پیپلز میڈیکل یونیورسٹی نوابشاہ: زیرِ تربیت نرس پر تشدد اور ہراساں کیے جانے کی تحقیقات 15 روز میں مکمل کرنے کا حکم

جنسی ہراسانی
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
  • وقت اشاعت

سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس احمد علی شیخ نے نوابشاہ پیپلز میڈیکل یونیورسٹی میں ایک زیر تربیت نرس پر مبینہ تشدد اور ہراساں کیے جانے کی تحقیقات 15 روز میں مکمل کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔

سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس احمد علی شیخ نے نوابشاہ میڈیکل یونیورسٹی میں مبینہ ہراسانی کی خبروں کا ازخود نوٹس لیا تھا۔ منگل کو اس کیس میں ہونے والی سماعت کے موقع پر متاثرہ نرس ننگے پاؤں چیف جسٹس کے چیمبر میں پیش ہوئیں، جبکہ اس موقع پر اعلیٰ پولیس حکام اور رجسٹرار پیپلز میڈیکل یونیورسٹی بھی موجود تھے۔

سماعت کے بعد ڈی آئی جی شہید بینظیر آباد خادم رند نے میڈیا کو بتایا کہ عدالت کو آگاہ کیا گیا ہے کہ متاثرہ خاتون کی جانب سے نامزد ایک ملزم نے ہائیکورٹ سے حفاظتی ضمانت لے رکھی ہے اور اگر ضمانت منسوخ ہوئی تو انھیں گرفتار کر لیا جائے گا۔

کیس کی سماعت کے بعد میڈیا گفتگو کرتے ہوئے متاثرہ خاتون کا کہنا تھا کہ اُن کی جان کو خطرہ ہے کیونکہ انھیں دھمکیاں مل رہی ہیں اور کچھ بھی ہو سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ انھیں پولیس کی تحقیقات پر اعتماد نہیں ہے اور دوران سماعت چیف جسٹس نے بھی پولیس کے حوالے سے ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے شفاف اور غیر جانبدرانہ تحقیقات کی ہدایت کی ہے۔

اس موقع پر انھوں نے مطالبہ کیا کہ وہ نرسنگ کی ہاؤس جاب جاری رکھنا چاہتی ہیں لہذا ان کا تبادلہ کسی اور جگہ کر دیا جائے تاکہ وہ اپنی پڑھائی مکمل کر سکیں۔

یاد رہے کہ نرس کی جانب سے ایک انتظامی عہدیدار پر جنسی ہراس کا مقدمہ دائر کیا گیا تھا جبکہ یونیورسٹی انتظامیہ نے اس معاملے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دی تھی۔

ایس ایس پی نوابشاہ سعود مگسی نے بتایا تھا کہ نامزد ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں جبکہ ہاسٹل وارڈن کو یونیورسٹی انتظامیہ نے پہلے ہی معطل کر دیا ہے۔

زیر تربیت نرس اپنا نرسنگ کورس پاس کرنے کے بعد پیپلز میڈیکل یونیورسٹی نوابشاہ میں ہاؤس جاب کر رہی ہیں اور جمعرات کے روز انھوں نے اپنے اہلخانہ سمیت نوابشاہ میں احتجاجی دھرنا دیا تھا اور مطالبہ کیا کہ متعلقہ حکام کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔

ان کی حمایت میں قوم پرست جماعتوں سمیت سول سوسائٹی کے ارکان بھی اس دھرنے میں شریک ہوئے تھے۔

انھوں نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ ایک انتظامی عہدیدار وقتاً فوقتاً جنسی تعلقات رکھنے کے لیے ہراساں اور پریشان کرتا رہتا تھا، جس کی شکایت انھوں نے اپنے سینیئرز کو بھی کی تھی۔

نرس کے مطابق نو فروری کی صبح نو بجے کے قریب وہ اپنے کمرے میں موجود تھیں کہ تین خواتین، جنھوں نے چہرے پر ماسک لگائے ہوئے تھے، نے کمرے میں داخل ہو کر ان کا گلا دبایا اور مار پیٹ کی اور وہ جان بچانے کے لیے دروازے کی جانب بھاگیں۔

