یکساں قومی نصاب کی کتب میں خواتین اور اقلیتوں کی عکاسی: حکومت کا جاری شدہ کتابوں پر نظر ثانی کا فیصلہ

کتاب

،تصویر کا ذریعہPunjab Text Book Board

،تصویر کا کیپشن’لوگوں سے ملنے والے ردعمل کی بنا پر ہم (نصابی کتب پر) نظر ثانی کر رہے ہیں‘
    • مصنف, بینظیر شاہ
    • عہدہ, صحافی
  • وقت اشاعت

پاکستان میں حکام نے اعتراف کیا کہ حکومت یکساں نصاب کے تحت شائع ہونے والی کتابوں پر نظر ثانی کرنے جا رہی ہے تاکہ خواتین اور اقلیتوں کی ان کتب میں عکاسی کے حوالے سے والدین اور ماہرین تعلیم کے خدشات کو دور کیا جا سکے۔

وفاقی وزیر برائے تعلیم شفقت محمود کا کہنا ہے کہ ’لوگوں سے ملنے والے ردعمل کی بنا پر ہم (نصابی کتب پر) نظر ثانی کر رہے ہیں۔‘

ڈائریکٹر قومی نصاب کونسل پاکستان (این سی سی) ڈاکٹر مریم چغتائی کی جانب سے بھی تصدیق کی گئی کہ نصابی کتب پر نظر ثانی کی جائے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ ’یکساں نصاب کی تمام کتب پر لکھا ہوا ہے کہ یہ آزمائشی ایڈیشن ہیں۔‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اُن کا مزید کہنا تھا کہ انھوں نے اپنے محکمے کو پانچ اہم شعبوں میں کتب کو بہتر بنانے کا کہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں بتایا گیا کہ خاص طور پر چھوٹے بچوں کے لحاظ سے کتب میں مواد کی زیادتی تھی لہذا اس حوالے سے ان کتابوں میں ’اوورلوڈنگ‘ کو ٹھیک کرنے کا کہا گیا ہے۔‘

یاد رہے کہ گذشتہ برس اگست میں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے تمام نجی و سرکاری سکولوں حتیٰ کہ مدارس تک میں یکساں نصاب متعارف کروایا گیا۔ وفاقی وزارت تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کی ویب سائٹ کے مطابق یکساں نصاب یقینی بنایا جائے گا تاکہ ’تمام بچوں کو اعلیٰ معیار کی تعلیم حاصل کرنے کا منصفانہ اور مساوی مواقع حاصل ہوں۔‘

گذشتہ برس پہلی تا پانچویں جماعت کے سات مضامین جس میں انگریزی، ریاضی، اسلامیات، اردو، سماجی علوم، سائنس و دیگر کے لیے نیا نصاب نافذ ہو گیا تھا۔ اس نئے نصاب کے ساتھ حکومت کی جانب سے اسلام آباد سمیت صوبہ پنجاب اور خیبرپختونخوا کے ان مضامین کے لیے ماڈل یا نمونہ نصابی کتب بھی شائع کی گئیں۔

جبکہ صوبہ سندھ نے نئے نصاب کو اپنانے سے معذرت کر لی تھی۔

نئے نصاب کے نافذ العمل ہونے کے فوراً بعد ہی اس کے تعلیمی معیار اور اس میں خواتین اور اقلیتوں کی عکاسی کی وجہ سے اسے تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

پاکستان کے سرکاری سکول

،تصویر کا ذریعہAFP

مریم چغتائی کے مطابق ملنے والے ردعمل کے مطابق دوسرا شعبہ جس پر توجہ دینے کا کہا گیا وہ نصاب میں پیدا ہونے والے کسی علمی خلا کو پُر کرنے سے متعلق تھا۔ انھوں نے بتایا کہ تیسرا شعبہ جس کو بہتر بنانے کے لیے این سی سی کام کر رہا ہے وہ صنفی مساوات سے متعلق ہے۔

ڈاکٹر مریم چغتائی نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ’کچھ تدریسی کتب میں صنفی مساوات کا کوئی مسئلہ نہیں تھا لیکن کچھ کتب میں یہ استعمال کی گئی۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’مثال کے طور پر چھوٹی بچیوں کو حجاب پہنے دکھایا گیا تھا، اگرچہ پاکستان کے کئی سکولوں میں حجاب یونیفارم کا حصہ ہے لیکن وہ تصاویر پاکستانی ثقافت کی عکاسی نہیں کر رہی تھیں۔‘

واضح رہے کہ یکساں نصاب کی کتب کی اشاعت کے بعد ان میں کو خواتین کو دقیانوسی انداز میں پیش کرنے پر بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

