آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
تحریکِ عدم اعتماد: پی ڈی ایم کا اسلام آباد روانگی اور جلسے کے شیڈول کا اعلان، پیپلز پارٹی کا ’سپیکر کا بندوبست کرنے‘ کا بیان
پاکستان میں وزیرِاعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروائے جانے کے بعد سے سیاسی منظر نامہ تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے اور جہاں ایک طرف سیاسی جماعتیں سپریم کورٹ میں آئین کی تشریح کے لیے موجود ہیں وہیں اتحادیوں کی حمایت کے حوالے سے دونوں جانب سے کامیابی کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔
اس سلسلے میں آج بھی حکومتی اور اپوزیشن رہنماؤں کی پریس کانفرنسز جاری ہیں اور اب سے کچھ دیر قبل پاکستان کے وفاقی وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے دعویٰ کیا ہے کہ اتحادیوں کی حمایت عمران خان کے سرپرائز کا حصہ ہے۔
دوسری جانب پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ سے منسلک جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سینیٹر حافظ حمد اللہ نے پریس کانفرنس سے خطاب میں پی ڈی ایم جماعتوں کے اسلام آباد کی جانب مارچ اور وہاں کے جلسے کا شیڈول بتایا ہے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ ان کا سپیکر سے اعتماد اٹھ چکا ہے اور وہ اس کا جلد بندوبست کرنے والے ہیں۔
حافظ حمد اللہ نے کہا کہ ’کراچی سے پی ڈی ایم کے قافلے آج روانہ ہو چکے ہیں، پنجاب اور بلوچستان کے قافلے جمعے کو اور خیبر پختونخوا کے 26 مارچ کو روانہ ہوں گے۔
حافظ حمد اللہ کا مزید کہنا تھا کہ ’ڈی آئی خان سے بلوچستان کے قافلوں کی قیادت فضل الرحمان کریں گے۔ پھر مولانا صاحب کی قیادت میں 26 مارچ کی شام کو ہکلہ انٹرچینج پر تمام قافلے جمع ہوں گے اور وہاں سے سرینگر ہائی وے پر جمع ہوں گے۔‘
اُنھوں نے بتایا کہ ’28 مارچ کو تمام جماعتوں کے قافلے اسلام آباد کے سیکٹر جی نائن میں سرینگر ہائی وے پر جمع ہوں گے اور وہاں جلسہ ہو گا۔ حافظ حمد اللہ نے کہا کہ اس جلسے کے بعد پی ڈی ایم کی قیادت فیصلہ کرے گی کہ آگے کا لائحہ عمل کیا ہو گا۔‘
’سپیکر سے اعتماد ختم ہو چکا ہے، اب ہم اس کا بندوبست کرنے جا رہے ہیں‘
تاہم دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان اور فیصل کریم کنڈی نے بھی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے متحدہ قومی مومنٹ (ایم کیو ایم) کی حمایت سے متعلق کہا ہے کہ پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سندھ کے ’استحکام اور بھلائی‘ کے لیے تمام نمائندہ جماعتوں کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں۔
اب سے کچھ دیر قبل، پیپلز پارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق ایم کیو ایم کے وفد نے صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کی ہے۔ اس وفد میں ایم کیو ایم رہنما عامر خان، خالد مقبول صدیقی، امین الحق، وسیم اختر اور جاوید حنیف شامل ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
شیری رحمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’حکومتیں امن و استحکام کی ضامن ہوتی ہیں اور یہاں یہ (پی ٹی آئی) پارلیمان کے جھگڑوں پر سڑکوں کو میدانِ جنگ بنانا چاہتے ہیں۔‘
اُنھوں نے کہا کہ حکومت وفاق کو توڑنا چاہتی ہے اور 'ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔'
اس موقع پر سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ہمارا اعتماد سپیکر سے ختم ہو چکا ہے۔
’سپیکر یہ نہیں کہتا کہ عدم اعتماد میں فارن فنڈنگ ہے یا یہ ناکام ہو گی، وہ کور کمیٹی یا پارلیمانی کمیٹی میں نہیں بیٹھتا، اب ہم اس کا بندوبست کرنے جا رہے ہیں۔'
فیصل کنڈی نے کہا کہ 'آج بہت جلد خوش خبری سنانے لگے ہیں، تھوڑا انتظار کریں۔'
عدالتی کارروائی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں شیری رحمان نے کہا کہ سب نے عدالت کا مختصر فیصلہ پڑھا ہے، چنانچہ عدالتی کارروائی کو متنازع نہ کریں۔
اُنھوں نے کہا کہ ووٹوں کی گنتی ہو گی، اس میں سپیکر کی صوابدید نہیں ہے، نہ ہی اُن کا اختیار ہے کہ وہ اجلاس کو 14 دن سے آگے لے جائے اور آئین سے انحراف کریں۔
اتحادیوں کی حمایت وزیراعظم کے سرپرائز کا حصہ ہے: فواد چوہدری
وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ ابھی تک اتحادی حکومت کے ساتھ ہیں اور اتحادیوں کی حمایت بھی اسی سرپرائز کا حصہ ہے جس کا ذکر وزیر اعظم نے کیا تھا۔
