پنجاب میں حکومت کے بغیر، وزیر اعظم شہباز شریف کے لیے وفاق میں حکومت چلانا کتنا مشکل ہو سکتا ہے؟

شہباز شریف

،تصویر کا ذریعہPID

    • مصنف, احمد اعجاز
    • عہدہ, صحافی، مصنف
  • وقت اشاعت

چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے ایک تین رکنی بینچ کے فیصلے کے نتیجے میں منگل کو رات گئے پاکستان مسلم لیگ ق کے رہنما چوہدری پرویز الٰہی نے ایوان صدر میں وزیر اعلیٰ پنجاب کے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اب صورتحال کچھ اس طرح ہے کہ صوبہ پنجاب کی وزرات اعلیٰ پاکستان مسلم لیگ ن کے ہاتھ سے نکل کر اپوزیشن پاکستان تحریک انصاف کی جھولی میں آن گری ہے تاہم مسلم لیگ ن کی قیادت میں اتحادی جماعتیں وفاق میں بدستور برسرِ اقتدار ہیں۔

موجودہ صورتحال میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وفاقی حکومت جس کی پنجاب میں حکومت نہیں رہی وہ کس طرح پنجاب کے بغیر وفاق کے امور چلا پائے گی؟

اس سوال کے تفصیلی جواب سے پہلے یہ دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ پاکستان کی تاریخ میں کب کب ایسا ہوا کہ وفاق اور پنجاب میں برسرِ اقتدار حکومتیں ایک سیاسی جماعت کے پاس نہیں تھیں اور اس صورتحال کے سیاسی سطح پر کیا نتائج برآمد ہوئے؟

وفاق اور پنجاب میں الگ جماعتوں کی حکومتیں: سیاسی نظام پر کیا اثر پڑا؟

بینظیر

،تصویر کا ذریعہZAHID HUSSAIN

،تصویر کا کیپشن1988 میں جب بینظیر بھٹو وزیر اعظم بنیں تو پنجاب میں ان کے مخالف سیاسی اتحاد آئی جے آئی کی حکومت بنی تھی

اگست 1988 میں فوجی صدر ضیا الحق کی طیارہ حادثے میں وفات کے بعد پاکستان میں ایک نئے جمہوری دور کا آغاز ہوا اور اُسی برس ہونے والے انتخابات کے نتیجے میں بینظیر بھٹو پاکستان کی وزیرِ اعظم بن گئیں۔

ان انتخابات کے نتیجے میں وفاق میں پیپلزپارٹی کی حکومت تو قائم ہوئی مگر پنجاب جیسے بڑے صوبے میں اسلامی جمہوری اتحاد نے حکومت سازی کی اور میاں نوازشریف پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ بن گئے۔

وفاق اور پنجاب میں الگ الگ جماعتوں کے برسراقتدار آنے کے بعد سیاسی کشمکش کی ابتدا ہوئی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وفاقی حکومت اپنی مُدت پوری نہ کر سکی۔

طاہر کامران اپنی کتاب ’پاکستان میں جمہوریت اور گورننس‘ میں لکھتے ہیں کہ ’سنہ 1988 میں پنجاب میں طاقت حاصل کرنے کے بعد اُن (نواز شریف) کا رویہ اور حکمتِ عملی معاندانہ رہی۔ دوسری جانب بے نظیر نے بھی، بے اعتباری سے بھری اس صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے کچھ خاص نہ کیا۔‘

نواز شریف

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن’سنہ 1988 میں پنجاب میں طاقت حاصل کرنے کے بعد اُن (نواز شریف) کا رویہ اور حکمتِ عملی معاندانہ رہی‘

وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ صوبائی خود مختاری حاصل کرنے میں خاصے بے باک تھے، جُوں جُوں مرکز اور پنجاب میں جھگڑا بڑھتا چلا گیا توں توں بے نظیر بھٹو کا تاثر خراب ہوتا چلا گیا اور اُن کی حکومت صوبائی حکومتوں کے ساتھ ہم آہنگی حاصل کرنے میں ناکام ہوتی چلی گئی۔‘

اور اس تمام تر سیاسی کشمکش کا نتیجہ سیاسی عدم استحکام کی صورت میں سامنے آتا چلا گیا۔

سنہ 1990 کے انتخابات میں میاں نوازشریف وزیرِ اعظم بن تو گئے، مگر صدر غلام اسحاق خان کے ساتھ اُن کے تعلقات کشیدہ رہے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ صدر نے نوازشریف کی حکومت کو چلتا کیا اور انتخابات کا اعلان کر دیا۔

نواز شریف نے فوری عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا جس نے اُن کی حکومت کو بحال کر دیا مگر اس دوران پنجاب میں سیاسی بحران شدت اختیار کر چکا تھا۔

نواز شریف کے حق میں سپریم کورٹ کا فیصلہ تو آ گیا، مگر سیاسی عدم استحکام جاری رہا۔ وزیر اعلیٰ میاں منظور وٹو کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع ہوئی تو گورنر نے اسمبلی تحلیل کرنے کا فیصلہ کر لیا، مگر یہ معاملہ بھی متنازع ہوا۔

