سوشل میڈیا پر وائرل تصویر: بچہ بلوغت تک فلاحی ادارے کے حوالے

وائرل ہونے والی بچے کی تصویر

،تصویر کا ذریعہSocial media

،تصویر کا کیپشنپشاور شہر میں اس بچے کو حکومتی سرپرستی میں لے لیا گیا
    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
  • وقت اشاعت

خدا کے لیے مجھے میرا بچہ واپس کر دیں میں اسے اب گھر سے بھی باہر نہیں جانے دوں گی ، پشاور میں تو ہزاروں بچے سڑکوں پر ماسک بیچتے یا مزدوری کرتے نظر آتے ہیں انھیں کیوں انتظامی افسران بچوں کے مرکز میں نہیں ڈالتے ۔

یہ باتیں ایک ماں کی ہیں جن کے نو بچے ہیں۔ جس بچے کا ذکر ہے یہ سب سے چھوٹا ہے۔ بچے کا نام عبیداللہ ہے اور والدہ کا نام فوزیہ ہے۔ فوزیہ یہی کہتی رہی میرا یہی ایک بچہ ہے، بہت معصوم ہے بہت نازوں سے پالا ہے بہت اچھا ہے اسے مجھے واپس دے دیں۔

عبید اللہ کی عمر والدین کے مطابق سات سال ہے جس کی تصویر سوشل میڈیا پر کیا وائرل ہوئی، ضلعی انتظامیہ، بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے سرکاری ادارے، بی آر ٹی کے حکام اور عدالتیں سب ہی متحرک ہو گئیں۔

انتظامیہ نے بچے کی نشاندہی کے بعد اسے اپنی تحویل میں لیا اور بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے ادارے کے حکام کے حوالے کیا۔ انھوں نے اسے زمونگ کور( ہمارا گھر) یعنی بچوں کی فلاح کے مرکز بھیج دیا۔

اگلے ہی روز اسے بچوں کے تحفظ کے لیے قائم خصوصی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں اسی روز عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے بچے کو اٹھارہ سال کی عمر تک پہنچنے تک اسی مرکز میں رکھنے کا فیصلہ سنا دیا ہے۔

تصویر میں ایسا خاص کیا تھا ؟

یہ تصویر یونیورسٹی روڈ پر جہانگیر آباد تہکال کے بی آر ٹی سٹیشن پر لی گئی تھی جس میں ایک بچہ ذرا تنگ سے جرسی پہنے ہوئے ہوئے ایک کونے میں دبک کر بیٹھا ہے جیسے اسے شدید سردی لگ رہی ہے۔ جرسی میں سارا جسم چھپانے کی کوشش کرتا ہے تو اس کے ٹانگیں جرسی سے باہر ہیں، چپل نہیں ہیں پیر نظر آ رہے ہیں اور چہرہ آدھا ڈھانپا ہوا ہے۔ اس بچے کے سامنے ماسک پڑے ہیں۔ پشاور کے بی آر ٹی سٹیشن پر سینکڑوں بچے ماسک بیچنے کے لیے موجود ہوتے ہیں جس سے انھیں کچھ آمدنی ہوتی ہے۔ اب یہ تصویر کس نے لی یہ معلوم نہیں ہو سکا۔

والدین کس حال میں ہیں؟

والدین آج زمونگ کور کے باہر بیٹھے رہے تاکہ بچے سے ملاقات ہو سکے۔ والدہ منتیں کر رہی تھی کہ خدا کے لیے اس کے بچے کو واپس اسے دے دیں وہ اپنے بچے کا خیال رکھے گی اور اسے گھر سے باہر بھی نہیں جانے دے گی۔

فوزیہ نے بتایا کہ پشاور میں تو ہزاروں بچے ایسے ہیں جو گلیوں میں رہتے ہیں، مزدوری کرتے ہیں کوئی ماسک بیچتا ہے کوئی مکینک کی دکان پر کام کرتا ہے لیکن انتظامیہ کے لوگ انھیں کیوں زمونگ گھر نہیں لے جاتی صرف اس کا بچہ ہی انھیں ملا تھا جسے وہ ساتھ لے گئے ہیں۔

