تحریک عدم اعتماد: پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں وزیراعظم کے انتخاب کا عمل پیر تک روکنے کا حکم، ہائیکورٹ

ajkhighcourt.gok.pk

،تصویر کا ذریعہajkhighcourt.gok.pk

    • مصنف, ایم اے جرال
    • عہدہ, صحافی
  • وقت اشاعت

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں اپوزیشن کی جانب سے دائر رٹ پر ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے قانون ساز اسمبلی کے سپیکر کو وزیراعظم کے انتخاب کا عمل پیر تک روکنے کا حکم دیا ہے۔

اپوزیشن کے ایک وکیل چوہدری شوکت عزیز کے مطابق ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے اس رٹ پر ہائی کورٹ میں لاجر بینچ بنانے کی تجویز دی ہے۔

ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف پی ٹی آئی نے اس خطے کی سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے جس پر یہاں کی سپریم کورٹ کا فل کورٹ بینچ سنیچر کو سماعت کرے گا۔

یاد رہے پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے وزیراعظم عبدالقیوم نیازی اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنا استعفی اس خطے کے صدر سلطان محمود چوہدری اور عمران خان کو بھجوا دیا ہے۔

سردار عبدالقیوم نیازی نے یہ استعفیٰ ایک ایسے وقت دیا جب پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں پی ٹی آئی کے 25 ارکین نے ان کے خلاف دو دن پہلے عدم اعتماد کی تحریک پیش کی تھی۔

اس عدم اعتماد کی قراداد میں وزیراعظم پر اقرا پروری کے علاوہ پاکستان تحریک انصاف کے منشور پر عمل نہ کرنے، گڈ گورننس کا فقدان اور مسئلہِ کشمیر اجاگر نہ کرنے کے الزامات لگائے تھے۔

عدم اعتماد کی تحریک پر سپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری انوارالحق نے 15 اپریل کو اجلاس طلب کر رکھا ہے۔

عبدالقیوم نیازی

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیراعظم عبدالقیوم نیازی نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے مبینہ طور پر عدم اعتماد کی تحریک لانے والے وزیراعظم کے لیے نامزد امیدوار اور سینیئر وزیر سمیت چار وزرا اور ایک مشیر کو برطرف کر دیا اور ان پر بدعنوانی اور غلط رویہ کا جوابی الزام عائد کیا۔

سردار عبدالقیوم نیازی نے اسلام آباد میں کی جانے والی نیوز کانفرنس میں پی ٹی آئی اراکین کی جانب سے قراداد میں لگائے جانے والے الزمات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ‘نہ غلط کام کیا اور نہ کسی کی غلط بات کو سنا یہ ہی میرا قصور ہے۔‘

مستعفی ہونے والے وزیراعظم سردار عبدالقیوم خان گذشتہ سال جولائی میں ہونے والے عام انتخابات کے بعد وزیراعظم منتخب ہوئے اور آٹھ ماہ سے زائد عرصہ اس خطے کے وزیراعظم رہے۔

عبدالقیوم نیازی

عدم اعتماد تحریک لانے والے اراکین کا کہنا ہے کہ انھیں عمران خان کی حمایت حاصل ہے۔

برطرف کیے جانے والے ایک وزیر خواجہ فاروق احمد نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے ’سردار عبدالقیوم نیازی کے خلاف عدم اعتماد پارٹی چیئرمین اور قائد عمران خان کے فیصلے کی روشنی میں دائر کی گئی افسوس جس شخص کو چیئرمین نے 32 اراکین میں سے اس منصب کے لیے چنا وہ اعلانیہ ان کے فیصلے کو ثبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن ہم چیئرمین کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘

دوسری جانب مستعفی ہونے والے وزیراعظم کے ترجمان نے میڈیا کو ایک بیان جاری کیا تھا جس کے مطابق بدھ کے روز وزیراعظم سردار عبدالقیوم نیازی نے عمران خان سے اسلام آباد میں ملاقات کی اور انھیں بتایا کہ عدم اعتماد کی تحریک ان کے خلاف سازش ہے جس کا وہ نوٹس لیں مگر اس متعلق عمران خان کی جانب سے کوئی خبر جاری نہیں کی گئی البتہ عبدالقیوم نیازی موجودہ حالات کے پیش نظر مستعفی ہو گئے۔

