آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پنجاب اسمبلی: پرویز الٰہی کی کابینہ میں شامل تمام تحریکِ انصاف کے اراکین کون ہیں؟
- مصنف, ماجد نظامی
- عہدہ, صحافی
- وقت اشاعت
گورنر ہاؤس لاہور میں صرف 13 دن بعد ایک اور صوبائی کابینہ نے حلف اُٹھا لیا لیکن اس مرتبہ یہ کابینہ نئے وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کے ساتھ کام کرے گی۔
دو ہفتے قبل وزیر اعلیٰ حمزہ شہباز شریف کی 41 رکنی کابینہ نے حلف لیا تھا لیکن دو دن میں محکموں کی تقرری سے پہلے ہی حمزہ شہباز حکومت کو گھر جا نا پڑا۔
گذشتہ روز وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کی 21 رکنی کابینہ نے حلف اٹھایا جس میں شامل تمام وزرا کا تعلق تحریک انصاف سے ہے اور مسلم لیگ ق سے کسی بھی رکن کو وزیر نہیں بنایا گیا۔
مسلم لیگ ق کی جانب سے اُمید کی جا رہی ہے کہ کابینہ کی آئندہ توسیع میں ان کے وزرا کو بھی شامل کیا جائے گا۔
مشہور سیاسی گھرانوں کے الیکٹیبلز: مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف دونوں کی پسند
تین ماہ تک وزیر اعلیٰ رہنے والے حمزہ شہباز شریف نے اپنی کابینہ میں اہم سیاسی ناموں کو ترجیح دی۔ ان کی کابینہ میں کچھ نئے نام بھی سامنے آئے جن میں اسد کھوکھر، راجہ صغیر، ثانیہ عاشق وغیرہ شامل ہیں۔
حمزہ شہباز کی کابینہ میں مشہور سیاسی گھرانوں کو زیادہ نمائندگی ملی۔
اہم ناموں میں رحیم یار خان کے مخدوم عثمان، ملتان کے علی حیدر گیلانی، ٹوبہ ٹیک سنگھ کے بلال اصغر وڑائچ، اوکاڑہ کے میاں یاور زمان، بہاولنگر کے فدا حسین وٹو، قصور سے ملک احمد خان، اٹک کے جہانگیر خانزادہ نظر آتے ہیں۔
دوسری جانب چوہدری پرویز الٰہی کی کابینہ میں کئی نسلوں سے سیاست میں سرگرم گھرانوں سے تعلق رکھنے والوں کی اکثریت نظر آتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حمزہ شہباز کے سیاسی حریف چوہدری پرویز الٰہی کی کابینہ میں فیصل آباد کے علی افضل ساہی، راجن پور کے حسنین دریشک، محسن لغاری، سرگودھا کے منیب سلطان چیمہ، خانیوال کے حسین جہانیاں گردیزی، لیہ کے شہاب الدین سیہڑ جیسے مشہور سیاسی گھرانوں کے الیکٹیبلز کی نمائندگی دیکھنے کو ملی ہے۔
اس کابینہ کے نئے چہروں میں شیخوپورہ سے خُرم شہزاد ورک، فیصل آباد سے لطیف نذر گجر، راولپنڈی سے تیمور مسعود شامل ہیں۔
تحریک انصاف کے حمایت یافتہ وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کی کابینہ کے وزرا کا سیاسی ماضی، موروثی سیاست سے تعلق، جمہوری سفر اور دیگر اہم تعارف درج ذیل ہے۔
نواب زادہ منصور احمد خان
بزرگ سیاستدان نوابزادہ نصراللہ خان کے بیٹے نوابزادہ منصور احمد خان 25 سال بعد اک بار پھر پنجاب کابینہ میں شامل ہونے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
اس سے پہلے وہ نوے کی دہائی میں صوبائی وزیر اور چار مرتبہ ایم پی اے رہے۔
دلچسپ نکتہ یہ ہے کہ ان کے بھائی نوابزادہ افتخار خان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر موجودہ قومی اسمبلی کے رکن ہیں۔
ان کے والد نوابزادہ نصراللہ خان کشمیر کمیٹی کے سربراہ اور کئی مرتبہ قومی اسمبلی کا حصہ رہے۔
سردار حسنین بہادر دریشک
مشرف دور میں چوہدری پرویز الٰہی کی کابینہ کا حصہ رہنے والے انجینئر حسنین بہادر ایک بار پھر پرویز الٰہی کا بینہ میں شامل ہیں۔
