تحریک عدم اعتماد: پاکستان کے داخلی حالات اور سیاسی کشمکش او آئی سی اجلاس پر اثر انداز نہیں ہو گی، متحدہ اپوزیشن

،تصویر کا ذریعہPPP
پاکستان میں وزیرِ اعظم عمران خان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کے بارے میں سیاسی صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ ایسے میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) وزرا خارجہ کونسل کے 48 ویں اجلاس کے موقع پر اسلامی دنیا کے وزرا خارجہ، مندوبین اور دیگر اعلیٰ شخصیات کی پاکستان آمد کے حوالے سے متحدہ اپوزیشن نے مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے داخلی سیاسی حالات اور سیاسی کشمکش کو کسی طور او آئی سی اجلاس پر اثر انداز نہیں ہونے دیا جائے گا۔
ملک کی حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں کے اتحاد نے او آئی سی کے حوالے سے مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) وزراء خارجہ کونسل کے 48 ویں اجلاس کے موقع پر اسلامی دنیا کے وزراء خارجہ، مندوبین اور دیگر اعلیٰ شخصیات کی پاکستان آمد کا پرتپاک خیر مقدم کرتے ہیں۔
پاکستان مسلم لیگ ن کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر سلسلہ وار ٹویٹز میں جاری کیے گئے اپوزیشن کے اعلامیہ کے مطابق پاکستان کے عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے متحدہ اپوزیشن انھیں یقین دلاتی ہے ان کی آمد کے موقع پر پورا پاکستان انھیں خوش آمدید کہتا ہے۔ ان کی اسلام آباد میں موجودگی کے دوران مہمان نوازی کی روایتی چاشنی، احترام، تقاضوں کے مطابق خوش گوار ماحول استوار کرنے میں اپنا کردار یقینی بنائیں گے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
یاد رہے کہ اس سے قبل اپوزیشن کی جانب سے پیر کو تحریک عدم اعتماد پیش نہ کرنے کی صورت میں پارلیمان میں دھرنا دینے کی دھمکی دی تھی۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سنیچر کو میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر قومی اسمبلی کے سپیکر پیر کو عدم اعتماد پیش نہیں کرتے تو وہ ایوان سے نہیں اٹھیں گے اور دیکھتے ہیں او آئی سی کانفرنس کیسے منعقد کی جاتی ہے۔‘
متحدہ اپوزیشن کے اعلامیہ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایسی فضا کی تشکیل میں بھرپور حصہ ڈالیں گے جس میں معزز مہمان اپنے طے شدہ امور پوری توجہ، انہماک اور دلجمعی سے انجام دے سکیں
اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ معزز مہمانوں کی آمد ہمارے لیے باعث مسرت و افتخار ہے۔ ہم ان کے جذبے اور عزم کی تحسین کرتے ہیں کہ وہ افغانستان، جموں و کشمیر، فلسطین سمیت اسلامی دنیا کو درپیش کثیر الجہتی درپیش اہم مسائل پر غور کے لیے 22 اور 23 مارچ 2022 کو اسلام آباد شریف لارہے ہیں۔
او آئی سی کے معزز مہمانوں کے خیر مقدم اور تکریم کے لیے ہی متحدہ اپوزیشن نے لانگ مارچ کی تاریخوں میں تبدیلی کی اور اپنے کارکنان کو 25 مارچ سے قبل اسلام آباد نہ آنے کی ہدایت کی۔ ہم امید کرتے ہیں کہ معزز مہمانان گرامی کا اسلام آباد میں قیام خوشگوار رہے گا اور وہ اچھی یادیں لے کر وطن واپس تشریف لے جائیں گے۔
’سپیکر قومی اسمبلی تحریک انصاف کے کارکن نہ بنیں‘
بلاول بھٹو نے سپیکر قومی اسمبلی کو متنبہ کیا کہ ’وہ پاکستان تحریک انصاف کے کارکن نہ بنیں بلکہ اپنا کردار بطور سپیکر نبھائیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ ’سپیکر ملک کا سوچیں، جمہوریت کا سوچیں، او آئی سی کا سوچیں اور پیر کا اجلاس فاتحہ کے بعد ایوان کی کارروائی کا آغاز تحریک عدم اعتماد سے کریں۔
’اس طرح او آئی سی کا مسئلہ بھی نہیں ہو گا اور تحریک عدم اعتماد کی کارروائی آئین و قانون کے مطابق ہو رہی ہو گی۔‘
تاہم اس کے ردِ عمل میں پاکستان کے وزیرِ داخلہ شیخ رشید نے نجی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’اپوزیشن میں ہمت ہے تو او آئی سی کانفرنس روک کر دکھائیں۔
