سپریم کورٹ میں پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر دوست مزاری کی رولنگ کے خلاف درخواست پر سماعت کا احوال

سپریم کورٹ
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری کی رولنگ سے متعلق درخواست کی سماعت کرنے کے لیے جب کمرۂ عدالت میں بیٹھا تو ان کی آمد سے پہلے ہی کمرہ عدالت وکلا اور مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین سے بھر چکا ہے۔

پیر کو اس درخواست کی سماعت سے پہلے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدور بھی موجود تھے جن کا بینچ کے سربراہ نے نوٹس لیا اور انھوں نے سپریم کورٹ بار کے سابق صدر لطیف آفریدی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ یہاں کیوں آئے ہیں؟‘ اس پر ان کا کہنا تھا کہ ’ملک کے سیاسی حالات جس نہج پر پہنچ چکے ہیں، اس کو مدنظر رکھتے ہوئے استدعا کی جا رہی ہے کہ اس کے لیے فُل کورٹ بنایا جائے۔‘

سپریم کورٹ بار کے موجودہ صدر احسن بھون نے بھی اسی مطالبے کو دھرایا جسے عدالت نے سنجیدگی سے نہیں لیا۔

خیال رہے کہ قریب آٹھ گھنٹے طویل سماعت کے بعد عدالت عظمیٰ نے فل کورٹ بنانے کی تمام درخواستیں مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس ضمن میں تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔ ادھر حکومتی اتحاد نے عدالتی کارروائی کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔ پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ’اگر عدالت فُل کورٹ بنانے کی درخواست مسترد کرتی ہے تو ہم عدلیہ کے فیصلے کو مسترد کرتے ہیں۔‘

سماعت کے دوران حمزہ شہباز کے وکیل جب دلائل دے رہے تھے تو وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ان کے کان میں کچھ کہتے اور پھر اپنی سیٹ پر بیٹھ جاتے۔ جب یہ عمل تین، چار مرتبہ دھرایا گیا تو بینچ میں موجود جسٹس اعجاز الاحسن نے وزیر اعلیٰ کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’حمزہ شہباز کے وکیل آپ ہیں یا وزیر قانون؟‘ اس پر وزیر قانون کا کہنا تھا کہ ’کچھ ہدایات انھیں ملی تھیں جو وہ وزیر اعلی کے وکیل کو بتا رہے تھے۔‘

سماعت کے دوران ایک موقع پر بینچ کے سربراہ نے پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر کے وکیل عرفان قادر کو کسی معاملے پر خاموش رہنے کا کہا اور متنبہ کیا کہ ’اگر ایسا نہ کیا تو وہ انھیں کرسی پر بِٹھا دیں گے۔‘ تو اس پر عرفان قادر، جو کہ سابق اٹارنی جنرل بھی رہ چکے ہیں، نے جواب دیا کہ ’مائی لارڈ! وکلا کو جھاڑ پلانا آپ کا اختیار ہے لیکن قانون میں دوسروں کی عزت کرنے کے بارے میں بھی ذکر کیا گیا ہے۔‘

سپریم کورٹ
،تصویر کا کیپشندرجنوں سیاستدان اور صحافی کافی دیر تک دروازے پر کھڑے رہے

اس معاملے پر فُل کورٹ بنانے کے لیے حکمراں اتحاد کی مرکزی تین جماعتوں کے علاوہ دوست محمد مزاری اور حمزہ شہباز شریف کے وکیل نے اس مؤقف کی حمایت کی تھی جبکہ پرویز الہی اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وکلا کا مؤقف تھا کہ اس معاملے پر فُل کورٹ بنانے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ صرف ایک سوال کا جواب عدالت ان سے مانگ رہی ہے کہ کسی امیدوار کو ووٹ دینے سے متعلق ہدایات دینے کا اختیار پارٹی سربراہ کے پاس ہے یا اس جماعت کے پارلیمانی لیڈر کے پاس۔

سماعت میں وقفے کے بعد جب اس معاملے کی سماعت شروع ہوئی تو وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے سپریم کورٹ کے احاطے میں پریس کانفرنس میں یہ واضح کردیا کہ ’اگر فل کورٹ نہیں بنتی تو وہ عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کریں گے۔‘

اسی قسم کا بیان وزیر قانون نے عدالت میں سماعت کے دوران دیا کہ ’اگر اس معاملے کے لیے فُل کورٹ نہیں بنتا تو پھر وہ حکمراں اتحاد سے مشاورت کے بعد عدالت کو بتائیں کہ ان کا اگلا لائحہ عمل کیا ہوگا۔‘

اس پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’کیا کہیں ایسی کوئی مثال ملتی ہے کہ کبھی کسی حکومت نے اپنی سپریم کورٹ کو تسلیم نہ کیا ہو؟‘ انھوں نے کہا کہ ’ایسا بیان ملک کے لیے نقصان دہ ہے۔‘

اس طرح کا مؤقف دیگر درخواست گزاروں نے بھی اپنایا اور کہا کہ ان کے موکلین نے ابھی انھیں صرف یہ ہدایات دی تھیں کہ صرف فُل کورٹ تک دلائل دیے جائیں۔ مگر عدالت کے ججز کے رویے کو دیکھ کر انھوں نے کہا کہ وہ اس معاملے پر دلائل دینے کو تیار ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

سپریم کورٹ
،تصویر کا کیپشنسماعت کے موقع پر سپریم کورٹ کے باہر غیر معمولی حفاظتی اقدامات کیے گئے تھے

عرفان قادر، پاکستان پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک اور پاکستان مسلم لیگ ق کے صدر چوہدری شجاعت حسین کے وکیل صلاح الدین نے بھی دلائل دیے۔

چوہدری شجاعت حسین کے وکیل نے اپنے دلائل کے دوران ایک موقع پر کہا کہ ’لوگ ماڈل ٹاؤن کے شریفوں کے معجزے اور گجرات کے چوہدریوں کے شاندار ماضی کو دیکھ چکے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’حمزہ وزیر اعلی بنیں یا چوہدری پرویز الہی، کوئی آسمان نہیں گرے گا لیکن عوام میں یہ تاثر گیا ہے کہ اہم سیاسی معاملات پر چند ججز فیصلہ کرتے ہیں تو آسمان ضرور گرے گا۔‘

پورے دن سپریم کورٹ کے باہر غیر معمولی حفاظتی اقدامات کیے گئے تھے۔ پولیس اور رینجرز کے علاوہ ایف سی کے اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا۔

کسی بھی غیر متعلقہ شخص کو سپریم کورٹ کے احاطے میں جانے کی اجازت نہیں تھی۔ درجنوں سیاستدان اور صحافی کافی عرصے تک دروازے پر کھڑے رہے لیکن جب انھیں اندر جانے کی اجازت نہیں ملی تو وہ مایوس ہو کر واپس لوٹ گئے۔

پنجاب اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما میاں محمود الرشید سپریم کورٹ کے مرکزی دروازے پر پولیس اہلکاروں کو بتاتے رہے تھے کہ ’میں محمود الرشید ہوں اور پنجاب اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر ہوں۔ مجھے اندر جانے کی اجازت دی جائے۔۔۔‘

لیکن کسی نے بھی ان کی طرف دھیان نہیں دیا اور نہ ہی کسی نے ان کو پہچانا۔ جب آدھے گھنٹے تک انھیں اندر جانے کی اجازت نہ دی گئی تو وہ واپس لوٹ گئے۔