مثال کے طور پر پہلی جماعت کی انگریزی کی نصابی کتاب میں ایک عورت کو صرف ماں، ایک گھریلو خاتون اور ایک استاد کے کردار میں دیکھا گیا تھا۔ دریں اثنا، ایک آدمی کو متنوع کرداروں میں پیش کیا گیا تھا جیسے پولیس اہلکار، کسان اور ڈاکٹر۔

Punjab Text Book Board

،تصویر کا ذریعہPunjab Text Book Board

ڈاکٹر مریم چغتائی کے مطابق چوتھا شعبہ جس پر توجہ دی جائے گی وہ مذہبی اقلیتوں اور کتب میں ان کی نمائندگی کے حوالے سے ہے۔

این سی سی ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ ’مثال کے طور پر میڈیا میں ایک درسی کتب کے ایک صفحے کا کافی حوالہ دیا گیا جس میں لکھا تھا ’مسجد کا احترام کریں اور باقی مذہبی جگہوں کا لحاظ کریں‘ میں نے انھیں کہا کہ یہ حذف کر دیں یہ غیر ضروری تھا۔‘

ڈاکٹر مریم کے مطابق آخری چیز جس کو ٹھیک کیا جائے گا وہ ٹائپنگ اور گرامر کی غلطیاں ہیں۔

جب ان سے انگریزی اور اردو جیسے لازمی مضامین میں ضرورت سے زائد اسلامی مواد کے بارے مںیں سوال کیا گیا (جس کے متعلق مذہبی اقلیتوں میں تشویش پائی جاتی ہے) تو ڈاکٹر چغتائی نے اعتراف کیا کہ یہ تنقید جائز تھی۔

’ہاں یہ جائز ہے۔ ان کتب میں توازن لانا ضروری ہے‘۔ انھوں نے مزید کہا کہ کتابوں کے نئے ایڈیشن میں دیگر مذاہب کی مذہبی شخصیات کے حوالے بھی شامل کیے جائیں گے۔

ماضی میں وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے لازمی مضامین میں اسلامی مواد کی شمولیت کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’اگر بچوں کے کردار کی تعمیر میں ہم اپنے رسول اور نبی کی مثال نہیں دیں گے تو کس کی دیں گے؟‘

یہ واضح کرنا ضروری ہو گا کہ نظر ثانی شدہ یکساں نصاب کی کتب برائے جماعت ایک تا پانچ فوری میسر نہیں ہوں گی اور انھیں 2023 تک دوبارہ شائع کیا جائے گا۔

اس حوالے سے وفاقی وزیر شفقت محمود نے بی بی سی کو بتایا کہ نظرثانی شدہ نصاب اگست 2023 میں نافذ کیا جائے گا۔

’ہم یہ اس لیے کر رہے ہیں تاکہ بچوں کو وہ کتابیں دوبارہ نہ خریدنی پڑیں، جو وہ پہلے ہی خرید چکے ہیں۔ ہم موجودہ کتب کو کم از کم مزید ایک سال اور دینا چاہتے ہیں۔‘

Punjab Text Book Board

،تصویر کا ذریعہPunjab Text Book Board

ماہرین کیا کہتے ہیں؟

مؤرخ اور ماہر تعلیم ڈاکٹر یعقوب خان بنگش کتابوں پر نظر ثانی کی کوشش کو ایک مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’میرے خیال میں یہ بہت اچھا ہے کہ این سی سی میں یہ احساس ہے کہ ایس این سی کے ساتھ سنگین مسائل تھے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’لیکن میں اسے رول بیک کہنے میں محتاط رہوں گا کیونکہ یہ اس بات پر منحصر ہے کہ وہ کیا اور کس سطح تک تبدیل کرنے جا رہے ہیں۔ وہ صرف تنقید کرنے والوں کو خوش کرنے کے لیے کچھ نمائشی تبدیلیاں کر سکتے ہیں یا واقعی اسے ایک اچھے نصاب میں تبدیل کرنے کے لیے کچھ اہم تبدیلیاں لا سکتے ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

پاکستان کے سرکاری سکول

،تصویر کا ذریعہAFP

یعقوب بنگش نے مزید کہا کہ ’محض یہ بیان بھی کہ کتابوں پر نظر ثانی کی جائے گی اُس بات کی طرف اشارہ ہے جس کی نشاندہی وہ اور بہت سے دوسرے ناقدین حکومت کے نئے نصاب میں مسائل کے بارے میں کرتے آئے ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’جس تیزی سے اسے (یکساں نصاب) نافذ کیا گیا تھا وہ غلط تھا۔ اور جس طریقے سے اسے مسلط کیا گیا تھا وہ غلط تھا۔ بہت سے ایسے اہم مسائل تھے جو پیدا ہی نہ ہوتے اور حالات اتنے خراب نہ ہوتے اگر وہ (حکومت) ان معاملات کو حل کرنے میں اور وقت لگاتی۔‘