نواز شریف پنجاب حکومت کا انتظام و انصرام وفاق کے سپرد کرنے کی پارلیمان سے قرارداد منظور کروا لی اور اس پر صدر کی توثیق کی ضرورت بھی محسوس نہ کی گئی۔

صوبے کے انتظامی اُمور کے لیے نمائندے بھی نامزد کر دیے اور وفاقی حکومت نے یہ ہدایت بھی کی کہ گورنر اور وزیرِ اعلیٰ کو کام سے روکنا مقصود ہوتو روک دیا جائے۔

پنجاب میں نوازشریف کو سخت مسائل کا سامنا کرنا پڑا اور درحقیقت ایسی صورتحال پیدا ہوئی کہ وزیراعظم کا اختیار محض اسلام آباد تک محدود ہو کر رہ گیا۔

سیاسی تجزیہ کار ڈاکٹر سید جعفر احمد کہتے ہیں ’میاں نوازشریف کی حکومت ختم ہوئی اور پھر سپریم کورٹ کے فیصلے کے نتیجے میں بحال کر دی گئی لیکن یہ حکومت اسلام آباد تک محدود ہو کر، ختم ہو گئی کیونکہ حکومت بحال ہونے کے بعد بھی محاذ آرائی کی بدولت قائم نہ رہ سکی۔‘

سنہ 2008 کے عام انتخابات کے نتیجے میں ایسی صورتحال نے جنم لیا مگر نتائج کچھ مختلف رہے۔ 2008 میں جب پاکستان پیپلزپارٹی نے وفاق میں حکومت سنبھالی تو پنجاب میں مسلم لیگ ن نے اقتدار سنبھالا اور میاں شہباز شریف وزیرِ اعلیٰ بن گئے۔

نواز

،تصویر کا ذریعہODD ANDERSEN

،تصویر کا کیپشن’میثاق جمہوریت سے پہلے کے پاکستان میں وفاق یہ برداشت نہیں کر سکتا تھا کہ پنجاب میں حکومت کسی اور سیاسی جماعت کی ہو‘

سنہ 2008 سے سنہ 2013 تک وفاق اور پنجاب کے مابین سیاسی کشمکش رُونما نہ ہوئی، جس کی بنیادی وجہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے مابین چارٹر آف ڈیموکریسی کی بدولت سیاسی مفاہمت قرار دی جا سکتی ہے۔

سیاسی تجزیہ کار ضیغم خان کہتے ہیں ’چارٹر آف ڈیموکریسی (میثاق جمہوریت) سے پہلے کے پاکستان میں وفاق یہ برداشت نہیں کر سکتا تھا کہ پنجاب میں حکومت کسی اور سیاسی جماعت کی ہو۔‘

’چارٹر آف ڈیموکریسی کی روشنی میں اکثریتی پارٹی کو حکومت بنانے کا اخلاقی جواز دیا گیا۔ 2013 کے انتخابات میں خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف بڑی پارٹی ضرور تھی لیکن اکثریتی پارٹی نہ تھی، یہی وجہ تھی کہ مولانا فضل الرحمن نواز شریف پر زور دیتے رہے کہ حکومت ہمیں بنانا چاہیے۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ ’مگر نواز شریف نے چارٹر آف ڈیموکریسی کے مطابق عمران خان کو حکومت بنانے دی۔‘

موجودہ صورتحال کے کیا نتائج ہو سکتے ہیں؟

پرویز الہی، عمران خان

،تصویر کا ذریعہtwitter/@chparvezelahi

اب جب پرویز الٰہی وزیرِ اعلیٰ بن گئے ہیں، تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وفاق اور پنجاب کے مابین سیاسی انتشار جنم لے سکتا ہے؟ یا ددنوں طرف سے مفاہمت کا راستہ اپنایا جائے گا؟ نیز پنجاب کی حکومت ملنے کے بعد عمران خان وفاق پر فوری انتخابات کا دباؤ مزید بڑھا نے کے لیے پنجاب حکومت کا سہارا لیں گے؟

اس سوال کے جواب میں سینیئر صحافی اور تجزیہ کار اویس توحید کہتے ہیں ’پنجاب میں حکومت کسی کی بھی ہو، عمران خان کے لیے وفاقی حکومت اہمیت رکھتی ہے۔‘

’اس وقت عمران خان کی حکومت، پنجاب، خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان اور کشمیر میں ہے۔ کمزور حکومت کے وزیرِ اعظم میاں شہباز شریف کے پاس سیاسی و اخلافی جواز تو کوئی نہیں رہ گیا۔ عمران خان اس وقت زیادہ مضبوط پوزیشن میں ہیں، یہ وفاق کو مجبور کریں گے کہ جلد الیکشن کی طرف جائیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’پی ٹی آئی کی جانب سے پنجاب میں ضمنی الیکشن کی کامیابی کے بعد ن لیگ کی پنجاب میں بالادستی کو نقصان پہنچا ہے۔ پنجاب میں ضمنی الیکشن کی کامیابی اور پنجاب میں حکومت ملنے کے بعد عمران نے جو چینل اسٹیبلشمنٹ سے بند کیے تھے، وہ بھی دوبارہ کُھل جائیں گے۔‘

