عمران خان کی پولیس پر تنقید: ایسے بیان پولیس کی کارکردگی پر کیسے اثر انداز ہوتے ہیں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, بینظیر شاه
- عہدہ, صحافی
- وقت اشاعت
20 اگست کی رات پنجاب میں تعینات ایک جواں سال پولیس افسر نے عمران خان کی ایک گھنٹہ قبل کی گئی تقریر سننے کے لیے اپنا ٹویٹر اکاؤنٹ کھولا۔
اس تقریر میں عمران خان نے پولیس پر اپنی پارٹی کے ایک رکن شہباز گل پر تشدد کرنے کا الزام عائد کیا۔ نہ صرف یہ بلکہ اس کے علاوہ انھوں نے وفاقی دارالحکومت پولیس کے سینئیر افسران کو سخت تنبیہ بھی کی۔اسلام آباد میں پارٹی ورکرز کے سامنے عمران خان نے گرجتے ہوئے کہا کہ ’شرم کرو آئی جی اسلام آباد اور ڈی آئی جی۔ تمہیں تو ہم نے نہیں چھوڑنا، تم پر کیس کرنا ہے۔‘
اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس نوجوان پولیس افسر نے کہا کہ پاکستان میں پولیس، سیاستدانوں کے غضب کا نشانہ رہتی ہے لیکن عمران خان کی تقریر کے بارے میں انھیں جس چیز سے فکر لاحق ہوئی وہ کھلے عام سینئیر پولیس افسران کو نشانہ بنانا تھا۔
انھوں نے کہا کہ اس طرح کے بیانات صرف پولیس کو مزید سیاسی بنائیں گے اور کچھ افسران کو عمران خان کے سب سے بڑے سیاسی حریفوں کے ساتھ صف بندی پر مجبور کر دیں گے جو اس وقت پاکستان مسلم لیگ (ن) ہے۔
بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ظاہر سی بات ہے وہ دیکھیں گے کہ ہماری بقا اب ایک پارٹی کے ساتھ ہے تو ہم اس پارٹی کے لیے زیادہ کام کریں۔‘
اپریل میں اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد یہ پہلا موقع نہیں، جب عمران خان نے پولیس کو نشانہ بنایا ہو۔
28 جون کو بھی ایک خطاب میں انھوں نے پنجاب پولیس کو براہ راست پیغام دیا۔ ان کا الزام تھا کہ پولیس نے حکومت کی ہدایات پر ان کے سیاسی ورکرز پر تشدد کیا۔ اس ضمن میں عمران خان نے ان کے خلاف کارروائی کا وعدہ کیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’جونئیر افسران سیاسی گرفتاریوں کے لیے جانے سے گریز کرتے ہیں‘
اپنے خطاب میں عمران خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’اب کوئی چیز چھپی نہیں رہتی، سوشل میڈیا کا زمانہ ہے۔ سب کی شکلیں ہمیں پتا ہیں جن پولیس افسروں نے ظلم کیا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے پولیس افسران کو مزید خبردار کیا کہ وہ ان کی سیاسی جماعت کے خلاف ’غیر قانونی اقدامات‘ نہ کریں۔
ایک اور سینئیر پولیس افسر نے اپنا نام صیغہ راز میں رکھنے کا کہتے ہوئے پوچھا کہ عمران خان کی ’غیر قانونی احکامات‘ سے کیا مراد تھی۔
بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’دیکھیں کوئی پولیس سیاسی ورکرز کو گرفتار کرنے والا کام شوق سے نہیں کرتی لیکن پولیس کو کرنا پڑتا ہے۔ حکومت کا حکم ہوتا ہے، اس میں غیر قانونی کیا ہے۔‘
بی بی سی اردو سے بات کرنے پر راضی ہونے والے پانچوں پولیس افسران متفق تھے کہ جب بھی کوئی سیاسی جماعت اقتدار میں ہوتی ہے تو وہ اپنے مخالفین کے خلاف پولیس کو استعمال کرتی ہے۔
’اس میں ایسا کچھ نیا نہیں اور نہ ہی سیاستدانوں کا بعد میں پولیس کو اپنے کئی فیصلوں کا ذمہ دار ٹھہرانا لیکن مسلسل پولیس کو یوں ہدف بنانا سپاہی و افسران پر اثر ڈالتا ہے۔‘
بی بی سی سے بات کرنے والے ایک پولیس اہلکار نے اعتراف کیا کہ ایسے بیانات کی وجہ سے جونئیر افسران سیاسی گرفتاریوں کے حوالے سے حکومتی احکامات پر عمل درآمد کے لیے میدان عمل میں جانے سے گریز کرتے ہیں۔
اسلام آباد میں تعینات ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس طرح کے بیانات دے کر سابق وزیر اعظم پولیس فورس میں انتشار اور تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اس کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ آپ شاید ایک ایسی فورس کے اندر تقسیم پیدا کر رہے ہیں جو وردی پوش مسلح ہے اور اس کی بنیاد صرف احکامات اور نظم و ضبط پر ہے۔‘
انھوں نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا ’فرض کیجیے کہ کل اگر پولیس کو عمران خان کی گرفتاری کا کہا جائے تو وہ یقیناً ہچکچائیں گے۔‘
’ٹرانسفر اور پوسٹنگ کے اختیارات آئی جی آفس سے سیاسی دفتر منتقل ہو گئے‘
اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے افسر کا کہنا تھا کہ ’پولیس ایک آسان ہدف ہے، ہمارا دفاع کرنے والا کوئی نہیں۔ اگر عمران خان کسی دوسرے ادارے کے کسی [سینئیر افسر] کا نام لیں تو وہ ان کو لائن پر لے آئیں۔
