عمران خان کا گورنمنٹ کالج یونیورسٹی میں طلبہ سے خطاب، سوشل میڈیا پر رائے منقسم

،تصویر کا ذریعہPITB
پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ اور سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی جانب سے گورنمنٹ کالج (جی سی) یونیورسٹی لاہور میں سیاسی جلسے کے انعقاد پر گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے بطور چانسلر نوٹس لے لیا ہے۔
پاکستان ٹیلیویژن کے مطابق گورنر پنجاب نے کہا کہ ’نامور تعلیمی ادارے کو سیاسی اکھاڑا بنانا افسوس ناک ہے۔‘
واضح رہے کہ اب سے کچھ دیر قبل پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے بھی اس معاملے پر ٹویٹ کی تھی۔
مریم نواز نے ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہا تھا کہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے خلاف ایک تعلیمی ادارے کی بے حرمتی پر سخت ایکشن لیا جانا چاہیے۔
عمران خان نے اپنی تقریر کے آغاز میں وائس چانسلر جی سی یونیورسٹی ڈاکٹر اصغر زیدی کا بھی یہ ’موقع‘ دینے پر شکریہ ادا کیا تھا۔
عمران خان کا یہ خطاب جی سی یونیورسٹی میں ’تعلیم اور ہنر ساتھ ساتھ‘ پروگرام کی افتتاحی تقریب کے سلسلے میں منعقد ہوا تھا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
عمران خان نے اپنی تقریر میں کیا کہا؟
اپنی تقریر کی شروعات میں عمران خان نے آئی ٹی برآمدات کا حوالہ دیتے ہوئے انڈیا اور پاکستان کا موازنہ کیا اور نوجوانوں پر زور دیا کہ آئی ٹی مستقبل ہے وہ اس طرف توجہ کریں۔ اس کے بعد اُنھوں نے اپنی باقی تقریر میں اپنے خلاف مبینہ غیر ملکی سازش پر بات کی اور اپوزیشن پر تنقید کی۔
عمران خان نے اس موقع پر سوال و جواب کے انداز میں حاضرین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ امریکی اہلکار نے واشنگٹن میں پاکستانی سفیر سے جب عمران خان کو ہٹانے کی بات کی تو یہ پیغام درحقیقت کس کے لیے تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حاضرین کے جواب دینے پر اُنھوں نے کہا کہ وہ سیاسی شعور کے اس امتحان میں پاس ہو گئے ہیں۔
عمران خان نے اس موقع پر روس سے سستے تیل، گیس اور گندم کی خریداری، آڈیو لیکس اور دیگر معاملات پر بھی بات کی۔
اُن کا کہنا تھا کہ یونیورسٹیاں سماجی تبدیلی کی تحریکوں میں صفِ اول کا کردار ادا کرتی ہیں۔
سوشل میڈیا پر ردِ عمل
اس معاملے پر سوشل میڈیا پر جہاں کئی لوگ عمران خان کی حمایت کرتے اور اُنھیں سراہتے نظر آئے تو چند لوگوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ یونیورسٹیوں کو سیاست کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔
پی ٹی آئی کے وزیرِ آئی ٹی پنجاب ڈاکٹر ارسلان خالد نے مریم نواز کو ٹوئٹر پر مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ آپ یا شہباز شریف کیوں نہیں جی سی یو یا کسی اور یونیورسٹی جا کر اپنی پسند کی تقریر کر لیتے۔
اُن کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں سیاسی رہنما یونیورسٹیوں میں جاتے ہیں، اگر آپ نوجوانوں کا سامنا نہیں کر سکتے تو یہ ہماری غلطی نہیں۔
تاہم ڈاکٹر ارسلان کو جواب دیتے ہوئے کامران نامی ایک صارف نے لکھا کہ سیاسی رہنما طلبہ سے فوج اور اس کی قیادت کے خلاف بدکلامی کرنے کا نہیں کہتے۔ یہ کام سکولوں اور کالجوں سے باہر ہونا چاہیے۔
انھوں نے لکھا کہ اس کے علاوہ کوئی وائس چانسلر کسی سیاسی لیڈر کو اپنا ’قائد‘ نہیں کہتا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ پروگرام طلبہ نے منعقد نہیں کروایا بلکہ وائس چانسلر نے ان پر مسلط کیا۔

،تصویر کا ذریعہTwitter
صحافی مدثر سعید نے لکھا کہ پرانے راویئن ہونے کے ناطے وہ جی سی یو کی جانب سے عمران خان کو جلسے کے لیے جگہ دینے پر حیران ہیں۔
اُنھوں نے کہا کہ اب جماعتِ اسلامی، جمعیت علما اسلام (ف)، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کو بھی اجازت دی جائے گی؟

،تصویر کا ذریعہTwitter
یہ بھی پڑھیے
صارف سید علی حیدر عابدی نے لکھا کہ وہ لوگ جو عمران خان کی جی سی یونیورسٹی میں تقریر پر تنقید کر رہے ہیں، وہ یاد رکھیں کہ بانی پاکستان نے بھی ڈھاکہ، علی گڑھ، اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور، پشاور یونیورسٹی اور کئی دیگر تعلیمی اداروں میں خطاب کیا۔

،تصویر کا ذریعہTwitter
تاہم احسن میر نامی صارف نے لکھا کہ عمران خان کو جی سی یونیورسٹی میں سیاسی تقریر نہیں کرنی چاہیے تھی۔
اُنھوں نے لکھا کہ ایک اچھی ساکھ والے ادارے کو سیاسی فائدے اور بیانیے کی تشکیل کے لیے استعمال کرنا ادارے کی ساکھ کے لیے بہتر نہیں۔ اس کے بجائے وہ ہنر پر مبنی تعلیم کی اہمیت پر بات کر سکتے تھے۔

،تصویر کا ذریعہTwitter
سماجی کارکن پروفیسر عمار علی جان نے لکھا کہ عمران خان کو یونیورسٹی کیمپس میں خطاب کرنے کا حق ہے تاہم اُنھیں ان تمام پروفیسرز سے معافی مانگنی چاہیے جنھیں ان کے دور میں نکالا گیا اور ان طلبہ سے بھی جنھیں آزادی اظہار کا مطالبہ کرنے پر بغاوت کے مقدمے سہنے پڑے۔
اُنھوں نے لکھا کہ آزادی اظہار کا صرف اپنے مقصد کے لیے استعمال دو رُخی ہے۔

،تصویر کا ذریعہTwitter























