قانون شہریت کا متنازع سیکشن: کیا پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ پاکستانی خواتین کے غیر ملکی شوہروں کو پاکستانی شہریت دلا سکے گا؟

افغان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, محمد زبیر خان
    • عہدہ, صحافی
  • وقت اشاعت

’لگتا ہے کہ پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد اب ہم ایک پُرسکون زندگی گزارنے کے قابل ہو جائیں گے۔ میرے بچے بھی اپنے والد سے مل سکیں گے اور میرے شوہر بھی اپنے بچوں کی دیکھ بھال اور تربیت کر سکیں گے۔‘

یہ کہنا تھا کہ پشاور ہائی کورٹ میں قانون شہریت کے سیکشن 10 کو چیلنج کرنے والی پاکستانی خاتون کا، جن کی چند سال قبل ایک افغان شہری کے ساتھ شادی ہوئی تھی۔

ایڈووکیٹ سیف اللہ محب کاکا خیل کے مطابق دائر کردہ درخواست میں ہائی کورٹ سے استدعا کی گئی تھی کہ سیٹیزن شپ ایکٹ (قانون شہریت) کے سیکشن 10 کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دیا جائے جو پاکستانی خواتین کو کسی غیر ملکی شہری سے شادی کے بعد ان کے شریک حیات کو پاکستانی شہریت دینے سے روکتا ہے۔

پشاور ہائیکورٹ نے اس درخواست پر فیصلہ سُناتے ہوئے شہریت کے قانون کے سیکشن دس کو ختم کرنے کا فیصلہ جاری کیا ہے۔

سیف اللہ محب کاکا خیل ایڈووکیٹ کے مطابق اس شق کے ختم ہونے کے بعد اب پاکستانی خواتین کے غیر ملکی شوہر بھی پاکستانی شہریت حاصل کرنے کے حق دار ہوں گے۔

اس درخواست پر تحریری فیصلہ پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس عبدالشکور پر مشتمل دو رکنی بینچ نے جاری کیا۔ حکومت کے پاس اس فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کے لیے 60 دن کی مہلت موجود ہے۔ اگر حکومت نے اس پر اپیل نہ کی تو سیٹیزن شپ ایکٹ کا سیکشن 10 ختم ہو جائے گا۔

شہریت کے قانون کے سیکشن 10 کے خلاف درخواست دائر کرنے والی خاتون اور ان کے شوہر کو ہی نہیں بلکہ کئی دیگر افغان شہریوں کو یہ فیصلہ آنے کے بعد توقع پیدا ہو چکی ہے کہ شاید ان کی مشکلات کچھ کم ہو جائیں۔

ایسے ہی ایک خاندان کا کہنا تھا کہ ہمیں اس درخواست پر فیصلے کا انتظار تھا۔ اب شاید کئی سال بعد ہمیں ہمارا حق یعنی پاکستانی شہریت مل سکے۔

’دادا نے سنہ 1935 میں پاکستانی دادی سے شادی کی تھی‘

شادی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنپاکستانی قانون کے تحت پاکستانی مرد اگر کسی غیر ملکی خاتون سے شادی کرتے ہیں تو ان کی ساتھی اس بات کی حق دار ہے کہ وہ پاکستانی شہریت حاصل کر سکے مگر یہ حق خاتون کو نہیں دیا گیا ہے

اس درخواست پر فیصلے کا انتظار کرنے والے خاندان کے سربراہ کہتے ہیں کہ تقسیم برصغیر سے قبل ان کے دادا پاکستان میں تجارت کرتے تھے۔

’وہ افغانستان اور پاکستان کے علاقوں سے مال تجارت لاتے لے جاتے تھے۔ اسی دوران انھوں نے چارسدہ میں ہماری دادی سے شادی کی تھی۔ دادی سے شادی کرنے کے بعد انھوں نے اپنی رہائش پاکستان میں رکھی اور افغانستان کاروبار اور دیگر معاملات کے سلسلے سے آنا جانا لگتا رہتا تھا۔ قیام پاکستان کے بعد بھی انھوں نے اپنی رہائش پاکستان ہی میں رکھی۔‘

’میرے دادا اتنے پڑھے لکھے نہیں تھے۔ ویسے بھی چند سال پہلے تک لوگوں کا پاکستان اور افغانستان میں رہائش اختیار کرنا اور سفر کرنا اتنا بڑا مسئلہ نہیں تھا۔ میری والدہ کا تعلق بھی چارسدہ سے ہے اور وہ پاکستانی ہیں۔ اس وقت ان کی عمر 60 سال سے زائد ہے۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ ’وقت گزرتا گیا، میری شادی بھی پاکستانی شہریت رکھنے والی خاتون سے ہوئی۔ اب کئی سال بعد جب بارڈر کے معاملات پر سختی پیدا ہوئی تو ہمیں پاکستانی شہریت کی ضرورت پڑی تو ہمیں کہا گیا کہ ہم افغان ہیں، پاکستانی نہیں۔‘

’ہم پیدا پاکستان میں ہوئے، تعلیم یہاں پر حاصل کی اور کاروبار بھی یہاں پر کر رہے ہیں۔ ہمارے بچے بھی پاکستان میں پیدا ہوئے۔ میں اردو بہت اچھے سے بولتا ہوں اور مجھے وہ پشتو نہیں آتی جو افغانستان میں بولی جاتی ہے۔ ہمارا جینا مرنا پاکستان میں ہے مگر ہمیں کہا گیا کہ ہمیں پاکستانی شہریت نہیں مل سکتی۔‘

