شہباز گِل کیس: ملزمہ کی بیٹی سمیت ضمانت پر رہائی، شیر خوار بچوں سے متعلق جیل ضابطے کیا ہیں

،تصویر کا ذریعہFACEBOOK/SHAHBAZ GILL
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت سے پی ٹی آئی کے راہنما شہباز گل کے ڈرائیور اظہار اللہ کی بیوی کی ضمانت پر رہائی کے بعد شیر خوار بیٹی کو بھی رہائی مل گئی ہے۔
جمعے کے روز عدالت نے تیس ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض ملزمہ کی ضمانت منظور کرلی اور انھیں رہا کرنے کا حکم دیا۔
اس سے قبل عدالت نے جمعرات کو ملزمہ کا جسمانی ریمانڈ دینے کی پولیس کی استدعا کو مسترد کرے ہوئے انھیں جوڈیشل لاک اپ میں بھیجنے کا حکم دیا تھا۔ ملزمہ کے وکیل نے شیر خوار بچی کی وجہ سے عدالت سے اسی روز ہی ضمانت کی درخواست کی سماعت کرنے کی استدعا کی تھی لیکن مقامی عدالت کے جج نے یہ کہہ کر یہ استدعا مسترد کردی تھی کہ عدالت جذبات نہیں بلکہ قانون کے مطابق فیصلہ کرتی ہے۔
انھیں سابق وزیر اعظم عمران خان کے چیف آف سٹاف شہباز گل کے کیس سے متعلق کارِ سرکار میں مداخلت پر گرفتار کیا گیا تھا۔
عدالت کے جج سلمان بدر نے جب انھیں جوڈیشل ریمانڈ پر بھیجنے کے احکامات دیے تو اس میں ان کی دس ماہ کی شیر خوار بچی کا ذکر نہیں کیا کہ وہ اس عرصے کے دوران کہاں رہے گی۔ سماعت کے دوران جب ملزمہ کی شیر خوار بچی کو کمرہ عدالت میں لایا گیا تو وہاں پر موجود پولیس اہلکاروں نے اس شیر خوار بچی کو اس کے والدہ کے حوالے کرنے سے روکا تو عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے بچی کو ملزمہ کے حوالے کرنے کا حکم دیا تھا۔
شیرخوار اور کمسن بچے: جیل ضابطے کیا ہیں
اسلام آباد پولیس کی پراسیکیوشن برانچ کے سربراہ حسن رضا کا کہنا ہے کہ اگر عدالت کسی خاتون کو کسی مقدمے میں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دے اور ملزمہ کے ساتھ اس کا شیر خوار یا کمسن بچہ بھی ہو تو عدالت اس کو بھی اپنی والدہ کے ساتھ جیل بھجوانے کا حکم دیتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ اس بارے میں عدالت اپنے حکمنامے میں بھی اس کا ذکر کرتی ہےکہ شیر خوار یا کمسن بچہ ملزمہ کے ساتھ ہی رہے گا۔
حسن رضا کا کہنا تھا کہ اگر ملزمہ یہ کہے کہ وہ اپنے شیر خوار یا کمسن بچے کو جیل میں نہیں لے کر جانا چاہتی تو اس سلسلے میں ملزمہ کو عدالت میں بیان دینا ہوگا کہ وہ اپنے بچے کو کس کے حوالے کر کے جارہی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ ملزمہ کو اس شخص کے کوائف بھی عدالت کو بتانے ہوں گے جو ان کی عدم موجودگی میں اس کے بچے کی پرورش اور نگرانی کرے گا۔

،تصویر کا ذریعہCCTV Footage/Screen Grab
اڈیالہ جیل کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ جن خواتین ملزموں کے ساتھ ان کے شیر خوار بچے ہوتے ہیں انھیں الگ بیرک میں رکھا جاتا ہے جبکہ کمسن بچوں کے لیے الگ سے بیرک بنائی گئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ شیر خوار بچوں اور کمسن بچوں کا ہفتے میں دو بار طبی معائنہ کیا جاتا ہے اور اگر ملک میں پولیو کی مہم چل رہی ہو تو جیل میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کو بھی پولیو کے قطرے پلائے جاتے ہیں۔
اڈیالہ جیل کے اہلکار کا کہنا تھا کہ جس طرح قیدیوں کے کھانے پینے کے لیے سالانہ بجٹ میں رقم مختص کی جاتی ہے اسی طرح شیر خوار اور کمسن بچوں کے لیے بھی، جو اپنی والدہ کے ساتھ جیل میں رہ رہے ہوں، رقم رکھی جاتی ہے۔
سوشل میڈیا پر ری ایکشن
جب شہباز گِل کے ڈرائیور کی بیوی کی اپنی بیٹی کے ساتھ تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو لوگوں نے سوال اٹھایا کہ دس ماہ کی بچی اپنی والدہ کے ساتھ جیل میں کیسے رہے گی۔
اس تصویر میں شہباز گل کے ڈرائیور کی دس ماہ کی شیر خوار بچی اسلام آباد کی مقامی عدالت میں اپنی والدہ کی گود میں بیٹھی ہوئی ہے۔
سوشل میڈیا پر ایک صارف احتشام الحق نے لکھا کہ کیا بربریت کا کوئی جواز ہے؟
ایک اور صارف زرمینے خان نے اپنی ٹویٹ میں لکھا ہے کہ ’ہمارے نظامِ انصاف کے لیے ’واہیات‘ لفظ بڑا فٹ آتا ہے۔‘
ایک اور صارف سلمان نعیم نے اپنی ٹویٹ میں لکھا ہے کہ جب انھوں نے شہباز گل کے ڈرائیور کی شیر خوار بچی کو عدالت میں لانے کی ویڈیو دیکھی تو ان کا دل بوجھل ہونے کے ساتھ ساتھ ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔


























