطرات کا باعث بنتا ہے اور کمزور افراد کا استحصال کر سکتا ہے۔ ہم عوام کو سختی سے مشورہ دیتے ہیں کہ وہ خطرات کو سمجھیں اور منظور شدہ طریقوں کو اختیار کریں۔‘

’اگر کسی کو کوئی تشویش ہو تو ہم انھیں پولیس کو اطلاع دینے کی ترغیب دیں گے تاکہ ہم مدد فراہم کر سکیں اور تحقیقات کر سکیں۔‘