’پاکستانی شہریت نہ ملنے سے زندگی عذاب ہو چکی ہے۔ ہر کچھ عرصے کے لیے ویزا کی تجدید کروانی پڑتی ہے۔ اگر تجدید کروانے میں کچھ وقت لگ جائے تو ہمیں افغانستان جانا پڑتا ہے۔ ہمارے بچے کوئی ملازمت نہیں کر سکتے۔ ناکوں پر پولیس گاڑیوں سے اتار کر جیلوں میں بند کر دیتی ہے۔ مشکلات کی ایک لمبی کہانی ہے۔‘

اس صورتحال کا صرف ہم ہی شکار نہیں بلکہ سینکٹروں خاندان، جوڑے اور ان کے بچے بھی ہیں۔ اب ہم سب لوگ دوبارہ پاکستانی شہریت حاصل کرنے کے لیے احکام سے رجوع کریں گے۔

پاسپورٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

درخواست میں کیا کہا گیا؟

سیف اللہ محب کاکا خیل ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ ہم نے درخواست میں استدعا کی تھی کہ سیٹیزن شپ ایکٹ کا سیکشن 10 امتیازی سلوک کے بارے میں ہے۔

’پاکستانی مردوں کی غیر ملکی بیویوں کو پاکستانی شہریت حاصل کرنے کی اجازت حاصل ہے تو یہ ہی سلوک پاکستانی خواتین کے غیرملکی شوہروں کے ساتھ کیوں نہیں؟‘

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنی رٹ پیٹیشن میں بتایا کہ مذکورہ قانون کو وفاقی شرعی عدالت کئی سال پہلے غیر قانونی، غیر آئینی اور غیر اخلاقی قرار دے چکی ہے۔ اسی طرح ہم نے عدالت سے درخواست کی کہ یہ قانون پاکستان کے آئین کے متصادم ہے جس میں پاکستان کے ہر شہری کو برابر کے حقوق حاصل ہیں۔

سیف اللہ محب کاکا خیل ایڈووکیٹ کے مطابق درخواست میں بتایا کہ مذکورہ قانون کئی بین الاقوامی معاہدوں اور قوانین کے بھی برخلاف ہے۔ اس قانون کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دینے کے بعد پاکستان کی خواتین کے حقوق کا تحفظ ہو گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنی پیٹیشن میں استدعا کی تھی کہ مذکورہ قانون کو غیر قانونی قرار دے کر مدعیہ خاتون کے خاوند، جو اس وقت بیرون ملک میں ملازمت کر رہے ہیں، انھیں پاکستانی شہریت دی جائے۔

جس پر عدالت نے ہماری درخواست کو منظور کرتے ہوئے حکم جاری کیا ہے کہ مدعیہ خاتون کے خاوند کو پاکستان اوریجن کارڈ جاری کیا جائے۔ اس کے بعد انھیں پاکستان داخلے کے لیے ویزا کی ضرورت نہیں ہو گی۔

یہ بھی پڑھیے

’حکومت اپیل نہ کرے اور پارلیمنٹ قانون کو تبدیل کرے‘

پشاور ہائی کورٹ ایبٹ آباد بینچ بار کے صدر اور انسانی حقوق کے کارکن مہدی زمان ایڈووکیٹ کہتے ہیں کہ سیٹیزن شپ ایکٹ کا سیکشن 10 ایک متنازع قانون ہے۔

’اس کے خلاف اس سے پہلے بھی فیصلے آئے ہیں۔ سنہ 2016 میں ملتان ہائی کورٹ لاہور بینچ نے ایک انڈین شہری کو پاکستانی بیوی کی درخواست پر پاکستانی شہریت دی تھی۔‘

’سیکشن 10 کے خلاف اور بھی کئی فیصلے ہیں۔ یہ کئی خاندانوں کے آپس میں ملنے میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے۔ یہ کئی خاندانوں کی ایک نارمل زندگی گزارنے میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ اس سیکشن کے خلاف کئی مرتبہ آواز بلند کی گئی ہے مگر اس کو ابھی تک ختم نہیں کیا گیا۔‘

مہدی زمان ایڈووکیٹ کہتے ہیں کہ پاکستان، انڈیا، افغانستان اور بنگلہ دیش میں رہائش پذیر لوگوں کے آپس میں تاریخی تعلقات ہیں۔

’ان لوگوں کی آپس میں رشتہ داریاں ہیں۔ کئی خاندان آپس میں رشتہ داریوں کو مستحکم کرنے کے لیے شادیاں کرتے ہیں مگر یہ شادیاں اس وقت مصیبت میں بدل جاتی ہیں جب پاکستان خواتین کے غیر ملکی شوہروں کو پاکستان میں رہائش کی اجازت نہیں ملتی۔‘

وہ کہتے ہیں کہ حکومت پشاور ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل نہ کرے اور پارلیمنٹ اس قانون کو ختم کر کے خواتین کو بھی اُن کا حق دے۔

عاصمہ فاونڈیشن کی ندا علی ایڈووکیٹ کہتی ہیں کہ کتنے خاندان سیکشن 10 سے متاثر ہوں گے ایسا ڈیٹا تو شاید موجود نہیں مگر بلاشبہ اس کی تعداد سیکنڑوں ہے اور ہو سکتا ہے کہ ہزاروں میں ہو۔ ’ہم ہر روز ایسے واقعات کے بارے میں سن رہے ہیں اور معاملات کو دیکھ رہے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس سے قبل ہی وفاقی شرعی عدالت، لاہور ہائی کورٹ کے اس سیکشن کے خلاف فیصلے آ چکے ہیں مگر حکومت ابھی تک اس قانون میں ترمیم کرنے میں ناکام ہے۔

ہم پشاور ہائی کورٹ کے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ حکومت آئین کے آرٹیکل 25 کے تحت اسلامی قوانین کے مطابق اس قانون میں جلد از جلد تبدیلی لائے۔