’بطور وزیر داخلہ کہتا ہوں ان کے ساتھ وہ ہو گی کہ اپنی نسلوں کو نصیحت کر کے جائیں گے۔‘
پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے بھی بلاول کے اس بیان کی تائید کی ہے اور کہا ہے کہ اجلاس بلانا سپیکر کی ذمہ داری ہے اور اگر وہ مرحوم رکن اسمبلی کے لیے دعا کے بعد ہاؤس کا بزنس نہیں چلاتے تو ہم اسمبلی ہال میں دھرنے دینے پر مجبور ہوں گے۔
شہباز شریف نے سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ' آپ جمہوریت کو پٹڑی سے نہ اترنے دیں۔ ورنہ تاریخ اور عوام آپ کو معاف نہیں کرے گی۔'

،تصویر کا ذریعہPTI
شہباز شریف نے پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین بلاول بھٹو اور جے یو آئی ایف کے سربراہ مولانہ فضل الرحمان کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ’پاکستان تحریک انصاف کے منحرف اراکین نے جو باتیں میڈیا کے سامنے کیں اس کے لیے کسی نے انھیں نہیں کہا بلکہ وہ خود اپنی مرضی سے سب کچھ کر رہے ہیں۔‘
شہباز شریف نے حکومتی ارکان کی ’ہارس ٹریڈنگ‘ سے متعلق الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’جو لوگ ہمیں طعنے دے رہیں وہ اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں۔‘
انھوں نے آئی جی اسلام آباد اور کمشنر اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو بھی متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر انھوں نے اس آئینی اور قانونی راہ میں رکاوٹ ڈالی اور عمران خان کا ساتھ دیا تو قانون ان کو اپنی گرفت میں لے گا۔‘
’سندھ ہاؤس میں کون سا ایسا کام ہو رہا تھا جس کی وجہ سے سندھ پولیس کو بلایا گیا‘
ادھر پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے سنیچر کو راولپنڈی رنگ روڈ منصوبے کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اپنی جماعت کے منحرف اراکین سے متعلق تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’جیسے جیسے ووٹ کا دن قریب آئے گا تو یہ سارے لوگ واپس آئیں گے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’خرید و فروخت کی سیاست پر کسی کو شرم نہیں آ رہی اور یہ سب کچھ کھلے عام ہو رہا ہے۔ سندھ ہاؤس میں کون سا ایسا کام ہو رہا تھا جس کی وجہ سے سندھ پولیس کو بلایا گیا۔ اگر پی ٹی آئی کے لوگ تنگ ہیں تو ان کو چھپانے کی کیا ضرورت تھی؟‘
ان کا سندھ ہاؤس پر تحریک انصاف کے کارکنان کے حملے سے متلعق کہنا تھا کہ ’کارکنان نے جذبات میں آ کر ایسا کیا لیکن وہ ان سے کہتے ہیں کہ پُرامن احتجاج ان کا حق ہے۔‘
وزیراعظم نے کہا کہ ’جب چھانگا مانگا کی سیاست ہوتی تھی تو اس وقت سوشل میڈیا نہیں تھا لیکن آج سوشل میڈیا موجود ہے جو ہر چیز سامنے لے آتا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ان کی پیش گوئی ہے کہ 27 مارچ کو اتنی پبلک جمع ہو گی جتنی اسلام آباد کی تاریخ میں آج تک جمع نہیں ہوئی۔‘

تحریک عدم اعتماد: سپریم کورٹ سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کرے گی
اس سے قبل، پاکستان کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ہے کہ عدالت عظمیٰ کو تحریک عدم اعتماد اور سیاسی عمل میں کوئی دلچسپی نہیں ہے تاہم آئین اور قانون کی عملداری پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
چیف جسٹس نے سنیچر کو یہ ریمارکس پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں تحریک عدم اعتماد کے دوران تصادم کے ممکنہ خطرے سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران دیے۔ یہ درحواست سپریم کورٹ بار ایسوی ایشن کے صدر احسن بھون کی طرف سے دائر کی گئی تھی۔
عدالت کی طرف سے پہلے اس درخواست کو سماعت کے لیے اکیس مارچ کے لیے فکس کیا گیا تھا تاہم اٹھارہ مارچ کو سندھ ہاؤس پر حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کی طرف سے ہونے والے حملے کے بعد سنیچر کے روز سپلیمنٹری کاز لسٹ جاری کرتے ہوئے اس درخواست کو اسی دن سماعت کے لیے مقرر کیا گیا۔