عبید اللہ کے والد عامر اللہ روزانہ مزدوری کرتے ہیں کبھی کام مل جاتا ہے کبھی خالی ہاتھ واپس آتے ہیں۔ تین بڑے بھائی ہیں وہ مزدوری کرتے ہیں جبکہ پانچ بہنیں ہیں۔ عامر اللہ نے بتایا کہ وہ غریب ہیں ان کا بیٹا صبح سکول جاتا ہے اور واپس آکر پھر مدرسے جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس روز بھی ایسا ہوا گھر میں بتایا کہ وہ مدرسے جا رہا ہے لیکن راستے میں بچوں کے ساتھ بی آر ٹی سٹیشن چلا گیا تھا۔

ان سے کہا گیا کہ یہ تو ملک کا قانون ہے کہ اگر آپ بچے کی پرورش صحیح طریقے سے نہیں کر سکتے تو حکومت اس کی ذمہ دار ہے۔ اس پر عامراللہ نے بتایا کہ یہ درست ہے لیکن ہم اپنی طرف سے بچوں کا خیال رکھتے ہیں اور ان کی اچھی پرورش کرتے ہیں اب اگر بچہ باہر چلا گیا تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسے اٹھا کر لے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں ہزاروں لاکھوں بچے ایسے ہیں ان کا کوئی نہیں ہے سڑکوں پر زندگی گزارتے ہیں، ورکشاپوں میں سوتے ہیں انھیں اٹھا کر لے جائیں۔

یہ خاندان تہکال کے علاقے میں رہتا ہے۔ اس علاقے سے تعلق رکھنے والے پاکستان مسلم لیگ کے سیاسی رہنما ارباب خضر حیات نے بتایا کہ تہکال کا علاقہ بہت پھیلا ہوا ہے اور یہاں ہزاروں بچے ہیں جو یا تو ورکشاپوں پر کام کرتے ہیں یا ماسک اور غبارے بیچتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ عامر اللہ اور اس طرح کے متعدد خاندان ان کی رہائش گاہ کے قریب رہتے ہیں اور دراصل مہنگائی اتنی بڑھ گئی ہے کہ لوگوں کا گزارہ نہیں ہو رہا اس لیے بچوں کو کام کے لیے بھیج دیتے ہیں۔

ارباب خضر حیات نے بتایا کہ صرف سوشل میڈیا پر آنے والی تصویر پر ہی حکومت نے ایکشن کیوں لیا، سوشل میڈیا سے ہٹ کر بھی بچے ہیں جن کی فلاح کے لیے حکومت کو کام کرنا چاہیے۔

بچوں کی فلاح کا ادارہ
،تصویر کا کیپشنبچوں کو زمونگ کور نامی گھر میں منتقل کر دیا جاتا ہے

عدالت میں کیا ہوا؟

عبیداللہ کے وکیل عبدالناصر ایڈوکیٹ اب ہائی کورٹ میں پٹیشن کی تیاری کر رہے ہیں اور امید ہے آج بدھ کے روز ہائی کورٹ میں رٹ پیش کر دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا اب یہ رٹ کب منطور ہوتی ہے اور کب اس پر سماعت شروع ہوتی ہے یہ معلوم نہیں ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس پر کم سے کم ایک ماہ لگ سکتا ہے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ اس بچے کی تصویر گزشتہ ہفتے سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی اور انتظامیہ نے اس بچے کو 29 نومبر کو تحویل میں لے لیا تھا۔ 30 نومبر کو بچوں کے تحفظ کی خصوصی عدالت میں پیش کیا گیا اور اسی روز فیصلہ بھی سنا دیا گیا کہ اٹھارہ سال کی عمر تک پہنچنے تک بچہ اس بچوں کے سرکاری مرکز زمونگ کور میں رہے گا۔ انھوں نے بتایا کہ اس کے بعد اس بچے کی مرضی ہے کہ وہ والدین کے پاس جانا چاہتا ہے یا نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ عام طور پر اس طرح کے کیسوں میں والدین کو سنا جاتا ہے، انھیں تنبیہ کی جاتی ہے، چند روز کے لیے بچوں کے مراکز بھیجا جاتا ہے تاکہ والدین کو احساس ہو اور پھر بچہ اپنے والدین کی نگرانی میں صحیح پرورش پا سکے۔