اگر وفاق اور پنجاب کے مابین سیاسی تصادم رُونما ہوتا ہے تو اس کے نتائج کیا برآمد ہوں گے؟ اس ضمن میں سینیئر صحافی اور تجزیہ کار نذیر لغاری کہتے ہیں ’وفاق اور پنجاب کے مابین کشمکش سے اُس طرح کی صورت حال جنم لے گی، جس طرح کی صورتحال 1988 کے انتخابات کے بعد پیدا ہوئی تھی۔ لیکن فی الوقت پاکستان کی معیشت کی حالت ابتر ہو چکی ہے، ملک ڈیفالٹ ہونے کے قریب ہے، وفاق اور پنجاب کے مابین سیاسی کھینچا تانی مزید عدم استحکام پیدا کرے گی جس سے ملک کا مجموعی نقصان ہو گا۔‘

نذیر لغاری مزید کہتے ہیں ’اصل میں لڑائی طاقت کے مراکز میں ہے، زلزلے کا مرکز کوئی اور جگہ ہے۔ وہاں جب سکون ہوگا تو وفاق اور پنجاب کے مابین بھی سکون ہو جائے گا۔‘ انھوں نے کہا کہ ’سیاسی قیادت کو ڈائیلاگ کا راستہ اپنانا چاہیے۔‘

ڈاکٹر سید جعفر احمد کہتے ہیں ’اگرچہ وفاق میں برسرِاقتدار حکومت کا پنجاب میں اقتدار نہیں، مگر حکومت میں شامل پیپلزپارٹی کی سندھ میں حکومت ہے، وفاقی حکومت کی پنجاب میں حکومت نہ ہونے سے کوئی زیادہ فرق نہیں پڑے گا۔‘

’اگر وفاق اور پنجاب کی کسی معاملے پر کشمکش ہو جاتی ہے اور پنجاب کی جانب سے مسائل پیدا کیے جاتے ہیں تو اس میں مسلم لیگ ن کے بچاؤ کا ایک راستہ بھی موجود ہے۔ اس ضمن میں مسلم لیگ ن اور وفاقی حکومت مقتدر حلقوں کو کردار ادا کرنے کے لیے کہہ سکتے ہیں۔ پرویز الٰہی بھی عمران خان کے اشارے سے زیادہ اسٹیبلشمنٹ کے اشارے پر چلنے کو ترجیح دیں گے۔‘

اس حوالے سے ضیغم خان کا خیال ہے کہ ’پی ٹی آئی کی پنجاب میں حکومت سے آئینی طور پر وفاق کو کوئی رکاوٹ نہیں، فیڈرل گورنمنٹ کمزور نہیں۔‘

’وفاق کے پاس وسائل کافی ہیں۔‘

وہ مزید کہتے ہیں ’یہ ہو سکتا ہے کہ عمران خان تنگ کریں۔ پنجاب اور خیبرپختونخوا کے وسائل کے ذریعے اسلام آباد کا رُخ کریں۔ لا اینڈ آرڈر کا مسئلہ پیدا ہو گا ،مگر یہ مسئلہ وفاق کے ساتھ نہیں ریاست کے ساتھ ہو سکتا ہے۔‘

چودھری پرویزالٰہی، وفاقی حکومت کے لیے مشکلات پیدا کریں گے؟

سیاسی ماہرین کے مطابق پنجاب کے حالیہ ضمنی انتخابات کی کامیابی اور بعدازاں سپریم کورٹ کی جانب سے ڈپٹی سپیکر پنجاب دوست محمد مزاری کی رولنگ کو کالعدم قرار دیے جانے سے عمران خان کو وزارتِ عظمیٰ سے ہٹنے کے بعد سب سے بڑا سیاسی ریلیف ملا ہے۔

دوسری طرف پرویز الٰہی کے بارے میں عام طور پر یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ یہ انتظامی مشینری کا خوب استعمال کر سکتے ہیں اور سیاسی مخالفین بالخصوص مسلم لیگ ن کو مشکلات سے دوچار کر سکتے ہیں۔

مگر کیا پرویز الٰہی مسلم لیگ ن اور وفاقی حکومت کے لیے مشکلات پیدا کریں گے، اس پر ڈاکٹر سید جعفر احمد کہتے ہیں ’آصف علی زرداری نے چودھری برادران سے ڈیل کرنے کی کوشش کی تھی کہ پرویز الٰہی کو حکومتی اتحاد کا پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ کے لیے مشترکہ اُمیدوار بناتے ہیں، مگر کامیاب نہ ہوئے۔‘

’عمران خان کے پاس سب سے بڑا کارڈ مزاحمت کا ہے، اگر یہ وفاقی حکومت کے خلاف احتجاج اور مارچ کرتے ہیں اور چودھری پرویز الٰہی مکمل ساتھ دیتے ہیں تو پنجاب عملاً مکمل طور پر بند ہو جائے گا اور اس سے نہ ختم ہونے والی محاذ آرائی جنم لے گی۔‘