سپریم کورٹ میں آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق ریفرنس کی سماعت سے قبل عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ تھا کہ ابھی تک اتحادی جماعتیں حکومت کا حصہ ہیں اور حکومت کا حصہ ہی رہیں گیں۔
انھوں نے وزیر اعظم کے گذشتہ روز دیے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 'اتحادیوں کی حمایت بھی اسی سرپرائز کا حصہ جس کا ذکر وزیر اعظم نے کل کیا تھا۔'
انھوں اپوزیشن جماعت مسلم لیگ ن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے ریفرنس کی سماعت کرنے والے پانچ رکنی بینچ کے خلاف جو مہم چلائی ہے ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 'ن لیگ کا وطیرہ مائی وے اور ہائی وے انتہائی نامناسب ہے۔'
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے لیے سپریم کورٹ کے تمام جج صاحبان قابل احترام ہیں۔ ہمیں سپریم کورٹ پر مکمل اعتماد ہے، امید ہے کہ معاملات آئین اور قانون کے مطابق آگے بڑھیں گے۔
27 مارچ کو اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے جلسے کے متعلق بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 'جیسے وزیراعظم نے کل کہا اب ہماری تمام توجہ اپنے 27 مارچ کے جلسے پر ہے، یہ ایک تاریخی جلسہ ہونے جا رہا ہے۔ شطرنج کا جو کھیل اپوزیشن نے شروع کیا اس کو ختم ہم کریں گے۔'
ان کا مزید کہنا تھا کہ اپوزیشن کی جانب سے جلسے کی کوئی درخواست نہیں دی گئی ہے، اس سے لگتا ہے کہ اپوزیشن جلسہ نہیں کرے گی 27 مارچ کو صرف پی ٹی آئی کا جلسہ ہی ہو گا۔
’تحریک عدم اعتماد معاشی ترقی پر حملہ ہے‘
اس موقع پر وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر نے بھی ان کے ہمراہ میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد صرف حکومت کے خلاف نہیں بلکہ پاکستان کی معیشت کے خلاف بھی ایک تحریک ہے کیونکہ رواں سال پاکستان میں پانچ فیصد سے زیادہ معاشی نمو متوقع ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک میں بڑے درجے کی صنعت آٹھ فیصد کے حساب سے بڑھ رہی ہے، برآمدات 30 ارب ڈالر کو چھو رہی ہیں اور ترسیلات اور زرمبادلہ کے ذخائر مسلم لیگ کی حکومت کے دور سے دو سے تین فیصد زیادہ ہے۔
انھوں نے کہا کہ ملک کی معاشی ترقی اپوزیشن کو برداشت نہیں ہو رہی ہے، یہ حملہ صرف سیاست پر حملہ نہیں ہے بلکہ ملک کی معیشت پر حملہ بھی ہے جو ہمیشہ کی طرح ناکام ہو گا۔
وفاقی وزیر حماد اظہر نے بھی اس موقع پر مسلم لیگ (ن) پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کی یہ روایت ہے کہ وہ پہلے خود اداروں کو متنازع بناتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ ادارہ متنازع ہے پھر اس سے مراعات لیتے ہیں، یہ ایک دو بار تو ہوسکتا ہے لیکن ہمیشہ ایسا نہیں ہو گا۔
27 مارچ کے جلسے سے متعلق بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اس قبل ایسی واضح تفریق سامنے نہیں آئی، ایک طرف چور ہیں دوسری طرف ایک ایسا شخص کھڑا ہے جس کو اسی عدالت نے صادق و امین قرار دیا تھا، جس نے کبھی نہ ضمیر فروشی کی ہے، نہ ہی کبھی ہارس ٹریڈنگ اور بلیک میلنگ کی ہے۔
ریفرنس حکومتی بدنیتی پر مبنی ہے: رانا ثنا اللہ
سپریم کورٹ میں آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق ریفرنس کی سماعت سے قبل عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ اگر تحریک عدم اعتماد میں تاخیر کی گئی تو ملک سیاسی عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ صدارتی ریفرنس صرف تاخیری حربہ ہے اور یہ ریفرنس بدنیتی پر مبنی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایک ایسا ٹولہ ملک پر مسلط کیا گیا جس نے معیشت اورت نظام کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔
پی ٹی آئی کے 27 مارچ کے جلسے پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومت سرکاری وسائل استعمال کر کے حزب اختلاف کو گالیاں دے رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پورے ملک سے لوگوں کو پیسے دے کر اکٹھا کر رہے ہیں۔
پارٹیاں بدلنے والے ذہن میں رکھیں قبل از وقت انتخابات بھی ہو سکتے ہیں: شیخ رشید
پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ جو لوگ پارٹیاں بدل رہے ہیں ان کے ذہن میں یہ بھی ہونا چاہیے کہ پاکستان میں الیکشن جلدی بھی ہو سکتے ہیں۔
