مونال سیل کرنے کا حکم معطل کرنے کی استدعا سپریم کورٹ میں مسترد، ریستوران پر قبضے کی کوشش کا دعویٰ

- مصنف, محمد زبیر خان
- عہدہ, صحافی
- وقت اشاعت
سپریم کورٹ نے بدھ کے روز ایک اپیل کی سماعت کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے مونال ریستوران سیل کرنے کا فیصلہ معطل کرنے کی استدعا مسترد کر دی ہے۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مارگلہ نیشنل پارک میں واقع مونال ریستوران کو گذشتہ ماہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر سیل کر دیا گیا تھا۔
دریں اثنا وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ کے دعوے کے مطابق بدھ کی صبح ریستوران کے عملے سمیت قریب 100 افراد کے ہجوم نے اس مقام پر دھاوا بول کر قبضہ کرنے کی کوشش کی تاہم اسلام آباد پولیس کے پی آر او محمد نعیم اور مونال کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر محمد ارشاد نے اس واقعے سے لاعلمی کا اظہار کیا۔
وفاقی حکومت اور فریقین کو نوٹس جاری
سپریم کورٹ میں اپیل کی سماعت کے دوران مونال ریستوران کے وکیل مخدوم علی نے عدالت سے استدعا کی کہ سی ڈی اے نے تحریری حکم سے پہلے ہی مونال کو سیل کر دیا۔ اس پر سپریم کورٹ کے جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ جو کچھ ہو چکا ہے اسے فی الحال واپس نہیں کر سکتے۔
مخدوم علی خان نے مؤقف اپنایا کہ سی ڈی اے اور مونال ریستوران کا تنازع سول عدالت میں زیر التوا ہے اور اسلام آباد ہائی کورٹ نے مقدمہ زیر التوا ہونے کے باوجود فیصلہ سنا دیا۔
جسٹس مظاہر نقوی نے سوال کیا کہ ’کیا اسلام آباد ہائی کورٹ نے مروجہ طریقہ کار سے ہٹ کر فیصلہ کیا؟‘
وکیل مونال ریستوران کا کہنا تھا کہ شواہد ریکارڈ کیے بغیر ہی اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیصلہ جاری کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’مونال ریستوران تو کیس میں فریق ہی نہیں تھا۔‘
عدالت نے وفاقی حکومت اور فریقین کو نوٹس جاری کرنے کے بعد سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہIWMB
’ہجوم نے مونال پر قبضے کی کوشش کی‘
ادھر اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ کی چیئرمین رعنا سعید خان نے دعویٰ کیا ہے کہ ریستوران کے عملے سمیت تقریباً 100 افراد کے ہجوم نے زبردستی اس مقام پر قبضہ کرنے کی کوشش کی ہے۔
انھوں نے ٹوئٹر پر پیغام میں کہا کہ ’میں اس وقت صدمے کی حالت میں ہوں۔ صبح کے وقت 100 کے قریب افراد کے ہجوم کو مونال ریستوران والے مقام پر بھیجا گیا جہاں پر وہ بغیر کسی عدالتی حکم کے اس مقام کا قبضہ لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘
ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ وہ اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ کے اہلکاروں کو دھمکیاں دے رہے ہیں۔ ’عدالتی حکم کا کوئی احترام نہیں کیا گیا!‘