جنسی ہراسانی

،تصویر کا ذریعہiStock

مدعی کے مطابق خواتین نے ان پر تشدد کرتے ہوئے کہا کہ اگر تم نے فلاں انتظامی عہدیدار کے ساتھ جنسی تعلقات نہیں رکھے تو تمھیں مار کر لاش پنکھے سے لٹکا دی جائے گی۔ اسی دوران اس نرس نے موقع ملتے ہی اپنے چچا کو ٹیلی فون کیا اور صورتحال سے آگاہ کیا۔

پولیس نے نرس کی درخواست پر اقدام قتل اور جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کرلیا ہے۔

یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر گلشن علی میمن سے اس بارے میں جاننے کے لیے بار بار رابطے کے باوجود ان کا مؤقف سامنے نہیں آ سکا تھا تاہم مقامی صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انھوں نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ متعلقہ نرس کو ہراساں نہیں کیا گیا اور لڑکی پر کسی قسم کا کوئی تشدد نہیں کیا گیا۔

نرس کے چچا گذشتہ شب متعلقہ تھانے میں ایف آئی آر درج کروانے گئے تھے تاہم پولیس نے انکار کر دیا تھا اور ان کے وائس چانسلر ڈاکٹر گلشن علی میمن سے فون پر بات کروائی تھی۔

نرس کے چچا اور ڈاکٹر گلشن کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں وائس چانسلر کہہ رہے ہیں کہ ہم کوشش کر رہے تھے کہ لڑکی کے والد کا نمبر ملے۔

نرس کے چچا انھیں بتاتے ہیں کہ لڑکی ان کی بھتیجی ہے اور ان کے بھائی یعنی لڑکی کے والد سعودی عرب میں رہتے ہیں۔

نرس کے چچا وائس چانسلر کو بتاتے ہیں کہ ان کی بھتیجی کو صبح قتل کرنے کی کوشش کی گئی۔ نرس کے چچا وائس چانسلر کو یہ بھی کہتے ہیں کہ ’میری بھتیجی نے آپ سے بھی ملاقات کی تھی‘ جس پر وائس چانسلر انھیں کہتے ہیں کہ ’میں دفتر میں بیٹھا ہوں آپ آ جائیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

نرس کے چچا کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی زیادتی ہوئی، ان کی بھتیجی کو مسلسل جنسی ہراساں کیا جاتا رہا اور وائس چانسلر نے انھیں دفتر بلا لیا۔

وائس چانسلر نے پرو وائس چانسلر کی سربراہی میں تین رکنی کمیٹی تشکیل دی اور ایک روز میں تحقیقاتی رپورٹ پیش کرنے کا حکم جاری کیا۔

نرس کا کہنا ہے کہ متعلقہ انتظامی عہدیدار انھیں دوست بنانے کے لیے ہراساں کر رہا تھا جس کی شکایت وہ حکام کو کرتی آئی ہیں لیکن ان کی شنوائی نہیں کی گئی۔

جنسی ہراسانی

گذشتہ روز جب صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوھو یونیورسٹی کے دورے پر آئیں، تو انھیں بھی شکایت کی گئی جس پر ڈاکٹر عذرا نے کہا کہ ’آپ کے ساتھ انصاف ہو گا‘ اور وہ یہ کہہ کر چلی گئیں۔

صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا کا مؤقف جاننے کے لیے ان کی ترجمان سے تحریری طور پر رابطہ کیا گیا لیکن ان کا کوئی جواب نہیں آیا۔

نرس نے الزام عائد کیا کہ ’ہمیں کہا جاتا تھا کہ ہم سے دوستی کرو، باہر ڈنر پر چلو ورنہ فیل کر دیں گے، سپلی لگائیں گے، داخلہ منسوخ کروا دیں گے، جب ہم ان کی ڈیمانڈ نہیں مانتے تو ہمیں مارا جاتا، ہراساں کیا جاتا۔‘

آنسو بہاتے اور سسکیاں لیتی ہوئی نرس کا کہنا تھا کہ ’میں اگر آج نہ بولتی تو میری بھی شاید پنکھے کے ساتھ لٹکی ہوئی لاش ملتی اور میڈیا میں آتا کہ اس نے پریشانی میں یہ اقدام اٹھایا۔‘