عبدالقیوم نیازی

سردار تنویر الیاس وزیر اعظم کے لیے نامزد امیدوار

منگل کے روز پیش کی جانے والی عدم اعتماد میں وزیراعظم کے متبادل نام کے طور پر اس خطے میں تحریک انصاف صدر سردار تنویر الیاس کا نام تجویز کیا گیا تھا جو آئینی ضرورت تھی۔ کیونکہ اس خطے کے عبوری ایکٹ 1974 کے مطابق وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد تحریک اس وقت پیش نہیں کی جا سکتی جب تک متبادل وزیراعظم کا نام نہ دیا جائے۔

یہ بھی پڑھیے

سردار تنویر الیاس پی ٹی آئی کی حکومت میں پنجاب میں انسوٹمنٹ بورڈ کے مشیر رہے اور ایک بڑے بزنس مین بھی ہیں۔ وہ گذشتہ سال پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ پر عام انتخاب میں ضلع راولاکوٹ سے ممبر قانون ساز اسمبلی منتخب ہوئے اور سردار عبدالقیوم نیازی کی کابینہ میں سینیئر وزیر رہ چکے ہیں۔

سردار عبدالقیوم نیازی کے استعفے کے بعد اس خطے کی سیاسی صورتحال یکسر تبدیل ہو گئی ہے۔ اگر وزیراعظم مستعفی نہ ہوتے تو سردار تنویر الیاس عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد یقینی طور پر وزیراعظم منتخب ہو جاتے لیکن اب عدم اعتماد کی تحریک پر رائے شماری نہیں ہو گی البتہ سپیکر کو قائد ایوان کے انتخاب کروانا ہو گا۔

جبکہ اس صورتحال میں اب حزب اختلاف کی جماعتیں بھی وزیراعظم کے لیے اپنا امیدوار نامزد کرِ سکتی ہیں لیکن ابھی تک ان کی طرف سے اس بارے میں کوئی واضح بیان سامنے نہیں آیا۔

پاکستان کے زیر انتطام کشمیر کی اسمبلی

،تصویر کا ذریعہM A Jarral

اس خطے میں سینیئر قانون دان مشتاق جنجوعہ کے مطابق قائد ایوان کے انتخاب کے لیے پہلے سے اجلاس طلب کر رکھا ہے اس لیے امکان ہے کہ جمعے کے روز ہی وزیراعظم کا انتخاب ہو گا۔

اس خطے کی قانون ساز اسمبلی کے سیکرٹری چوہدری بشارت کا کہنا ہے کہ آئین میں جب وزیراعظم مستعفی ہوجائے تو فوری اس کا انتخاب کرنا ہوتا ہے جس کا فیصلہ سپیکر ایوان میں ہی کریں گے مگر یہ عمل دو دن میں مکمل کرنا ہو گا۔

پاکستان کے زیر اتنظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں پارٹی پوزیشن

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں کل ممبران 53 ہیں جن میں تحریک انصاف کے 32 اراکین ہیں جبکہ پیپلزپارٹی کے 12 اراکین اور مسلم لیگ ن کے سات اراکین, مسلم کانفرنس کا ایک اور جموں و کشمیر پیپلز پارٹی کا ایک رکن ہیں۔

مشتاق جنجوعہ ایڈوکیٹ کے مطابق قانون ساز اسمبلی میں وزیراعظم کے انتخاب کے لیے نامزد امیدوار کو 53 کے ایوان میں سے 27 ممبران کے ووٹ درکار ہیں۔

اس بنا پر عدم اعتماد کی تحریک پیش کرنے والے پی ٹی آئی کے ممبران کو حکومت بنانے کے لیے دو اراکین جبکہ پیپلزہارٹی اور مسلم لیگ ن کو آٹھ اراکین درکار ہیں۔ سردار تنویر الیاس کے حمایتی ممبران کا دعویٰ ہے کہ ان کی نمبر گیم پوری ہے۔

اس ساری صورتحال پر اس خطے میں حزب اختلاف کی دو بڑی جماعتیں پاکستان پیلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کی الگ الگ اپنی مرکزی قیادت کے ساتھ مشاورت جاری ہے۔