ایک طرف اگر عمران خان آئی جی اسلام آباد اور دیگر پولیس افسران کے خلاف کارروائی کا وعدہ کر چکے ہیں تو دوسری طرف ایک پولیس اہلکار 25 مئی واقعے کے بعد نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھا ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں ایس ایچ او عابد حسین کو فیصل آباد میں پی ٹی آئی کی خواتین مظاہرین پر پستول تانے دیکھا جا سکتا ہے۔
گزشتہ ہفتے عابد حسین کی پنجاب پولیس میں 20 سال کی سروس کو ختم کرتے ہوئے نوکری سے برخاست کر دیا گیا۔
بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے عابد حسین کا اصرار تھا کہ وہ سیاسی انتقام کا نشانہ بنے ہیں اور وہ اس اقدام کو عدالت میں چیلنج کریں گے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ سوشل میڈیا اور ٹی وی چینلز نے اس واقعہ کی پوری ویڈیو نہیں دکھائی جس میں وہ حالات و واقعات واضح ہیں جس کی بنا پر وہ اپنا پستول نکالنے پر مجبور ہوئے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’آدھا گھنٹہ میں کوشش کرتا رہا کہ موٹروے پر معاملات پرامن رہیں۔ کسی نے یہ نہیں دیکھایا۔ کسی نے نہیں دکھایا کہ عورتوں نے میرا یونیفارم پھاڑا اور پھر میں نے بھی اپنے دفاع میں ردعمل دیا۔‘
اس کے باوجود وہ کہتے ہیں کہ وہ عمران خان کے حامی ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’خان صاحب کو اپنے الفاظ کا چناؤ درست کرنا چاہیے۔‘
اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انھوں نے کہا ’کیونکہ وہ ایک ایسی جگہ کھڑے ہیں جہاں سے بہت سارے لوگوں نے ان سے سیکھنا ہے۔‘
واضح رہے کہ پاکستان میں جب بھی کوئی نئی حکومت اقتدار سنبھالتی ہے تو وہ سب سے پہلے پولیس فورس میں ردوبدل کرتی ہے۔
جولائی سنہ 2018 کے بعد سے پنجاب کے انسپیکٹر جنرل پولیس کو آٹھ بار تبدیل کیا گیا۔ حمزہ شہباز کے 16 اپریل کو وزیر اعلیٰ پنجاب منتخب ہونے کے بعد پولیس فورس میں کئی تبدیلیاں کی گئیں۔ پھر جولائی میں پرویز الٰہی نے حمزہ شہباز کی جگہ وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھالا تو پولیس کو دوبارہ ردوبدل کا سامنا کرنا پڑا۔

،تصویر کا ذریعہSocial Media
ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق جو پنجاب پولیس کی ویب سائٹ نے بھی شیئر کی، اس ماہ محض تین دن میں 100 سے زائد پولیس اہلکاروں کے تبادلے کیے گئے۔
پنجاب کے سینئیر پولیس افسر نے کہا کہ یہ ایک زیادہ پریشان کن معاملہ ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ پولیس فورس میں جاری بحث یہ ہے کہ اگر ایک پولیس اہلکار کی اوسط پوسٹنگ صرف دو یا تین ماہ ہے تو وہ کیوں کام کرے۔
انھوں نے کہا کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ پورے پاکستان میں ایک ایس ایچ او کی ایک جگہ پر تعینانی کی اوسط مدت تین ماہ سے زیادہ نہیں ہوتی۔
بی بی سی اردو سے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’کوئی بندہ آج کل کام کرنے کو تیار نہیں۔ ہم ان کو دھکہ لگا لگا کر تھک گئے ہیں مورال کا برا حال ہے۔‘
جواں سال پولیس افسر بھی اس سے متفق ہیں کہ مدت کی غیر یقینی صورتحال سیاستدان کے الفاظ سے زیادہ مایوسی پیدا کرتی ہے۔
’جب آپ کی ٹرانسفر یا پوسٹنگ آئی جی کرتا ہے تو وہ آپ کی کارکردگی دیکھتا ہے لیکن اب ٹرانسفر پوسٹنگ کے جتنے بھی اختیارات ہیں وہ آئی جی آفس سے سیاسی دفتر منتقل ہو گئے ہیں۔‘
یہ بھی پڑھیے
’پولیس کو غیر قانونی احکامات نہیں ماننے چاہیے‘
عمران خان کی پولیس پر تنقید کے حوالے سے ریٹائرڈ پولیس افسر سید کلیم امام کی رائے مختلف ہے۔
ان کا اصرار ہے کہ سیاستدانوں کا پولیس پر تنقید کرنا ایک معمول ہے جس میں کوئی اچھنبے کی بات نہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان میں پولیس بھی اپنے رویے اور ساکھ کا بذات خود جائزہ لے۔

،تصویر کا ذریعہSINDH POLICE
بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کلیم امام کا کہنا تھا کہ ’ظاہر سی بات ہے جب بھی کوئی پولیس کے بارے میں اس قسم کی بات کرتا ہے تو پولیس کا مورال نیچے آئے گا۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’لیکن پولیس کو اپنے گریبان میں بھی جھانکنے کی ضرورت ہے کہ یہ نوبت آئی ہی کیوں کہ مجھے کوئی یہ بات کہہ رہا ہے۔‘
کلیم امام کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں قانون نافذ کرنے والے ادارے افراد کی تنقید کا نشانہ رہتے ہیں۔
’پولیس کو غیر قانونی احکامات نہیں ماننے چاہیے کیونکہ انھوں نے حلف اٹھا رکھا ہے کہ ہم قانون کی پاسداری کریں گے۔‘

























