آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کیا اپوزیشن کے سیاستدان غیر ملکی سفارتکاروں سے نہیں مل سکتے؟
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
- وقت اشاعت
پاکستان کے نیوز چینل اے آر وائی کے اینکرپرسن ارشد شریف نے اپنے پروگرام میں وزیراعظم عمران خان کو پیش کی گئی ایک رپورٹ کا حوالہ دیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مریم نواز، شہباز شریف، سمیت تحریک انصاف کے منحرف اراکین اسمبلی نے امریکی سفارت کاروں سے ملاقاتیں کی ہیں۔
اس پروگرام میں ان ملاقاتوں کے تانے بانے وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک سے جوڑنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس پروگرام کے بعد سوشل میڈیا پر تحریک انصاف اور وزیر اعظم عمران خان کے حمایتیوں کی جانب سے مطالبہ کیا جارہا کہ یہ ملاقاتیں کرنے والوں کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت وطن سے غداری کا مقدمہ درج کیا جائے۔
بی بی سی کی جانب سے ارشد شریف سے رابطہ کیا گیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ مصروف ہیں شام کو رابطہ کیا جائے۔
دوسری جانب جمعرات کو وزیراعظم عمران خان کے خطاب کے بعد امریکہ نے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کو دھمکانے کے الزامات کو مسترد کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ وہ پاکستان میں آئین اور قانون کی حکمرانی کی حمایت کرتے ہیں۔
یاد رہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرائے جانے کے تناظر میں جمعرات کی شام قوم سے تقریباً 50 منٹ طویل خطاب کیا جس میں انھوں نے اپنے خلاف مبینہ طور پر بیرون ملک تیار ہونے والی سازشوں کا ذکر کیا اور اس دوران وہ 'غلطی' سے امریکہ کا نام لے بیٹھے۔
امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان نیڈ پرائس نے جمعرات کو بریفنگ کے دوران عمران خان کی جانب سے دھمکی آمیز خط اور ان کی حکومت کو ہٹانے کی غیر ملکی سازش کے بارے میں سوال کے جواب میں کہا کہ ’ہم پاکستان میں ہونے والی پیش رفت کو قریب سے دیکھ رہے ہیں، اور ہم پاکستان کے آئینی عمل اور قانون کی حکمرانی کی حمایت کرتے ہیں، جہاں تک ان الزامات کی بات کی جائے تو ان میں کوئی صداقت نہیں ہے۔‘
آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کا مطالبہ
سوشل میڈیا پر میجر جنرل جاوید اسلم طاہر لکھتے ہیں کہ ’میری بطور پاکستانی شہری قومی سلامتی کونسل، وزیراعظم اور آرمی چیف سے گزارش ہے کہ ان اراکین کی تاحیات نااہلی کے لیے سخت کارروائی کے ساتھ ساتھ ان کے خلاف ریاست سے غداری کے الزامات لگائے جائیں جنہوں نے پاکستان کے دشمنوں کے اول دستے کے طور پر کام کیا۔‘
نادیہ طاہر لکھتی ہیں کہ بقول ان کے ’جیسا کہ ثابت ہو چکا ہے کہ تحریک عدم اعتماد بیرونی سازش ہے جس میں اندرونی غدار شامل ہیں، لہٰذا ووٹ دینے کا مطلب ملک کو ان امریکی غلاموں کے حوالے کرنا ہے۔ میں معزز اداروں سے پوچھتی ہوں کہ کیا وہ اس پر ایکشن لیں گے یا؟‘
تحریک انصاف سے وابستہ ابرار شاہ لکھتے ہیں کہ ’مجھ جیسے بندے کو بھی سمجھ آ رہی ہے کہ آر ٹیکل 6 آ رہا ہے۔ پتا نہیں کیسے کیسے جاہل بیٹھے ہیں پارلیمنٹ میں جو اس بات کو نہیں سمجھتے اور انجانے میں سازش کا حصہ بن رہے ہیں۔‘
عمران خان کی غیر ملکی سفیروں سے ملاقاتیں
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر صحافی مہرین زہرہ ملک نے لکھا کہ انھیں یقین ہے کہ جب عمران خان اپوزیشن میں تھے تو ان کی غیر ملکی سفارت کاروں سے درجنوں ملاقاتوں کا ریکارڈ موجود ہوگا۔ انھوں نے روزنامہ ڈان کی خبر کا ایک لنک بھی شیئر کیا جو 2014 کی ایک خبر کا ہے جو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور امریکی سفیر رچرڈ اولسن کی بنی گالہ میں ملاقات سے متعلق ہے۔