راجن پور سے تعلق رکھنے والے حسنین کے والد سردارنصر اللہ دریشک سنہ 2018 میں تحریک انصاف کے ٹکٹ پر رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔
اس سے پہلے ان کے والد چھ مرتبہ ایم پی اے رہے اور دو مرتبہ ایم این اے منتخب ہوئے۔
منیب سلطان چیمہ
سرگودھا کے منیب سلطان چیمہ اپنے والد عامر سلطان چیمہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے 30 سال کی عمر میں صوبائی وزیر بن چکے ہیں۔
ان کے والد موجودہ ایم این اے عامر سلطان چیمہ مسلسل چھ مرتبہ پنجاب اسمبلی کا حصہ رہے۔
گُجرات کے چوہدری خاندان کے بھانجے منیب سلطان چیمہ نے لندن سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد سنہ 2018 میں پہلی مرتبہ الیکشن میں حصہ لیا اور کامیاب رہے۔
ان کے دادا انور علی چیمہ سات مرتبہ ایم این اے اور والدہ تنزیلہ عامر چیمہ دو مرتبہ رکن قومی اسمبلی رہیں۔
ہاشم ڈوگر
قصور سے تعلق رکھنے والے لیفٹیننٹ کرنل (ر) ہاشم ڈوگر نے اپنی زندگی کے 25 سال فوج میں گزارے اور ملٹری انٹیلی جنس میں خدمات سر انجام دیں۔
سنہ 2018 میں پہلی مرتبہ الیکشن لڑا اور کامیابی حاصل کی۔ عثمان بزدار کابینہ میں بھی شامل رہے۔ ان کے والد سردار عاشق ڈوگر پیپلز پارٹی کے سابق ایم این اے تھے اور دو مرتبہ ایم پی اے بھی رہے۔
راجہ یاسر ہمایوں
چکوال کے راجہ یاسر ہمایوں سرفراز کا نام سنہ 2018 میں وزیر اعلیٰ پنجاب کے لیے بھی زیر غور رہا لیکن بعد ازاں انھیں عثمان بزدار کابینہ میں وزیر بنا دیا گیا۔
ان کے دادا راجہ سرفراز قیام پاکستان سے پہلے اور بعد میں پنجاب کی اسمبلی کاحصہ رہے۔
قومی اسمبلی میں موجودہ اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض ان کے قریبی رشتہ دار ہیں جبکہ ان کے علاوہ اس سے پہلے میجر (ر) راجہ سجاد اکبر ایم پی اے رہے۔
حسین جہانیاں گردیزی
خانیوال کے حسین جہانیاں مشرف دور میں بھی چوہدری پرویز الٰہی کابینہ کا حصہ رہ چکے ہیں۔
چوتھی مرتبہ ایم پی اے بننے والے گردیزی تین حکومتوں میں صوبائی وزیر رہے۔
مشہور گردیزی خاندان سے تعلق حسین جہانیاں نے مقامی سیاست سے اپنے سیاسی سفر کا آغاز کیا۔ دلچسپ نکتہ یہ ہے کہ قیام پاکستان سے اب تک ان کے رشتہ دار تقریباً ہر اسمبلی کا حصہ رہے۔
محسن خان لغاری
معاشیات کا تعلیمی ماضی رکھنے والے محسن لغاری تیسری مرتبہ ایم پی اے منتخب ہوئے ہیں۔
ڈیرہ غازی خان کے مشہور لغاری خاندان سے تعلق رکھنے والے محسن لغاری کو سنہ 2012 میں آزاد حیثیت میں کامیاب ہونے والے پنجاب کے پہلے سینیٹر کا اعزاز حاصل ہے۔
اس سے پہلے وہ عثمان بزدار کابینہ میں بھی وزیر رہے۔ ان کے والد لیفٹیننٹ کرنل (ر) سردار رفیق لغاری نوے کی دہائی میں دو مرتبہ ایم پی اے رہے۔
سید عباس علی شاہ
خانیوال کے عباس شاہ عثمان بزدار حکومت کےدوران پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف کے چیف وہپ کی ذمہ داری ادا کرتے رہے۔ ان کے والد پیر ذوالفقار علی شاہ خانیوال کی مقامی سیاست میں سرگرم رہے۔
عباس شاہ کے ننھیالی خاندان کا ٹوبہ ٹیک سنگھ میں سیاسی اثر و رسوخ ہے۔
جہاں سے مخدوم علی رضا شاہ سابق ایم این اے اور ایم پی اے رہے۔ ان کے نانا مخدوم ناصر الدین سابق ایم پی اے رہے۔ عباس شاہ کی کزن سونیا علی رضا اس وقت تحریک انصاف کی ایم پی اے ہیں۔
راجہ بشارت
