محرم الحرام: دیپالپور میں اہلسنت کی مسجد جہاں یوم عاشور کے لیے تعزیے اور عَلم تیار ہوتے ہیں

- مصنف, احمد اعجاز
- عہدہ, صحافی، مصنف
- وقت اشاعت
- یہ تحریر 7 اگست 2022 کو شائع کی گئی تھی جسے آج دوبارہ شیئر کیا گیا ہے۔
ضلع اُوکاڑہ کی تحصیل دیپالپور کے صدر بازار سے ملحقہ محلہ گیلانیاں میں سید فیملی کے گھرانے قیامِ پاکستان سے پہلے سے سکونت پذیر ہیں۔
اس وقت یہاں دو ڈیرے ایک سید روشن علی گیلانی اور دوسرا سید احمد رضا گیلانی موجود ہیں۔
سید احمد رضا گیلانی کے ڈیرے کے بالکل سامنے قدیمی مسجد غوثیہ گیلانیہ ہے اور مسجد سے متصل سید روشن گیلانی کا ڈیرہ ہے۔
اس میں ایک کمرہ سید روشن کا بھی ہے، کمرہ کی مرمت کی وجہ سے اس کی ہیئت بدل چکی ہے مگر لکڑی کا قدیم دروازہ اب بھی پرانی کہانی سنا رہا ہے۔
ڈیرے پر موجود سید ناصر محمود شاہ کا بیٹا یعنی سید روشن علی گیلانی کا پوتا جو دسویں محرم کی مذہبی تقریبات کے لیے صفائی کا کام کروا رہا تھا نے بتایا کہ 'اس کمرہ میں دادا جی آرام کرتے تھے، اس کے اندر سے نیچے سیڑھیاں جاتی تھیں وہاں بھی ایک کمرہ تھا یہ دونوں کمرے دادا جی کے تصرف میں رہتے تھے۔'

،تصویر کا ذریعہSyed Nasir Mahmood
سید روشن علی گیلانی کون تھے؟
سید روشن علی گیلانی آل انڈیا مسلم لیگ کے کارکن تھے۔ اُن کی وفات 49 برس کی عمر میں سنہ 1961میں ہوئی۔
اِن کے بیٹے سید ناصر محمود گیلانی بتاتے ہیں کہ 'ضلع منٹگمری میں آل انڈیا مسلم لیگ کی نمایاں شخصیات میں سید روشن گیلانی شامل تھے۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سید روشن علی بانی پاکستان محمد علی جناح کے رفقا میں شمار ہوتے تھے۔ ان کا ممتاز دولتانہ کے ساتھ بھی قریبی تعلق تھا اور قیامِ پاکستان کے بعد فاطمہ جناح سے سیاسی تعلق اُستوار رکھا۔
سید ناصر محمود بتاتے ہیں کہ 'قیامِ پاکستان کے بعد یہ زیادہ عرصہ حیات نہ رہ سکے، مگر فاطمہ جناح کے ساتھ کھڑے رہے اور ایوب خان کی مخالفت کرتے رہے، اس کی سزا بھی انھیں دی گئی۔
تقسیمِ ہند کے وقت سید روشن گیلانی، دیپالپور میں مہاجرین کے معاملات کی نگرانی کرتے رہے۔
سید ناصر محمود کہتے ہیں کہ 'انڈیا سے ہجرت کر کے آنے والے مسلمانوں کو دیپالپور میں بسانے کی ذمہ داری سید روشن شاہ کے سپرد تھی۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
محرم کی مجالس اور جلوس میں کس مسلک کے لوگ شریک ہوتے ہیں؟
مسجد غوثیہ گیلانیہ مسلکی ہم آہنگی کا کئی دہائیوں سے مرکز بنی ہوئی ہے۔
عام دِنوں میں بھی اس میں شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے افراد نماز پڑھ لیا کرتے ہیں، جبکہ محرم کے دِنوں میں تو یہ جامع طور پر مسلکی ہم آہنگی کی ایک بڑی علامت بن جاتی ہے۔
نو محرم کا دن اور دس محرم کی رات مسجد کے احاطے میں تعزیے اور عَلم تیار کیے جاتے ہیں۔