بچے

،تصویر کا ذریعہPacific Press

،تصویر کا کیپشنپاکستان میں کئی کروڑ بچے سکول نہیں جاتے

بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والا سرکاری ادارہ

چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر کمیشن خیبر پختونخوا بے سہارا بچوں اور سٹریٹ چلڈرن کے علاوہ بچوں کے تحفظ کے لیے بنایا گیا ہے۔

زمونگ کور اور اس طرح کے دیگر ادارے اسی ادارے کے تحت ہیں۔ کبھی کبھی یہ ادارہ بھیک مانگنے والے بچوں کے خلاف مہم شروع کر دیتا ہے لیکن ایسی مہم کوئی زیادہ موثر نہیں رہتی کیونکہ صرف پشاور میں کم ہی ایسا ہوا ہے کہ کسی روز چوک یا سڑکوں پر بچے بھیک مانگتے یا برائے نام ماسک اور ٹافیاں بیچتے نظر نہ آئیں۔

اس محکمے کے پشاور میں تعینات ضلع افسر یونس آفریدی سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ بچہ زمونگ کور میں ہے اور خوش ہے۔ انھوں نے یہ ساری روداد سنائی کہ کیسے بچے کو انھوں نے تحویل میں لیا اور پھر عدالت میں پیش کیا۔

ان سے جب پوچھا کہ اس طرح کے ہزاروں بچے اس وقت پشاور میں چوکوں اور سڑکوں پر موجود ہیں کوئی بھیک مانگ رہا ہے اور کوئی مزدوری کرتا ہے تو کوئی چھوٹی موٹی اشیا جیسے غبارے اور گاڑی صاف کرنے والے کپڑے ٹافیاں بیچتے نظر آتے ہیں ان کی فلاح کے لیے بھی کوئی کام کریں صرف سوشل میڈیا پر آئی تصویر پر ہی ایکشن کیوں تو ان کا کہنا تھا کہ یہ تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو اس پر ایکشن لیا گیا اس کے علاوہ بھی انھیں اگر کوئی ایسے بچے نظر آتے ہیں تو وہ ان کی اصلاح یا ویلفیئر کے لیے کام کرتے ہیں۔

پاکستان میں کتنے بچے سڑکوں پر ہیں؟

بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے سوشل ورکر عمران ٹکر نے بتایا کہ اس وقت سٹریٹ چلڈرن یا مزدوری کرنے والے بچوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے کیونکہ کچھ عرصہ پہلے یونیسف کے جائزے کے مطابق پاکستان میں سوا دو کروڑ بچے ایسے ہیں جن کی عمر سکول جانے کی ہے لیکن وہ سکول نہیں جا رہے اور اس طرح کوئی ایک کروڑ بچے ایسے ہیں جو روزانہ کی بنیاد پر مزدوری یا مشقت کرتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ سال 2017 میں خیبر پختونخوا میں ایک سروے ہوا تھا جس میں بتایا گیا تھا کہ صوبے میں 18 لاکھ بچے ایسے ہیں جن کی عمر سکول جانے کی ہے لیکن سکول نہیں جا رہے اور اس سروے میں قبائلی علاقے شامل نہیں تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت حال ہی میں سروے ہوا ہے جس کے مطابق 47 لاکھ بچے سکول نہیں جا رہے جس میں 12 فیصد بچے مزدوری کرتے ہیں۔

عمران ٹکر کے مطابق اس طرح کے بچے ایسے ہوتے ہیں جن کا کسی بھی طرح کا استحصال ہو سکتا ہے اور ایسے بچوں کو ہمیشہ کسی بھی جانب سے خطرہ رہتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بنیادی طور پر حکومت کو اس کے لیے باقاعدہ حکمت عملی بنانا ہوگی اور اس کے لیے باقاعدہ سروے کرنے کے بعد ان بچوں کی فلاح کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے علاوہ سول سوسائٹی اور دیگر اداروں اور مخیر لوگوں کو بھی سامنے آنا ہوگا تاکہ اس مسئلے پر قابو پایا جا سکے۔