ہاشم ڈوگر: پنجاب کے سابق وزیر داخلہ تحریک انصاف کی کن اُمیدوں پر پورا نہیں اُتر سکے؟

،تصویر کا ذریعہAPP
- مصنف, محمد منصور
- عہدہ, صحافی
- وقت اشاعت
پنجاب کے سابق وزیر داخلہ کرنل ریٹائرڈ محمد ہاشم ڈوگر نے جب سے اپنے عہدے کا حلف لیا تھا تب سے وہ اپنے بیانات اور متنازع خبروں کی وجہ سے میڈیا میں نظر آ رہے تھے۔
صوبہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے پاکستان تحریک انصاف کے چند رہنماؤں کے مطابق ہاشم ڈوگر کو روایتی اور سوشل میڈیا میں متنازع بنانے والوں میں کوئی اور نہیں بلکہ اُن کی اپنی ہی پارٹی، پی ٹی آئی، کے چند سینیئر رہنما اور ورکرز شامل تھے۔
ضلع قصور سے ممبر صوبائی اسمبلی منتخب ہونے والے ہاشم ڈوگر نے لگ بھگ دو ماہ تو اپنے بیانات کا دفاع کرتے رہے لیکن آخر کار گذشتہ منگل کی شام اچانک انھوں نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ اس استعفے کے ساتھ ہی قیاس آرائیوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ بھی شروع ہو گیا۔
ہاشم ڈوگر کا استعفیٰ اس وقت آیا، جب تحریک انصاف کو صوبہ پنجاب میں ایک مضبوط وزیر داخلہ کی ضرورت تھی تاکہ وہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے لانگ مارچ کے اعلان کو عملی جامہ پہنا سکے۔
ہاشم ڈوگر نے اپنے ہاتھ سے لکھے ہوئے استعفے میں کہا کہ وہ ’ذاتی وجوہات‘ اور کچھ ’صحت کے معاملات‘ کی بنا پر وزارت سے استعفیٰ دے رہے ہیں اور یہ کہ مستقبل میں وہ ایک ادنی کارکن کی حیثیت سے پارٹی کے لیے کام کرتے رہیں گے۔
تحریک انصاف کے رہنما اور ورکرز گذشتہ دو ماہ سے اُن سے مطالبہ کر رہے تھے کہ وہ صوبے میں مسلم لیگ (ن) کی قیادت اور ان تمام پولیس اور سول افسران کے خلاف ایکشن لیں جنھوں نے پارٹی کے 25 مئی کو ہونے والے لانگ مارچ کے شرکا پر تشدد کیا اور مقدمات درج کیے تھے۔
تحریک انصاف کے رہنما مسلم لیگ (ن) کے ان ممبران صوبائی اسمبلی کے خلاف اقدام کرنے کا بھی مطالبہ کر رہے تھے جنھوں نے تحریک انصاف کے ایم پی ایز پر پنجاب اسمبلی میں مبینہ تشدد کیا تھا لیکن تحریک انصاف اور (ق) لیگ کی مخلوط حکومت اس حوالے سے جو ایکشن بھی لے رہی تھی پارٹی کے رہنما اور ورکرز اس سے بالکل مطمئن نہیں تھے۔

،تصویر کا ذریعہ@ColhashimDogar
پنجاب کابینہ کے ایک رُکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پارٹی چیئرمین عمران خان ہاشم ڈوگر سے اس حوالے سے بھی نالاں تھے کہ کس طرح وفاقی حکومت نے پنجاب حکومت کے نوٹس میں آنے سے پہلے پہلے سینکڑوں کنٹینرز اسلام آباد میں جمع کر لیے تاکہ تحریک انصاف کے لانگ مارچ کو روکا جا سکے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کابینہ کے رکن نے مزید دعویٰ کیا کہ ان تمام معاملات کے تناظر میں عمران خان نے خود کرنل ڈوگر سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا تھا۔
اب اطلاعات کے مطابق سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کو اُن کی جگہ پر وزیر اعلیٰ کا مشیر برائے داخلہ بنایا جا رہا ہے، تاہم اس حوالے سے نوٹیفیکیشن ہونا ابھی ہونا باقی ہے۔
