عارف گل حِبس بے جا کیس: حراستی مرکز میں قید ملزم کی سپریم کورٹ میں پیشی

سپریم کورٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

مبینہ افغان شہریت کے حامل شہری عارف گل نے منگل کے روز سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ انھیں صرف کسی کی شکایت کی بنا پر سکیورٹی اداروں نے اپنی تحویل میں لیا ہے جبکہ وہ ایک ہوٹل میں بطور ویٹر کام کرتے تھے اور ان کے بقول ان کے خلاف اس سے پہلے کوئی مقدمہ درج نہیں تھا۔

تاہم اٹارنی جنرل کے بقول ملزم عارف گل پر سکیورٹی اداروں پر حملہ کرنے کا الزام ہے اور وہ اس وقت صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر کوہاٹ میں فوج کے زیر انتظام حراستی مرکز میں قید ہیں۔

چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے جب عارف گل کو حِبس بے جا رکھنے سے متعلق ان کے دادا کی طرف سے دائر کی گئی درخواست کی سماعت کی تو صوبہ خیبر پختونخوا کی پولیس کے حکام عدالتی حکم پر ملزم عارف گل کو لے کر عدالت میں پیش ہوئے۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے ملزم عارف گل سے استفسار کیا کہ ان کے ساتھ کیا مسئلہ ہے۔ عارف گل، جو کہ اردو میں بات نہیں کر سکتے، نے پشتو زبان میں عدالت کو بتایا کہ وہ ایک ہوٹل میں کام کرتے تھے اور کسی شخص نے ان کی شکایت کی جس کے بعد سکیورٹی اداروں کے اہلکاروں نے انھیں گرفتار کر لیا۔

صوبہ خیبر پختونخوا کے ایڈووکیٹ جنرل شمائل بٹ نے عارف گل کے بیان کا اردو میں ترجمہ کرتے ہوئے عدالت کو تفصیلات سے آگاہ کیا۔

ملزم کے ساتھ مختصر مکالمے کے بعد بینچ میں موجود جسٹس قاضی امین نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل ساجد الیاس بھٹی سے استفسار کیا کہ ملزم کو کس الزام میں گرفتار کر کے حراستی مرکز میں رکھا گیا ہے جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ ملزم پر الزامات کی دستاویز پہلے ہی سے عدالت میں جمع کروا دی گئی ہیں اور اس پر سکیورٹی فورسز پر حملوں کے الزامات ہیں اور اس کے علاوہ ملزم افغان شہریت کے حامل ہیں۔

عدالت کو بتایا گیا کہ ملزم نے پاکستان کی جو دستاویز بنا رکھی تھیں اس کو بلاک کر دیا گیا ہے۔ صوبہ خیبر پخونخوا کے ایڈووکیٹ جنرل شمائل بٹ کے بقول ملزم عارف گل کو افغان بارڈر کے قریب فوجی کیمپ پر حملہ کرنے کے الزام میں حراست میں لیا گیا۔

انھوں نے کہا کہ حراستی مرکز میں ملزم کی کونسلنگ اور ووکیشنل ٹرینگ بھی مکمل ہو چکی ہے۔

عارف گل
،تصویر کا کیپشنحِبس بے جا کیس کی سماعت کے دوران عارف گل کی سپریم کورٹ پیشی

حبس بے جا سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران عدالت کی طرف سے یہ ابزرویشن بھی دی گئی کہ جس قانون کے تحت ملزم کو حراستی مرکز میں رکھا گیا ہے اس کے قانونی ہونے کے بارے میں بھی سوالات اٹھ رہے ہیں کیونکہ سابقہ قبائلی علاقے فاٹا اب صوبہ خیبر پختونخوا کا حصہ بن چکے ہیں۔

اس سے پہلے گذشتہ سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا تھا کہ چونکہ ملزم اس وقت صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر کوہاٹ میں واقع فوج کے زیر انتظام چلنے والے حراستی مرکز میں ہے، اس لیے اس کو عدالت میں پیش کرنا ممکن نہیں جس پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ملزم کو پیش نہیں کرنا تو پھر سپریم کورٹ کو تالا لگا دیتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اگر ملزم کو پیش نہ کیا گیا تو پھر وزیر اعظم کو بھی طلب کیا جاسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

اٹارنی جنرل خالد جاوید نے عدالت کو بتایا کہ اب جبکہ ملزم کی شہریت کے بارے میں بھی معلوم ہو چکا ہے اور ملزم پر الزامات کے نوعیت کے بارے میں عدالت کو آگاہ کر دیا گیا ہے اس لیے عدالت اس درخواست کو نمٹا دے جس پر عدالت نے اتفاق نہیں کیا۔

اس کے بعد اٹارنی جنرل کی طرف سے یہ استدعا کی گئی کہ اس معاملے کو حراستی مرکز سے متعلق مقدمے کے ساتھ نتھی کر دیا جائے جو کہ پانچ رکنی لارجر بینچ کے سامنے زیر سماعت ہے۔ عدالت نے اٹارنی جنرل کی استدعا کو منظور کرتے ہوئے عارف گل کو حبسِ بے جا میں رکھنے کی درخواست کو فوج کے زیر انتظام حراستی مراکز سے متعلق مقدمے کے ساتھ نتھی کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کے دور میں صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقوں میں فوج کے زیر انتظام چلنے والے حراستی مراکز کی قانونی حیثیت سے متعلق معاملہ عدالت عظمیٰ میں زیر التوا ہے اور دو سال کے عرصے کے قریب ابھی تک یہ معاملہ سماعت کے لیے دوبارہ مقرر نہیں ہوا۔ موجودہ چیف جسٹس گلزار احمد بھی اگلے ماہ اپنے عہدے سے ریٹائر ہو رہے ہیں۔

عدالت نے درخواست گزار سلطان محمود، جو کہ ملزم عارف گل کے دادا ہیں، کی استدعا پر حکم صادر کیا کہ درخواست گزار اور ملزم کے والد کو اپنے بیٹے سے ملاقات کے لیے مروجہ طریقہ کار پر عمل کیا جائے۔

یہاں پر یہ امر قابل ذکر ہے کہ تین جنوری کو ہونے والی اس درخواست کی سماعت کے دوران جن ججز کی طرف سے حراستی مراکز کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھائے تھے، انھیں چار جنوری کو ہونے والی سماعت کرنے والے بینچ میں شامل نہیں کیا گیا۔

جن ججز کو اس بینچ سے الگ کیا گیا ان میں جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس محمد علی مظہر شامل ہیں جبکہ ان کی جگہ پر جسٹس اعجاز الااحسن اور جسٹس قاضی امین کو نئے بینچ میں شامل کیا گیا۔

عدالت نے حبس بے جا میں رکھنے کی اس درخواست کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی ہے۔