اس دوران دِن اور رات بھر ایک طرف دسویں محرم کی مجالس اور جلوس کے لیے اشیا تیار ہوتی رہتی ہیں تو دوسری طرف سنی مسلک کے افراد اپنی عبادات میں مشغول رہنے کے ساتھ ساتھ تعزیے و عَلم کی تیاری میں مدد بھی فراہم کرتے رہتے ہیں۔
مسجد گیلانیہ غوثیہ میں تیار ہونے والے تعزیے اور عَلم دس محرم کی صبح سید روشن علی گیلانی کے ڈیرے پر پہنچا دیے جاتے ہیں۔
یہاں سے پھر ایک جلوس برآمد ہوتا ہے جو صدر بازار سے ہوتا ہوا، پاک پتن گیٹ پر پہنچتا ہے اور وہاں سے غلہ منڈی روڈ پر امام بارگاہ سجادیہ کے سامنے سے گزرتا ہوا دربارسخی سیدن شاہ پر اختتام پذیر ہوتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
دسویں محرم کی مجلس اور جلوس میں ہر مسلک کے افراد شریک پائے جاتے ہیں، حتیٰ کہ مقامی مسیحی برادری کے افراد بھی مجالس اور جلوس میں شمولیت اختیار کرتے ہیں۔
سید احمد رضا گیلانی جو مسجد غوثیہ گیلانیہ کے متولی ہیں کہتے ہیں کہ 'دسویں کے جلوس میں مسیحی برادری کے لوگ بھی شریک ہوتے ہیں، زیادہ تر یہ لوگ ملازم ہیں، جو ڈیوٹی سرانجام دیتے ہیں۔ بعض تو صرف ماتم دیکھنے کی غرض سے بھی آ جاتے ہیں۔'
مقامی رہائشی واجد مسیح سے جب یہ پوچھا کہ وہ خود اور ان کی کمیونٹی کے کتنے لوگ مجالس و دیگر مذہبی تقریبات میں شریک ہوتے ہیں؟ تو ان کا کہنا تھا 'میرے خیال میں ہماری کمیونٹی کے تیس سے چالیس فیصد لوگ محرم کی مجالس اور جلوس میں شریک ہوتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ 'اس کی کئی وجوہات ہیں۔ ایک تو یہ کہ یہاں کی مسلم برادری نے چرچ بنوانے میں مدد کی اور سید ناصر محمود گیلانی اور دیگر اہم لوگ ہمارے لیے نیک خیالات رکھتے ہیں، مددبھی کرتے رہتے ہیں۔'
شعیہ مسلک کے مقامی رہائشی غلام حُر کا کہنا تھا کہ 'مسجد غوثیہ کے اندر تعزیہ کی تیاری کے لیے مسجد کے اندر مخصوص جگہ بنی ہوئی ہے۔
'یہاں گیلانی خاندان جو سنی بھی ہیں اور بعض گھرانے شیعہ بھی کا باہمی الحاق ہے۔ حتیٰ کہ مسجد کے مرکزی دروازہ کی پیمائش کے لیے بھی اہل سنت نے شیعہ برادری کے مرکزی افراد سے پوچھ کر اس کو بنایا کیونکہ تعزیہ باہر نکالنے کے لیے مرکزی دروازہ کا اُونچا ہونا ضروری تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جہاں اہلسنت مجالس اور جلوس میں شرکت کرتے ہیں وہاں بعض جگہوں پر لنگر کا بندوبست بھی کرتے ہیں۔'
سنی مسلک کے حامل مقامی رہائشی عامر حسین سے یہ جاننے کی کوشش کی کہ اہلسنت اور شیعہ مسلک میں ہم آہنگی کیوں ہے اور کب سے ہے؟ تو اُن کا کہنا تھا کہ 'یہاں سنی شیعہ والا کوئی سوال نہیں۔ میں نے تو یہاں تک دیکھا کہ دیوبند مکتبہ فکر کے لوگ بھی یہاں کے سید خاندان اورمحرم کی سرگرمیوں کا احترام کرتے ہیں۔
'میری عمر پینتالیس سال ہونے والی ہے۔ ہم چھوٹے چھوٹے تھے تو یہاں ایسا ہی دیکھ رہے ہیں ہمارے بزرگ بھی یہی بتاتے ہیں۔'