رعنا سعید خان کا کہنا تھا کہ واقعے کی اطلاع متعلقہ اسسٹنٹ کمشنر کو دی گئی ہے۔ ’موقع پر پہنچنے والا ہجوم اصرار کر رہا تھا کہ سپریم کورٹ نے ان کے حق میں حکم دیا ہے کہ مونال والی عمارت ان کو واپس کی جائے۔ ہمارے اہلکاروں نے کہا کہ کوئی عدالتی حکم دکھائیں اور سرکاری عملہ ساتھ لائیں جس پر وہ کوئی سرکاری حکم نہیں دکھا سکے۔‘
وہ کہتی ہیں ’ہمارا کسی کے ساتھ کوئی ذاتی تنازع اور جھگڑا نہیں۔ یہ عدالتوں کا فیصلہ ہے۔ ملکی قوانین کی پاسداری کا سوال ہے۔ اس طرح سرکاری اہلکاروں کو سرکاری فرائض انجام دیتے ہوئے دھمکیاں دینا اور ہجوم کے ذریعے قبضے کی کوشش کرنا قوانین کی بدترین خلاف ورزی ہے۔‘
موقع پر کیا ہوا؟
اسسٹنٹ کمشنر اسلام آباد رانا موسیٰ کے مطابق صبح کے وقت اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ کی جانب سے انھیں واقعے کی اطلاع دی گئی تھی جس کے بعد انھوں نے پولیس سے کہا کہ وہ معاملے کو دیکھیں کہ کیا صورتحال ہے۔
رانا موسیٰ کا کہنا تھا کہ عدالتی احکامات بڑے واضح ہیں اور ہم اس معاملے کی پوری طرح تفتیش کر رہے ہیں۔‘
عبدالحئی آغا وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ اسلام آباد میں سیکرٹری کے فرائض انجام دیتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’میں صبح کے وقت دفتر جانے کے لیے تیار ہو رہا تھا تو مجھے فون آیا کہ ہجوم نے وائلڈ لائف کے گارڈز کو مونال ریستوران سے باہر نکال کر قبضہ کر لیا۔‘

،تصویر کا ذریعہIWMB
ان کا کہنا تھا کہ میں وہاں پر موقع پر پہنچا تو ایک شخص نے مجھ سے اپنا تعارف مونال ریستوران کے مینیجر کی حیثیت سے کروایا اور کہا کہ سپریم کورٹ نے یہ عمارت ان کے حوالے کردی ہے جس پر ان سے آرڈر طلب کیے اور کہا کہ وہ آرڈر لائیں تو وہ کہنے لگے کہ ایک دو گھنٹے میں آرڈر آجائے گا۔‘
عبدالحئی آغا کا کہنا تھا کہ ’کافی دیر تک آرڈر نہیں آیا تو ان سے درخواست کی کہ ہمیں فی الفور اندر جانے دیں تاکہ ہم اپنے فرائض ادا کر سکیں مگر وہ اس پر تیار نہیں تھے۔ جس پر ہم نے اپنے لوگوں کو پارکنگ میں رہنے کا کہا اور واقعے کی اعلیٰ حکام کو اطلاع دے دی۔‘
انھوں نے بتایا کہ ’ہمارے پاس موقع پر موجود لوگوں کی ویڈیوز اور تصاویر ہیں۔ ان ویڈیوز میں ان کے ساتھ ہونے والی بات چیت کو سنا جاسکتا ہے۔‘
ان کے مطابق اس وقت مونال میں ادارے کے چند اہلکار صبح و شام فرائض انجام دے رہے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’جب ہجوم پہنچا اور اس نے ہمیں اندر سے باہر نکال دیا تو ہمارے اہلکار ویڈیو اور تصاویر بناتے رہے۔ جس پر انھوں نے ہمیں دھمکی دی کہ وہ موبائل توڑ دیں گے۔ ہجوم نے ہم لوگوں پر شدید دباؤ ڈالا اور ہر وہ حربہ استعمال کرنے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں ہم خوفزدہ ہوئے۔‘
حکام کا کہنا ہے کہ مونال ریستوران کے مقام پر اب بھی کشیدگی موجود ہے تاہم اسلام آباد پولیس کے پی آر او محمد نعیم کے مطابق معاملہ عدالت میں چل رہا ہے اور موقع پر کوئی بھی واقعہ پیش نہیں آیا جبکہ مونال کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر محمد ارشاد کے مطابق وہ اس بارے میں کچھ نہیں جانتے۔



























