سیالکوٹ میں پاکستان تحریکِ انصاف کے جلسے کی جگہ پر تنازعہ، جلسہ گاہ کا مقام تبدیل کر دیا گیا

@EjazChaudhary

،تصویر کا ذریعہ@EjazChaudhary

    • مصنف, احتشام احمد شامی
    • عہدہ, صحافی، گوجرانوالہ
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 5 منٹ

دن بھر کی ہنگامہ آرائی اور ضلعی انتظامیہ و مسیحی برادری کی طرف سے سی ٹی آئی گراؤنڈ میں جلسے کی اجازت نہ دینے کے بعد پاکستان تحریکِ انصاف کی قیادت نے آج سیالکوٹ میں ہونے والے اپنے جلسے کا مقام اب تبدیل کر لیا ہے۔

پی ٹی آئی رہنما شفقت محمود نے سیالکوٹ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب جلسہ سی ٹی آئی گراؤنڈ میں نہیں بلکہ وی آئی پی گراؤنڈ میں ہو گا جو عثمان ڈار کی فیکٹری سے ملحقہ گراؤنڈ ہے۔

جلسے کا وقت شام پانچ بجے ہی ہو گا جبکہ سابق وزیراعظم عمران خان شام چھ بجے جلسہ گاہ پہنچیں گے اور کارکنوں سے خطاب کریں گے۔

شفقت محمود نے الزام لگایا کہ کہ پولیس نے پاکستان مسلم لیگ نون کے رہنما اور وفاقی وزیر خواجہ آصف کے کہنے پر تشدد کیا۔

انھوں نے مطالبہ کیا کہ ڈپٹی کمشنر فوری طور پر عثمان ڈار سمیت گرفتار کیے گئے تمام کارکنوں کو رہا کریں ورنہ ہم احتجاج کریں گے۔

اس پریس کانفرنس کے کچھ دیر بعد سیالکوٹ پولیس کے ترجمان نے وضاحت دی کہ تحریک انصاف کے رہنما عثمان ڈار سمیت زیرحراست پی ٹی آئی کے تمام کارکنوں کو رہا کردیا گیا ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ سی ٹی آئی گراؤنڈ میں نقص امن کے تحت جن افراد کو کچھ گھنٹوں قبل حراست میں لیا گیا تھا ان کو ابتدائی پوچھ گچھ کے بعد چھوڑ دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں پی ٹی آئی کی رہنما ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے سیالکوٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عثمان ڈار سمیت 22 کارکنوں کو رہا کر دیا گیا ہے، اور وہ جو شیر بنے تھے گیدڑ بن گئے ہیں۔

یاد رہے اس سے قبل سیالکوٹ میں تحریک انصاف کے جلسے کی جگہ کے تنازعہ پر ضلعی انتظامیہ اور پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے جلسے کے انتظامات رکوا دیے تھے۔

ضلعی انتظامیہ نے چرچ کی ملکیتی جگہ پر جلسے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا اور پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے نہ صرف سٹیج اکھاڑ دیا بلکہ پی ٹی آئی کے رہنما عثمان ڈار سمیت متعدد کارکنوں کو بھی حراست میں لے لیا تھا۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 1

چرچ کی جگہ تنازعہ کی بنیاد

تحریک انصاف جس جگہ پر جلسہ کروانا چاہتی تھی وہ مسیحی برادری کی ایک چرچ کی ملکیت ہے جس سے ملحقہ سی ٹی آئی سکول بھی ہے۔

پی ٹی آئی نے جب اس گراؤنڈ میں 14 مئی کو جلسہ کرنے کا اعلان کیا تو کرسچن ٹرسٹ کی جگہ پر جلسہ روکنے کے لیے ٹرسٹ کے ارکان نے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی تھی جس کے بعد عدالت نے ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ کو اس معاملے کو نمٹانے کا حکم دیا تھا۔

مسیحی برادری نے سی ٹی آئی گراؤنڈ میں زبردستی جلسے کے انعقاد کی کوشش پر سیالکوٹ اور لاہور میں احتجاجی مظاہرے بھی کیے ہیں۔

سیالکوٹ کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر حسن اقبال کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں سماعت کے دوران پی ٹی آئی کی مقامی قیادت نے یہ یقین دہانی کروائی تھی کہ وہ اس جگہ پر جلسہ نہیں کریں گے لیکن اس کے باوجود ٹرسٹ کی جگہ پر جلسے کے انتظامات کیے گئے۔

ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ عمران قریشی کے مطابق ضلعی انتظامیہ نے پی ٹی آئی کے رہنماؤں کو تین متبادل جگہوں کی آفر دیں جن میں سٹیڈیم اور مرے کالج کا گراؤنڈ شامل ہیں۔

ضلعی انتظامیہ کی طرف سے کہا گیا کہ وہ ان میں سے کسی ایک جگہ پر جلسہ کے انعقاد کے لیے درخواست دے دیں تو اسے منظور کرلیا جائے گا لیکن مبینہ طور پر پی ٹی آئی کے مقامی قائدین نہ مانے اور بضد رہے کہ وہ سی ٹی آئی گراؤنڈ میں ہی جلسہ کریں گے۔

@M0htrum

،تصویر کا ذریعہ@M0htrum

جلسہ رکوانے کے لیے پولیس کی کارروائی

ضلعی انتظامیہ اور پی ٹی آئی کی مقامی قیادت کے مابین بات نہ بننے کے بعد پی ٹی آئی نے چرچ کی جگہ پر ہی سٹیج بنانا شروع کر دیا جس کے بعد آج صبح پولیس کی بھاری نفری نے جلسہ گاہ پر دھاوا بول دیا۔