مہرین زہرہ نے ارشد شریف کو مینشن کر کے وکی لیکس کی ایک کیبل کا بھی حوالہ دیا ہے جس کے مطابق 6 فروری 2010 کو عمران خان نے امریکی قونصل جنرل سے ملاقات کی اور مبینہ طور پر سوات کے کچھ دیہات میں پاکستانی فوج پر ماورائے عدالت قتل، سمری پھانسیوں اور رہائشیوں کی تذلیل کا الزام عائد کیا۔
مشرف زیدی لکھتے ہیں کہ سیاست دان سفارت کاروں سے باقاعدگی سے ملاقات کرتے ہیں اور کہا کہ ایسا کرنا ان کا کام ہے۔ جس کے بعد انھوں نے عمران خان کی امریکی حکام سے ملاقات کی تفصیلات بیان کی ہیں جس کے مطابق:
اکتوبر 2011: پی ٹی آئی کے رہنما عمران خان اور سفیر کیمرون منٹر کی ملاقات
ستمبر 2015: پی ٹی آئی کے رہنما عمران خان کے ساتھ سفیر رچرڈ اولسن کی ملاقات
مارچ 2016: پی ٹی آئی رہنما عمران خان کی سفیر ڈیوڈ ہیل کے ساتھ ملاقات
یاد رہے کہ فروری 2012 میں ایک سوال کے جواب میں پاکستان میں امریکی سفیر کیمرون منٹر نے کہا تھا کہ 'میں عمران خان سے ملاقات کرچکا ہوں اور انھوں نے کچھ اصلاحات اور پاکستان کے مستقبل کے حوالے سے اپنے خیالات بیان کیے۔ ہم ان کے ساتھ 'اوپن' ہیں جس طرح ہم موجودہ حکومت کے ساتھ اوپن ہیں۔'
اس کے علاوہ امریکی سفیر رچرڈ اولسن نے نومبر 2014 میں بنی گالہ میں عمران خان سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی تھی۔
صحافی خرم حسین لکھتے ہیں کہ ’سفارت کاروں کی سیاستدانوں، فنکاروں، صحافیوں اور کاروباری لوگوں سے ملاقاتیں معمول کا کام ہے۔ ہمارے اپنے سفارت کار دوسرے ممالک میں بھی ایسا ہی کرتے ہیں، جیسا کہ پاکستان میں دیگر تمام ممالک کے سفارت کار کرتے ہیں۔ آپ کیسے نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ یہ ایک ’سازش‘ کا ثبوت ہے؟‘
یہ بھی پڑھیے
مصنف اور محقق ڈاکٹر عائشہ صدیقہ لکھتی ہیں کہ تمام سفارت کار ملتے ہیں اور ایجنسیاں ملاقاتیں دیکھتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ارشد شریف کو ان تمام فارن مشنز کے ساتھ ملاقاتوں کی فہرست ملنی چاہیے۔
اپوزیشن کی غیر ملکی سفارت کاروں سے ملاقاتوں میں کوئی حرج ہے؟
پاکستان کے سابق سفیر ضمیر اکرم کہتے ہیں کہ ’کسی سفیر کو رکاوٹ نہیں ہے کسی سے ملنے کی بالخصوص کسی جمہوریت میں لیکن ان ملاقاتوں میں کیا زیر بحث آیا یہ الگ بات ہے‘۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا بیرون ملک پاکستان کے سفیر بھی اپوزیشن سمیت دیگر سیاست دانوں سے یوں ملاقاتیں کرتے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ ’بلکل کرتے ہیں، اس میں کوئی غلط بات نہیں ہے۔‘
انھوں نے ارشد شریف شو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس سے لوگ اندازہ لگا رہے ہیں کہ شاید ان منحرف اراکین کی ان ملاقاتوں میں ہمت افزائی کی گئی ہو کہ وہ اس عدم اعتماد کی تحریک میں حصہ لیں تاہم یہ ’افواہیں‘ ہیں۔
’ہم نے دیکھا ہے کہ امریکی کئی حکومتوں میں اندرونی طور پر دخل اندازی کرتے ہیں جس کی ممانعت ہے کہ آپ کسی ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرسکتے۔‘
اس بحث سے قبل گزشتہ ماہ دفتر خارجہ نے اپنی ہفتہ وار بریفنگ میں اسلام آباد میں تعینات سفارت کاروں کو یاد دلایا تھا کہ انھیں ملک کے سیاست دانوں سے ملاقاتوں کے دوران بعض سفارتی اصولوں پر عمل کرنے کی ضرورت ہے جنہیں پورا کرنا غیر ملکی سفارت کاروں کو ضروری ہے۔
اس سے قبل فروری 2008 میں بھی وزرات خارجہ کے ترجمان نے کہا تھا کہ غیر ملکی سفارت کاروں کی سیاست دانوں سے ملاقات پر پابندی نہیں۔