راجہ بشارت واحد وزیر ہیں جنھوں نے تین مختلف وزرائے اعلیٰ شہباز شریف، پرویز الٰہی اور عثمان بزدار کے ساتھ بطور وزیر قانون کام کیا۔
راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے راجہ بشارت پانچویں مرتبہ پنجاب اسمبلی کا حصہ ہیں۔ سیاسی سفر میں چوہدری پرویز الٰہی کے ساتھ ان کا قریبی تعلق رہا۔
سنہ 2002 میں راجہ بشارت الیکشن ہار گئے تھے لیکن چوہدری پرویز الٰہی نے گجرات سے اپنی صوبائی سیٹ سے ان کو ضمنی انتخاب میں کامیاب کروایا۔
یہ بھی پڑھیے
چوہدری پرویز الٰہی خود رحیم یار خان کی صوبائی نشست سے وزیر اعلٰی پنجاب رہے۔
سنہ 2018 میں راجہ بشارت نے مسلم لیگ ق کی بجائے تحریک انصاف کی ٹکٹ پر الیکشن لڑا اور اسمبلی میں آئے۔
عنصر مجید خان نیازی
سرگودھا کے عنصر مجیدخان نیازی نے سنہ 2018 میں پہلے الیکشن میں کامیابی حاصل کی اور ساتھ ہی عثمان بزدار کابینہ میں انھیں وزیر بنا دیا گیا۔
ان کی تعلیم ایف اے ہے جس کی وجہ سے تحریک انصاف کے اندرونی حلقوں میں انھیں تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے باوجود نیازی وزیر رہے اور ایک بار پھر انھیں پرویز الٰہی کابینہ میں شامل کیا گیا۔
مراد راس
لاہور سے تحریک انصاف کی ٹکٹ پر دوسری مرتبہ ایم پی اے منتخب ہونے والے مراد راس اس سے پہلے عثمان بزدار کابینہ کا حصہ رہ چکے ہیں۔
انھیں تحریک انصاف کی نظریاتی رہنماوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ سابق وزیر اعلٰی پنجاب حمزہ شہباز شریف ان کے بہنوئی ہیں۔
ملک تیمور مسعود
واہ، راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے ملک تیمور مسعود اکبر نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز 2008 میں مسلم لیگ ق سے کیا لیکن الیکشن نہ جیت سکے۔
وہ 2013 میں پہلی مرتبہ تحریک انصاف کی جانب سے ایم پی اے بننے میں کامیاب ہوئے۔
سنہ 2018 میں دوسری مرتبہ تحریک انصاف کے ایم پی اے منتخب ہوئے۔
راولپنڈی سے سابق وفاقی وزیر غلام سرور کے بھتیجے عمار صدیق کا نام وزارت کے لیے سامنے آ رہا تھا لیکن اپ سیٹ ہو گیا اور انھیں کامیابی نہ مل سکی۔
ڈاکٹر یاسمین راشد
تحریک انصاف وسطیٰ پنجاب کی صدر ڈاکٹر یاسمین راشد کی زندگی میڈیکل شعبے میں گزری اور یہاں سے ہی انھیں شہرت ملی۔
سیاسی سفر میں انھوں نے سنہ 2013 میں میاں نواز شریف کے خلاف الیکشن لڑا لیکن ناکام رہیں۔
انتخابی سیاست میں ابھی تک لاہور سے انھیں کوئی کامیابی نہیں ملی سکی لیکن اس کے باوجود ان کی سماجی خدمات اور سیاسی جدوجہد کی وجہ سے انھیں سیاسی و سماجی حلقوں میں احترام اور قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
ان کے سسر غلام نبی ملک سابق وزیر اور تین مرتبہ ایم پی اے رہے۔
میاں محمود الرشید
لاہور سے میاں محمود الرشید ان چند رہنماؤں میں سے ہیں جو اکتوبر 2011 کے لاہور جلسے سے پہلے بھی تحریک انصاف کا حصہ تھے۔
اس لیے انھیں پارٹی کے پرانے اور نظریاتی رہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔ وہ چوتھی مرتبہ ایم پی اے منتخب ہوئے اور سنہ 2013 میں پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے طور پر پارٹی کی نمائندگی کر چکے ہیں۔
ان کے داماد میاں اکرم عثمان حالیہ ضمنی انتخابات میں لاہور سے ایم پی اے منتخب ہوئے ہیں۔
خرم شہزاد ورک
شیخوپورہ سے ضمنی انتخابات میں کامیاب ہونے والے خرم شہزاد ورک ایڈووکیٹ ہیں اور شیخوپورہ بار کے صدر کے عہدے تک پہنچے۔