اس سے قبل اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا کہ جو لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ پارٹیاں بدلنے سے کوئی عزت ملتی ہے تو انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ کوئی عزت نہیں ملتی۔
انھوں نے کہا کہ 'ان لوگوں کے ذہن میں یہ بھی ہونا چاہیے کہ پاکستان میں الیکشن جلدی بھی ہو سکتے ہیں اور مجھے اتحادیوں سے پوری امید ہے کہ وہ دو تین دن میں فیصلہ کر لیں گے کیونکہ اتحادی ہمیشہ دیر سے فیصلہ کرتے ہیں۔‘
شیخ رشید نے کہا کہ اگر ان کے پاس ہمارے کچھ ناراض بندے ہیں تو ہمارے پاس بھی ان کے بندے ہیں جو نہیں جائیں گے، یہ بہت دلچسپ اور اچھا مقابلہ ہے اور آپ آج کے بعد اچھی خبریں سنیں گے۔
انھوں نے کہا کہ ہمارے ساتھ جو اپوزیشن کے لوگ ہیں وہ ذمے داران ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ اسی میں بہتری ہے کہ عمران خان اپنا وقت پورا کرے اور ممکن ہو تو وقت سے پہلے انتخابات ہو جائیں۔
وفاقی وزیر داخلہ نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان کے باخبر لوگوں میں سے ایک ہیں اور سیاسی طور پر کسی کو عہدے سے ہٹایا نہیں جا رہا۔
ان کا کہنا تھا کہ ' کوئی کہیں نہیں جا رہا، ٹی وی چینلز پر افواہیں اڑائی جا رہی ہیں کہ عثمان بزدار کہیں جا رہا ہے لیکن وہ کہیں نہیں جا رہا اور میں ابھی اس سے مل کر آرہا ہوں، وہ بھی میری طرح چٹان کی طرح عمران خان کے ساتھ کھڑا ہے۔'
ملک میں ایمرجنسی لگانے کے حوالے سے سوال پر وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ 'ایمرجنسی قانون کا حصہ ہے لیکن ملک میں عدلیہ پروقار ہے، میں تو سندھ میں بھی گورنر راج اور ایمرجنسی لگانے کا حامی تھا لیکن عمران خان نے میری دونوں تجاویز مسترد کردیں۔'
وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ پاکستان کے ساتھ ہے، پاکستان کی عدلیہ ذمے دار ہے اور اپوزیشن کو بھی سوچنا ہو گا کہ پاکستان کو انتشار اور خلفشار کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔
انھوں نے اپوزیشن کی جماعت مسلم لیگ ن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 'ادارے کبھی نہیں بھولتے، 20 سال کی پالیسی ہے۔۔۔ ووٹ کو عزت دو کہاں گیا۔'
جبکہ انھوں نے سوشل میڈیا پر قیاس آرائیوں اور فوج کے خلاف بیانیہ رکھنے والوں کے خلاف کارروائی کی ہدایت دی ہے۔
اسلام آباد میں اپوزیشن کی لانگ مارچ کے متعلق بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد انتظامیہ سے اپوزیشن سے رابطہ کرنے کا کہا ہے۔ اپوزیشن کے لانگ مارچ کے لیے دو ہزار رینجرز، ایک ہزار ایف سی اور نو ہزار پولیس اہلکاروں کو سکیورٹی پر مقرر کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ضرورت پیش آئی تو مزید ایک ہزار ایف سی یا رینجرز اہلکاروں کو طلب کیا جا سکتا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ 'ہم نے سپریم کورٹ کی ہدایت پر دونوں جماعتوں کو جلسے کی اجازت دی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ تمام خیریت رہے گی اور وزیر اعظم پاکستان عمران خان ملک کی تاریخ کا عظیم ترین جلسہ 27 مارچ کو شام چار بجے پریڈ گراؤنڈ میں کریں گے۔
’پوری قوم 27 مارچ کو میرا ساتھ دے اور بتائے کہ ہم نیکی کے ساتھ کھڑے ہیں‘: وزیر اعظم عمران خان
پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے قوم کے نام اپنے مختصر ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ 'پوری قوم 27 مارچ کو میرا ساتھ دے اور بتائے کہ ہم بدی کے ساتھ نہیں ہیں بلکہ نیکی کے ساتھ کھڑے ہیں۔
وزیر اعظم عمران خان نے قوم کو 27 مارچ کے جلسے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ 'قرآن میں اللہ نے حکم دیا ہے کہ اچھائی کے ساتھ اور برائی کے خلاف کھڑے ہونا ہے۔'
ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 30 سال سے ڈاکوؤں کا ایک ٹولہ ملک میں کرپشن کر رہا ہے اور ملک کو لوٹ رہا ہے اس نے اکٹھے ہوکر پارلیمانی نمائندوں کی ضمیر کی قیمتیں لگائی ہیں۔ اور کھلے عام خرید و فروخت کی۔'
ان کا کہنا تھا کہ 'قوم اور جمہوریت کے خلاف جرم ہو رہا ہے اور چوری کے پیسوں سے ارکان اسمبلی کو خریدا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیغام کی مدد سے مستقبل میں کسی کی جرات نہیں ہوگی کہ ہارس ٹریڈنگ کرے۔