سیالکوٹ پولیس کی جانب سے کارکنوں کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا گیا اور شیلنگ کی گئی، پولیس اہلکاروں نے سٹیج سمیت دیگر تنصیبات بھی اکھاڑ ڈالیں ہیں۔

پنڈال کو اکھاڑنے کے لیے جب بلدیہ اور محکمہ ہائی وے کی مشینری گراؤنڈ میں پہنچی تو عثمان ڈار و دیگر مقامی رہنما احتجاجاً اس کے سامنے لیٹ گئے جس پر پولیس اہلکاروں نے احتجاج کرنے والوں کو حراست میں لے لیا۔

یہ بھی پڑھیے

پولیس کی طرف سے شیلنگ کے باعث کارکنان گراؤنڈ سے منتشر ہو گئے جو کہ بعد ازاں کچہری چوک میں جمع ہوئے جہاں انھوں نے حکومت کے خلاف نعرے بازی شروع کر دی۔

سیالکوٹ پولیس کا کہنا ہے کہ نقص امن کے تحت عثمان ڈار، ان کے بھائی عمر ڈار، صاحبزادہ حامد رضا، سعید بھلی سمیت کچھ کارکنان کو حراست میں لیا گیا۔

ضلعی انتظامیہ کا مؤقف

ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ عمران قریشی کا کہنا ہے کہ جلسہ گاہ کے بارے میں پی ٹی آٸی کی مقامی قیادت کو متبادل جگہ کے انتخاب کا کہا تھا۔

ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ انھوں نے کل پی ٹی آئی کے قاٸدین اور مسیحی برادری کے افراد کو ہاٸیکورٹ کی ہدایت پر سنا تھا، پی ٹی آئی کے قاٸدین نے مسیحی برادری کی گراٶنڈ کی ملکیت کو تسلیم کر کے جلسے کی اجازت مانگی لیکن مسیحی برادری نے سیاسی جماعت کے قاٸدین کو گراٶنڈ دینے سے انکار کیا۔

ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ جلسہ کرنا سب کا آٸینی و قانونی حق ہے لیکن کسی بھی اقلیت کی ملکیتی جگہ پر بغیر اجازت جلسہ کرنا مناسب نہیں، کل کوٸی اور فریق یا گروہ بھی ادھر آ کر جلسہ کر سکتا تھا۔

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر حسن اقبال کا کہنا ہے کہ ہم نے پہلے آ کر قاٸدین سے مذاکرات کی کوشش کی بعد ازاں وینڈرز نے خود ہی اپنا سامان اکٹھا کرنا شروع کر دیا۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 2

دوسری جانب پی ٹی آئی رہنما عثمان ڈار نے پولیس حراست سے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ ’صرف ایک دن پہلے ہمیں کہا کہ آپ یہاں جلسہ نہ کریں اور اپنا سامان اٹھا لیں، ہم گھبرانے والے نہیں، ہم ڈٹے ہوئے ہیں، ہمیں جیلوں میں ڈال دیں، حقیقی آزادی کی تحریک چل کر رہے گی۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ سیالکوٹ کے تمام کارکن آج گھروں سے باہر نکلیں۔ ’عمران خان آج سیالکوٹ آئیں گے، یہ لوگ ہمیں جیلوں میں ڈال دیں، پرامن جلسہ کرنا ہمارا آئینی اور قانونی حق ہے۔‘

پی ٹی آئی کے رہنما فرخ حبیب نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے دس روز پہلے جلسے کی اجازت مانگی تھی، گذشتہ رات ہمیں کہا گیا کہ آپ یہاں جلسہ نہیں کر سکتے، مسلم لیگ نون نے ہمیشہ مخالفین کے خلاف انتقامی کارروائیاں کیں۔

دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ عوام ان نا اہلوں کو سننے اور اپنی جگہ دینے کو تیار نہیں۔

’پی ٹی آئی قیادت کو چاہیے کہ وہ مسیحی برادری کے جذبات کا احترام کرے، یہ چاہتے ہیں کہ رانا ثنا اللہ پرائیویٹ جگہ پر ان کا جلسہ زبردستی کروائیں، عوام اگر نجی جگہ دینے کو تیار نہیں تو اس میں رانا ثنا اللہ کا کیا قصور ہے۔‘

آخر سی ٹی آئی گراؤنڈ ہی کیوں؟

سیالکوٹ کے اندرون شہر سی ٹی آئی چرچ اور اس سے ملحقہ سکول اور گراؤنڈ ہے، یہ جگہ لاری اڈے اور ضلع کچہری کے قریب ترین ہے اور اگر یہاں جلسہ ہوتا ہے تو کارکنوں کے لیے پہنچنا آسان ہے۔

مسلم لیگ نون کے ایک مقامی رہنما چودھری نصیر کا کہنا ہے کہ سٹیڈیم اور مرے کالج کے گراؤنڈ بڑے ہیں جنھیں بھرنا مشکل ٹاسک ہے، اس کے برعکس سی ٹی آئی گراؤنڈ اتنا بڑا نہیں اور یہاں اندرون شہر سے پیدل بھی لوگ آسکتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ پی ٹی آئی کی مقامی قیادت بضد ہے کہ وہ یہاں جلسہ کرے گی۔