انھوں نے مسلم لیگ ن کے امیدوار میاں خالد کو 18 ہزار ووٹ کے واضح فرق سے شکست دی۔ ضمنی الیکشن میں کامیابی پر انھیں کابینہ میں شامل کیا گیا ہے۔
راجہ بشارت کے بجائے انھیں و زیر قانون مقرر کیا گیا ہے جسے پارٹی کے اندرونی حلقوں میں اپ سیٹ قرار دیا جا رہا ہے۔
غضنفر عباس چھینہ
بھکر سے دوسری مرتبہ ایم پی اے بننے والے غضنفر عباس چھینہ کانام اس وقت قومی سیاست میں نمایاں ہوا جب پنجاب میں جہانگیر ترین گروپ کے بعد انھوں نے چھینہ گروپ کے نام سے ہم خیال ایم پی ایز کو اکٹھا کیا۔ لیکن مذاکرات کے بعد تحریک انصاف کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔
اس سے پہلے وہ سنہ 2013 میں آزاد حیثیت میں ایم پی اے منتخب ہوئے اور مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کی۔
ان کے چچا امان اللہ چھینہ سابق ایم پی اے اور سابق چئیرمین ضلع کونسل رہ چکے ہیں۔
لطیف نذرگجر
فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے لطیف نذر گجر نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز مقامی سیاست سے کیا اور دو مرتبہ نائب ناظم رہے۔ دو مرتبہ ایم پی اے رہنے والے مسلم لیگ ن کے شیخ اعجاز کو شکست دے کر سنہ 2018 میں پہلی مرتبہ پنجاب اسمبلی کے رُکن منتخب ہوئے۔
وہ تحریک انصاف فیصل آباد شہر کے صدر بھی ہیں۔
آصف نکئی
قصور سے ایم این اے رہنے والے سردار آصف نکئی اس وقت مسلسل تیسری مرتبہ پنجاب اسمبلی کے ممبر ہیں۔
ان کے والد عارف نکئی نوے کی دہائی میں وزیر اعلیٰ پنجا ب رہے اور ان کے بھائی پرویز نکئی ایم پی اے رہ چکے ہیں۔
عثمان بزدار کابینہ میں بھی وہ وزیر رہے۔ ان کی کزن سردار طالب نکئی سابق وزیر اور موجودہ ایم این اے ہیں۔
شہاب الدین سیہڑ
لیہ سے تعلق رکھنے والے شہاب الدین سیہڑ اس سے پہلے پیپلز پارٹی سے ایم پی اے رہ چکے ہیں۔
انھوں نے سنہ 2018 کے الیکشن میں تحریک انصاف کی ٹکٹ پر کامیابی حاصل کی۔
ان کے والد بہرام خان سیہڑ سنہ 1977 میں پیپلز پارٹی کے ایم این اے رہے۔
ان کے چچا جہانگیر خان سابق ایم این اے رہے جبکہ ان کے کزن بہادر خان سیہڑ سنہ 2008 میں پیپلز پارٹی کے حکومت میں وفاقی وزیر رہ چکے ہیں۔
علی افضل ساہی
فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے علی افضل ساہی تحریک انصاف کی ٹکٹ پر حالیہ ضمنی انتخابات میں جیت کر صوبائی اسمبلی کا حصہ بنے اور اب بطور وزیر حلف اٹھا چکے ہیں۔
ان کے والد چوہدری افضل خان ساہی پنجاب اسمبلی کے سپیکر اور مسلم لیگ ن کے سابق صوبائی وزیر رہ چکے ہیں۔
ان کے تایا کرنل (ر)غلام رسول ساہی سابق ایم این اے اور کزن ظفر ذوالقرنین ساہی سابق ایم پی اے رہ چکے ہیں۔
علی افضل چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس امیر بھٹی کے داماد ہیں۔
میاں اسلم اقبال
لاہور سے تعلق رکھنے والے میاں اسلم اقبال ایک بار پھر پرویز الٰہی کابینہ کا حصہ بن گئے ہیں۔
اس سے پہلے سنہ 2002 میں وہ مسلم لیگ ق کے وزیر سیاحت کے طور پر کام کر چکے ہیں۔
وہ سنہ 2013 میں تحریک انصاف کی طرف سے ممبر اسمبلی منتخب ہوئے۔ سنہ 2018 میں تحریک انصاف کی ٹکٹ پر ایک بار پھر منتخب ہوئے اور عثمان بزدار کابینہ کا حصہ رہے۔
بزدار دور میں جب بھی وزیر اعلیٰ کی تبدیلی کی افواہیں چلتیں، میاں اسلم اقبال کا نام بطور وزیر اعلیٰ ہاٹ فیورٹ ہوتا لیکن ان پر قسمت مہربان نہ ہو سکی۔