آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
اٹارنی جنرل آف پاکستان کا نواز شریف کی صحت سے متعلق معلومات کے لیے برطانیہ میں ان کے معالج کو خط
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
پاکستان کے اٹارنی جنرل نے لندن میں مقیم پاکستان کے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی صحت سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لیے ان کے برطانیہ میں معالج ڈیوڈ لارس کو خط لکھا ہے۔
لندن ہائی کمشین کے ذریعے لکھے گئے اس خط میں ڈاکٹر ڈیوڈ لارس سے کہا گیا ہے کہ پاکستان کے ڈاکٹر ان سے مل کر نواز شریف کی صحت سے متعلق تصدیق کرنا چاہتے ہیں۔
خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ کارروائی میاں نواز شریف اور شہباز شریف کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ میں جمع کرائے گئے بیان حلفی کی روشنی میں کی جا رہی ہے۔
یاد رہے کہ میاں شہباز شریف نے لاہور ہائی کورٹ میں جو بیان حلفی جمع کروایا تھا اس میں کہا گیا تھا کہ میاں نواز شریف علاج کروانے کے لیے برطانیہ جا رہے ہیں اور علاج کے بعد اگر ڈاکٹروں نے انھیں سفر کی اجازت دی تو وہ وطن واپس آئیں گے۔
اس بیان حلفی میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ اگر حکومت کو کوئی شک ہو کہ میاں نواز شریف علاج کروا کر صحت مند ہو گئے ہیں اور جان بوجھ کر وطن واپس نہیں آ رہے تو برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمیشن کا کوئی بھی اہلکار ان کے معالج سے مل کر اس بارے میں معلومات حاصل کر سکتا ہے۔
ڈاکٹر ڈیوڈ لارس کو لکھے گئے اس خط میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان کے نامزد کردہ ڈاکٹر آپ سے مل کر نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس کا جائزہ لینا چاہتے ہیں اور اس کے لیے پاکستانی ڈاکٹر سے ان کی ملاقات 22 فروری سے 13 مارچ کے دوران شیڈول کی جائے گی۔‘
یاد رہے کہ دو ہفتے قبل نواز شریف کے معالج ڈاکر فیاض شاول کی طرف سے لکھی گئی تازہ ترین میڈیکل رپورٹ لاہور ہائی کورٹ میں جمع کروائی گئی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ نواز شریف اس وقت شدید ذہنی دباؤ میں ہیں اور علاج کروائے بغیر برطانیہ سے واپس چلے جانا ان کے لیے شدید خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
ڈاکٹر فیاض شاول کی میڈیکل رپورٹ میں اور کیا لکھا گیا تھا؟
اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ دنیا بھر میں کورونا کی صورتحال اور بالخصوص اپنی بیماری کو دیکھتے ہوئے میاں نواز شریف کو ایئرپورٹ سمیت پبلک مقامات پر جانے سے گریز کرنا چاہیے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ جب تک نواز شریف کی انجیو گرافی مکمل نہ ہو اس وقت تک وہ اپنے ہسپتال سے دور نہ جائیں۔
واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم کے معالج کی طرف سے یہ میڈیکل رپورٹ ایک ایسے وقت میں لاہور ہائی کورٹ میں جمع کروائی گئی جب حکومت کی طرف سے نواز شریف کی بیرون ملک سے واپسی کی یقین دہانی پر عمل درآمد نہ ہونے پر سابق وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا اعلان کیا گیا۔
پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے نواز شریف کی میڈیکل رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے اسے جھوٹ کا پلندہ قرار دیا تھا۔
اس سے قبل فواد چوہدری یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف لندن میں علاج کی بجائے سیاسی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔
’نواز شریف کو قید تنہائی میں رکھا گیا تو ان کی زندگی کو مزید خطرات لاحق ہو جائیں گے‘
لاہور ہائی کورٹ میں جمع کروائی گئی رپورٹ میں میاں نواز شریف کے معالج نے انھیں تجویز دی کہ جب تک وہ صحتیاب نہیں ہو جاتے اس وقت تک وہ سفر نہ کریں۔
ڈاکٹر نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی لکھا کہ انھوں نے سابق وزیراعظم کا جو حال ہی میں معائنہ کیا، اس میں وہ شدید دباؤ میں تھے اور اگر علاج کروائے بغیر وہ پاکستان واپس چلے گئے اور انھیں قید تنہائی میں رکھا گیا تو انھیں لاحق بیماریوں کی وجہ سے ان کی زندگی کو مزید خطرات لاحق ہو جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیے
اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ سابق وزیراعظم اپنی اہلیہ کے انتقال کی وجہ سے بھی دباؤ میں تھے۔
ڈاکٹر فیاض نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ وہ میاں نواز شریف کو سنہ 2004 سے اس وقت سے جانتے ہیں جب وہ ان کا علاج کرنے کرنے کے لیے امریکہ سے سعودی عرب کے شہر جدہ گئے تھے۔
انھوں نے کہا کہ اس کے علاوہ انھوں نے دبئی میں بھی سنہ 2007 میں میاں نواز شریف کا علاج کیا تھا۔
اس رپورٹ میں میاں نواز شریف کو جو دوائیں دی جا رہی ہیں ان کی تفصیلات کے بارے میں بھی بتایا گیا جبکہ ڈاکٹر فیاض نے یہ بھی لکھا کہ انھوں نے میاں نواز شریف کو صحت مند غذا اور ورزش کا مشورہ دیا۔