اہلسنت کی مسجد مسلکی ہم آہنگی کا نمونہ کیسے؟
اب سوال یہ ہے کہ مسلکی ہم آہنگی کی موجودہ فضا کیسے اور کیونکر قائم ہوئی؟
اس سوال کے جواب میں سید ناصر محمود شاہ کا کہنا تھا 'یہاں کی مذہبی سرگرمیوں میں شیعہ سنی کا ذکر نہیں ہے۔ میں خود سنی و شیعہ و دیگر تمام مسالک و مذاہب کی مذہبی تقریبات میں شرکت کرتا رہتا ہوں۔‘
'عید میلادالنبی کے جلوس بھی ہمارے ڈیروں سے نکلتے ہیں اور ہم سب اُس میں شریک ہوتے ہیں۔'
محمد سلیم آرائیں مقامی رہائشی ہیں اور سیاسی و سماجی سرگرمیوں میں متحرک رہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ 'یہاں رواداری کی ایک وجہ سید ناصر محمود شاہ کی اپنی شخصیت ہے۔
'ہر مسلک کا فرد اِن کا احترام کرتا ہے۔ یہ ہر مسلک کی عبادت گاہ میں بھی نماز پڑھ لیتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
'عید میلادُالنبی کے اجتماعات میں بھی بھرپور شرکت کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ جب مسیحی برادری کا کوئی خوشی کا دِن ہوتا ہے تو یہ اُن کے لیے کھانا تیار کرواکر بھیجتے ہیں۔'
مقامی سینیئر صحافی اور تحریک لبیک کے ٹکٹ پر عام انتخابات 2018 کا الیکشن لڑنے والے جاوید کنول سے یہاں موجود مذہبی و مسلکی ہم آہنگی کی فضا سے متعلق پوچھا گیا تو اُن کا کہنا تھا 'سید ناصر محمود شاہ نے کیتھولک چرچ کی ایک آدھ بار مرمت کروائی، قبرستا ن کی جگہ دلوانے میں بھی کردار ادا کیا۔
'جاوید اقبال مسیح سابق ممبر ڈسٹرکٹ کونسل اوکاڑہ اور امام بارگاہ ایوانِ حسین کے متولی خان جرار حیدر خان اور مجموعی طور پر اہلِ تشیع کی کوششوں سے مسیحی برادری کی عبادت گاہ تعمیر ہوئی۔‘
'یہی وجہ ہے کہ مسیحی برادری جو زیادہ تر دیپالپور کے محلہ ننکانہ صاحب میں مقیم ہے، اِن کے افراد محرم کی مجالس اور جلوس میں شرکت کرتے رہتے ہیں۔'

یہ بھی پڑھیے
سید احمد رضا گیلانی سے جب یہ پوچھا کہ 'سنی مسلک کی مسجد میں تعزیے اور عَلم کی تیاری کی روایت کیسے اور کب پڑی؟ تو اُن کا کہنا تھا کہ 'ایسا گذشتہ ساٹھ ستر برس سے ہو رہا ہے ‘
پہلے تو ذوالجناح کو بھی مسجد کے احاطہ کے اندر تیار کیا جاتا تھا، پھر ہم نے کہا کہ جانور کے فضلے سے مسجد ناپاک ہو جاتی ہے تو اِس کو باہر تیار کر لیا کریں۔‘
'لیکن تعزیہ کی تیاری 9 محرم کی صبح سے رات گئے تک ہوتی ہے، مسجد کا گیٹ اس لیے اُونچا رکھا گیا کہ تعزیہ اور عَلم باہر نکالنے میں دُشواری نہ ہو۔'
واضح رہے کہ سید احمد رضا گیلانی سنی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں اور مسجد کے عین سامنے ان کے ڈیرہ سے 12 ربیع الاوّل کو عید میلادالنبی کا جلسہ بھی ہوتا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ 'شیعہ مسلک کے افراد ہمارے جلسے اور جلوسوں میں شریک ہوتے ہیں۔'


