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے دائر کی گئی اس درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ سیاسی بیانات سے عدم اعتماد کے روز فریقین کے درمیان تصادم کا خطرہ ہے۔ اس درخواست میں وزارت داخلہ، دفاع، آئی جی اسلام آباد اور ڈپٹی کمشنر کو فریق بنایا گیا ہے۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے اس درحواست کی سماعت کی۔

یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہNot Specified
سماعت میں کیا ہوا؟
بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک بتاتے ہیں کہ سماعت کے دوران بینچ کے سربراہ نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ گذشتہ روز سندھ ہاؤس میں کیا ہوا تھا جس پر اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ایک سو کے قریب احتجاج کرنے والوں کو پولیس نے سندھ ہاؤس سے منتشر کیا اور اس کے بعد 20 لوگ سندھ ہاؤس احتجاج کرنے آگئے۔
انھوں نے کہا کہ پولیس نے 13 افراد کو سندھ ہاؤس پر حملہ کرنے پر گرفتار کیا اور ان کے خلاف تھانہ سیکرٹریٹ میں مقدمہ درج کر لیا گیا۔ اٹارنی جنرل عدالت کو بتایا کہ گرفتار ہونے والے ان افراد کو آج مقامی مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جنھوں نے شخصی ضمانت پر ان افراد کو رہا کردیا۔
واضح رہے کہ جمعے کو پاکستان کی حکمران جماعت تحریک انصاف کے ناراض اراکین کی سندھ ہاؤس اسلام آباد میں موجودگی کی خبر کے بعد پی ٹی آئی کے دو ارکان اسمبلی اپنے کارکنان کے ہمراہ سندھ ہاؤس پہنچے جہاں ڈنڈے اور لوٹے اٹھائے مشتعل کارکنان نے سندھ ہاؤس پر حملہ کر دیا تھا۔
سندھ ہاؤس پاکستان کے چیف جسٹس کے گھر کے بالکل سامنے واقع ہے۔
سندھ ہاؤس پر حملے کے بعد صدر سپریم کورٹ بار نے کہا کہ بار کے خدشات درست ثابت ہوئے ہیں کہ اگر اقدامات نہ اٹھائے گئے تو سیاسی کارکنان میں تصادم کا خطرہ موجود ہے۔
اسلام آباد پولیس نے دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرنے اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے پر ان 11 افراد کے خلاف مقدمہ درج کر کے حراست میں لے لیا تھا۔ حراست میں لیے جانے والوں میں حکمراں جماعت کے دو ارکانِ قومی اسمبلی بھی شامل تھے، جنھیں بعد میں شخصی ضمانت پر رہا کیا گیا۔
پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے سندھ ہاؤس پر پی ٹی آئی کے کارکنوں کے دھاوے اور ہنگامہ آرائی پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ سے صورتحال کو دیکھنے کو کہا تھا۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے اسلام آباد میں سندھ ہاؤس پر حملے کو 'سندھ پر حملے' کے برابر قرار دیا تھا۔ پیپلز پارٹی کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے جاری بیان میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 'سندھ ہاؤس پر حملہ دہشت گردی پر مبنی کارروائی ہے۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا پبلک پراپرٹی پر دھاوا بولنا بھی قابل ضمانت جرم ہے جس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ قانون کی عمل داری پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ مظاہرہ بھی قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ہی ہونا چاہیے۔

،تصویر کا ذریعہScreen Grab
اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ حکمراں جماعت کے ارکان قومی اسمبلی کی سندھ ہاؤس میں موجودگی سے سیاسی ماحول کو گرما دیا جس سے اچانک سیاسی درجہ حرارت بڑھا اور یہ واقعہ رونما ہوا۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’جو کچھ ہو ہو رہا ہے ہمیں اس سے مطلب نہیں۔ آئین کی عملداری کے لیے یہاں بیٹھے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سیاسی عمل آئین و قانون کے تحت ہونا چاہیے۔‘
چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قومی اداروں کو بھی دھمکیاں ملیں جبکہ ارکان اور اداروں کو تحفظ آئین کے مطابق ملنا چاہیے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پارلیمنٹیرین اور سپریم کورٹ بار کا بہت احترام ہے۔ تصادم کے خطرے پر چیف جسٹس نے کہا کہ وہ ’امید کرتے ہیں تمام سیاسی فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں گے۔‘
بینچ کے سربراہ نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ حکومت بھی سپریم کورٹ میں کوئی درحواست دائر کرنے کے بارے میں سوچ رہی ہے جس پر اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ آئین کے آرٹیکل 63 اے پر عدالتی رائے سے متعلق صدارتی ریفرنس اکیس مارچ کو سپریم کورٹ میں دائر کیا جائے گا۔
انھوں نے عدالت سے کہا کہ سپریم کورٹ بار کی اس درخواست اور صدارتی ریفرنس کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے لہذا صدارتی ریفرنس کو الگ سے سنا جائے۔ اس پر بیبچ میں موجود جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی اس درخواست میں تحریک عدم اعتماد سے متعلق سپیکر کے کردار کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے گذشتہ روز کہا تھا کہ حکومت تحریک عدم اعتماد میں 'منحرف' ارکان کے ووٹ کی قانونی حیثیت کے بارے میں سپریم کورٹ سے رجوع کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ 'آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے سپریم کورٹ میں آرٹیکل 186 کے تحت ریفرینس دائر کیا جائے گا۔‘
سماعت کے دوران اسلام آباد پولیس کے سربراہ بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے اور چیف جسٹس نے اسلام آباد پولیس کے سربراہ سے سندھ ہاؤس پر حملے کی رپورٹ پیر تک طلب کی ہے۔
عدالت نے پی ٹی آئی، پاکستان مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی کو بھی نوٹس جاری کیے ہیں اور درخواست کی سماعت پیر تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہPMLN
تحریک انصاف کے ’منحرف‘ اراکین کو شوکاز نوٹسز جاری
دریں اثنا حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف نے اپنے 14 منحرف ارکان کو شوکاز نوٹسز جاری کردیے گئے۔
سیکریڑی جنرل پی ٹی آئی اسد عمر کی جانب سے جن 14 ارکان کو شو کاز نوٹسز جاری کیے گئے ان میں نور عالم خان، افضل ڈھاندلا، نواب شیر، راجہ ریاض، احمد حسین ڈیہڑ، رانا محمد قاسم، محمد عبدالغفار وٹو، مخدوم زاده سید باسم احمد، عامر طلال گوپانگ، خواجہ شیراز محمود، سردار ریاض محمود خان ، وجیہہ قمر، نزہت پٹھان اور رمیش کمار شامل ہیں۔
ان ارکان کو شو کاز نوٹسز آئین کی شق 63 اے کے تحت جاری کیے گئے جس میں کہا گیا ہے کہ ذرائع ابلاغ پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ وہ تحریک انصاف چھوڑ کر وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے والی اپوزیشن جماعتوں سے مل چکے ہیں۔
تحریک انصاف کی جانب سے ان ارکان کو ایک ہفتے (26 مارچ تک) کا وقت دیا گیا ہے کہ آیا پارٹی سربراہ عمران خان سے ملاقات میں یا اس شو کاز نوٹس کے جواب میں وضاحت دیں۔
فواد چوہدری اور حماداظہر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اتحادی ہمارے ساتھ رابطے میں ہیں اور ناراض اراکین میں سے کچھ بھی نے عوامی ردعمل دیکھنے کے بعد رابطہ کیا ہے۔
تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی نجیب ہارون کی مائنس عمران خان والی تجویز پر فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ نجیب ہارون ایک جذباتی شخصیت ہیں، انھیں اپنی اوقات میں بات کرنی چائیے۔
خیال رہے کہ وزیر اعظم عمران خان سمیت تحریک انصاف کے متعدد رہنما کئی روز سے اپنے چند پارٹی ارکان پر ہارس ٹریڈنگ کے الزامات عائد کر رہے تھے۔
ان میں سے بعض ناراض ارکان سندھ ہاؤس میں مقیم تھے اور انھوں نے اپنے انٹرویوز میں بتایا کہ وہ اپنے ’ضمیر کی آواز پر‘ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا حصہ بنے ہیں۔

























