فیصل آباد: ’پولیس کو مرد عورت کے تعلق اور نکاح نامے کے بارے میں پوچھنے کا اختیار نہیں‘، سی پی او فیصل آباد کی ہدایت

پولیس

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, ترہب اصغر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
  • وقت اشاعت

پاکستان میں صوبہ پنجاب کے شہر فیصل آباد میں حال ہی میں سی پی او فیصل آباد کی جانب سے یہ احکامات جاری ہوئے ہیں کہ کوئی بھی پولیس اہلکار یہ اختیار نہیں رکھتا ہے کہ وہ کسی بھی مرد یا عورت سے یہ پوچھے کہ ان کا ایک دوسرے کے ساتھ کیا رشتہ ہے اور نہ ہی ان سے نکاح نامہ طلب کر سکتا ہے۔

یہ احکامات حال ہی میں ایک واقعہ رونما ہونے کے بعد جاری کیے گئے جب چار پولیس اہلکاروں نے ایک گاڑی میں سوار ایک لڑکے اور لڑکی کو روکا اور ایک دوسرے کے ساتھ اپنا رشتہ ظاہر کرنے کو کہا۔

جس کے فوری بعد انھوں نے ان دونوں کو گاڑی سے اتار کر ان کی ویڈیوز بنانے کے بعد انھیں بلیک میل کیا اور رقم مانگی۔

یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے۔ ایسے واقعات آئے روز ملک بھر میں جگہ جگہ ہوتے ہیں جہاں پولیس کی جانب سے شہریوں کو روک کر ثبوت مانگا جاتا ہے کہ کسی مرد کا عورت سے اور عورت کا مرد سے کیا رشتہ ہے۔

فیصل آباد میں پیش آنے والے اس واقعے کے بعد ان دونوں نوجوانوں نے ان پولیس اہلکاروں کے خلاف تھانے میں درخواست دی اور یہ مؤقف اختیار کیا کہ ’انھوں نے ہمیں بلیک میل کیا اور ہماری ویڈیوز بنائیں اور ہم سے پیسے مانگے۔

’ہمارے پاس اس وقت پیسے نہیں تھے۔ یہ چاروں اہلکار ہمھیں نزدیک واقع ایک اے ٹی ایم پر لے گئے اور ہمیں وہاں سے پیسے نکالنے کو کہا۔ جس کے بعد ہم نےانھیں بیس ہزار روپے نکال کر دے دیے۔ پھر رشوت لینے کے بعد انھوں نے ہمھیں جانے دیا۔‘

پولیس کا حکم نامہ

ان دونوں کی اس درخواست پر پولیس کے اعلی حکام نے نوٹس لیتے ہوئے فوری تحقیق شروع کی۔

اس معاملے پر بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے سی پی او فیصل آباد عمر سعید کا کہنا تھا کہ جب انھوں نے اس معاملے کی چھان بین کی تو معلوم ہوا کہ ’ان چاروں پولیس اہلکاروں نے ان دونوں لڑکے اور لڑکی کی ویڈیوز بھی بنائیں اور ساتھ میں ان سے رشوت بھی لی۔‘

عمر سعید کا کہنا تھا کہ ’اس لیے محکمانہ کارروائی کرتے ہوئے ہم نے ان چاروں کو معطل کر دیا۔‘

یہی نہیں بلکہ جب ان پولیس اہلکاروں کو معلوم ہوا کہ ان کے خلاف کارروائی ہونے والی ہے تو درخواست گزاروں نے کہا کہ ’ہماری صلح ہو گئی ہے اس لیے ہم اپنی شکایت واپس لیتے ہیں۔‘

سی پی او کا کہنا تھا کہ ان کے موقف میں اس اچانک تبدیلی سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھوں نےخوف کی بنا پر ایسا کیا۔

’میں نے ان سے خود اس بارے میں بات کی اور یقین دہانی بھی کروائی کہ آپ دونوں کو کوئی مسئلہ نہیں ہو گا لیکن ان اہلکاروں کے خلاف کارروائی ہونا ضروری ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

عمر سعید نے پولیس کے کردار پر بات کرتے ہوئے مزید کہا کہ ’پولیس کا کام جرائم کی روک تھام ہے نہ کہ اخلاقی پولیسنگ کرنا۔ سڑک روک کر چیک کرنے کے علاوہ ہوٹلوں میں بھی پولیس کی جانب سے یہ عمل دیکھنے کو ملتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کسی جگہ کوئی غیر قانونی کام نہیں ہو رہا تو پولیس کو بھی کوئی اختیار نہیں کہ وہ کسی بھی شہری سے سوال کرے یا اسے بلیک میل کرے۔

’اس بات کا علم پولیس والوں کو بھی ہونا چاہیے اور شہریوں کو بھی اپنے حقوق اور قانون سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کوئی بھی پولیس اہلکار آپ سے یہ سوال پوچھنے کا اختیار نہیں رکھتا کہ آپ کا کس سے کیا رشتہ ہے۔ یہ ہر شہری کی نجی زندگی کا معاملہ ہوتا ہے اور اس میں دخل اندازی کرنا غیر قانونی عمل ہے۔‘