ہاشم ڈوگر نے مستعفی ہونے کے بعد بدھ کی شب ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’عمران خان چاہتے تھے کہ عمر سرفراز چیمہ کو وزارت داخلہ دی جائے۔ ان کا حکم سر آنکھوں پر۔ میں نے وزارت داخلہ چھوڑ دی ہے۔ عمران خان حکم دیں گے تو میں سیاست ہی چھوڑ دوں گا۔‘
اس ٹویٹ سے قبل ایک اور ٹویٹ میں انھوں نے کہا تھا کہ ’چیئرمین عمران خان ٹیم کے کپتان ہیں اور وہ کبھی بھی بیٹنگ اور فیلڈنگ آرڈر تبدیل کر سکتے ہیں۔ مجھے ذاتی طور پر اُن کے ہر فیصلے پر اعتماد ہے۔‘
پنجاب کابینہ کے ایک اور رُکن نے بتایا کہ ہاشم ڈوگر کی وفاداریاں اسٹیبلشمنٹ اور تحریک انصاف کے درمیان تقسیم ہو کر رہ گئی تھیں۔ اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ ’جو اسٹیبلشمنٹ کہلوا رہی تھی وہ تحریک انصاف کو پسند نہیں آرہا تھا اور جو پارٹی کہلوا رہی تھی وہ اسٹیبلشمنٹ کو پسند نہیں آ رہا تھا۔‘
تحریک انصاف کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ہاشم ڈوگر نے وزارت سنبھالنے کے فوراً بعد عمران خان کے چیف آف سٹاف شہباز گل کی گرفتاری اور تشدد کے بارے میں جو بیانات دیے، وہ پارٹی مؤقف سے متصادم تھے۔
اسی طرح کچھ دن پہلے ہاشم ڈوگر کو اردو نیوز کو دیے گئے بیان، کہ پنجاب حکومت لانگ مارچ کے لیے سرکاری وسائل استعمال نہیں کرے گی، پر بھی انھیں شدید تنقید کا سامنا تھا۔ اس بیان کے ایک روز بعد ہی ہاشم ڈوگر نے اس کی تردید اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کی اور کہا کہ ان کا بیان ایک نجی چینل نے بغیر سیاق و سباق کے چلایا۔
ہاشم ڈوگر نے اپنے ویڈیو بیان میں یہ بھی کہا کہ ’یہ ہمارا سیاسی مارچ ہے، ہم پنجاب حکومت سے مدد لے کر وفاق پر حملہ کرنے نہیں جا رہے۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ پنجاب پولیس پنجاب میں تمام جلوسوں کو سکیورٹی دے گی تاکہ کوئی ناخوشگوار واقعہ نہ ہو۔
ہاشم ڈوگر نے یہ بھی کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے جو مقدمات 23, 24 اور 25 مئی کو تحریک انصاف کے رہنماؤں، کارکنان اور شہریوں کے خلاف درج کیے تھے وہ سب واپس لے لیے گئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ 25 ایس ایچ او معطل کر دیے گئے جبکہ باقی کے خلاف کارروائی، انکوائری کے بعد کی جائے گی۔
انھوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے خلاف بھی مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہTwitter
تحریک انصاف کے ایک صوبائی وزیر کا کہنا ہے کہ ہاشم ڈوگر کے بیانات پارٹی کے مؤقف کے برعکس تھے لیکن یہ معاملہ اس لیے زیادہ بڑھ گیا کہ پارٹی کے رہنما اور کارکنان ہر چیز کو فوراً سوشل میڈیا پر لے جاتے ہیں۔
اس وقت میڈیا میں کچھ اور وزیروں کے استعفوں کے حوالے سے قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں۔ وزیر برائے کان کنی اور معدنیات لطیف نظر بھی اپنے عہدے سے مستعفی ہو چکے ہیں لیکن اس بارے میں نئے مشیر داخلہ عمر سرفراز چیمہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے استعفیٰ ضمنی انتخابات میں انتخابی مہم کی وجہ سے دیا اور یہ کہ وہ بعد میں دوبارہ کابینہ میں شامل ہو جائیں گے۔
پنجاب میں نئے تعینات ہونے والے مشیر داخلہ عمر سرفراز چیمہ کا کہنا ہے کہ عمران خان نے جو ذمہ داری ان کو دی ہے وہ پورے جذبے اور ایمانداری سے نبھائیں گے۔
انھوں نے کہا کہ کچھ چیزیں ہاشم ڈوگر کے دور میں منطقی انجام تک پہنچ جانی چاہیے تھیں جو تعطل کا شکار ہوئیں۔ انھوں نے کہا کہ 25 مئی کے واقعے کے حوالے سے جو کمیٹی بنی تھی اب تک اس کے نتائج اور سفارشات سامنے آ جانی چاہیے تھیں اور جو 25 مئی کے حوالے سے کمیشن بنا اس کو فعال ہو جانا چاہیے تھا۔
یہ بھی پڑھیے
انھوں نے کہا کہ پنجاب حکومت کی کوشش ہو گی کہ قانون کی حکمرانی ہو اور عوام کے جان و مال کو تحفظ ملے۔ ’جن مافیاز کے خلاف ہم 26 سال سے مقابلہ کر رہے ہیں ان کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔‘
پاکستان تحریک انصاف کی ایڈیشنل جنرل سیکریٹری ویمن ونگ ثانیہ کامران کا کہنا ہے کہ کرنل ہاشم ڈوگر کی تبدیلی پارٹی پالیسی ہے۔
’لیڈرشپ کا جو بھی فیصلہ ہو، اسی پر عمل درآمد ہوتا ہے۔ پارٹی کو نئے تعینات ہونے والے مشیر داخلہ عمر سرفراز چیمہ سے کافی امیدیں وابستہ ہیں کہ وہ اسی طرح دبنگ طریقے سے کام کریں گے جس طرح انھوں نے بطور گورنر پنجاب کیا تھا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تحریک انصاف کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات عامر مغل کا بھی کہنا ہے کہ ہاشم ڈوگر کی تبدیلی ایک معمول کی کارروائی ہے۔ عمران خان پارٹی چیئرمین کے طور پر جانتے ہیں کہ کس کو، کس وقت، کہاں کھلانا ہے۔
دوسری جانب وزیر اعلیٰ کے میڈیا کوآرڈینیٹر برائے اطلاعات محمد عثمان کا کہنا ہے کہ پنجاب میں پارٹی کی درمیانی سطح پر ہاشم ڈوگر کے خلاف شکایات سُنائی دیتی رہیں کہ پارٹی نے جو ذمہ داریاں ان کو دی تھیں وہ ان امیدوں اور توقعات پر پورا نہیں اُتر رہے تھے۔
’تحریک انصاف کا کارکن ہوں، وہ کروں گا جو پارٹی کے چیئرمین حکم دیں گے‘
دوسری جانب جب سابق وزیر داخلہ ہاشم ڈوگر سے ان پر لگنے والے الزامات پر بات کی گئی تو انھوں نے کہا کہ وزارت داخلہ بہت مشکل اور دباؤ والی وزارت ہے چونکہ وہ خود بیس سال سے ذیابیطس کے مریض ہیں تو عمران خان نے انھیں کہا کہ ہم آپ کی وزارت تبدیل کر دیتے ہیں۔
’انھوں نے خود مجھے یہ وزارت دی تھی، اب انھوں نے خود ہی تبدیل کر دی۔‘
ہاشم ڈوگر نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ نے ان کا وزارت سے استعفی منظور نہیں کیا اور صرف محکمہ بدل کر آبپاشی کا وزیر لگا دیا۔
شہباز گل پر تشدد کے حوالے سے اپنے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ میں اپنے بیان پر قائم ہوں کہ شہباز گل پر تشدد جیل میں نہیں بلکہ اسلام آباد تھانے میں ریمانڈ کے دوران ہوا تھا۔
فوج کے ساتھ وفاداریوں کے حوالے سے کرنل ہاشم نے کہا کہ اگر کوئی کہے کہ میری فوج کے ساتھ کوئی وفاداری نہیں تو یہ بالکل فضول بات ہے۔
’میں نے تیس سال فوج میں کام کیا ہے اور یہ ہمارے ملک کی فوج ہے۔‘
فوج کے ساتھ رابطوں کے بارے میں انھوں نے کہا میرا دو ماہ میں فوج کے کسی بھی سینیئر افسر سے رابطہ نہیں رہا۔
’میں تحریک انصاف کا کارکن ہوں اور وہ کروں گا جو پارٹی کے چیئرمین حکم دیں گے۔ چیئرمین کا حکم تھا کہ کسی سے رابطہ نہیں رکھا جائے گا، تو میں نے کوئی رابطہ نہیں رکھا۔‘
























