نسیم بی بی: وہاڑی سے راولپنڈی آنے والی بھکارن جو اپنے بیٹے کو بابو بنانے کے خواب دیکھتی تھی

- مصنف, محمد زبیر خان
- عہدہ, صحافی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
'ہم پولیس والے ہیں۔ روزانہ مختلف حادثات اور واقعات سے پالا پڑا ہے مگر دل کو توڑ دینے والے ایسا منظر اس سے پہلے نہیں دیکھا تھا۔۔۔ جب ہم جائے وقوعہ پر پہنچے تو خاتون شدید زخمی حالات میں زمین پر پڑے اپنے بچے کو ہلا جلا رہی تھی۔‘
’وہ خود بھی زمین پر بیٹھی تھی اور بچہ اس کے قدموں کے پاس بے حس و حرکت تھا۔ لگتا تھا کہ ماں کو اپنی پرواہ نہیں بلکہ وہ بچے کے بارے میں زیادہ فکر مند ہے۔‘
یہ منظر بیان کیا پنجاب کے ضلع راولپنڈی کے ایک پولیس اہلکار نے جو ریسکیو 15 کی اطلاع پر 24 جولائی کو شہر کے ایک قدرے سنسان علاقے مہونہ موہڑہ پر پہنچے اور وہاں انھیں زخمی حالات میں ایک عورت اور ایک بچے کی لاش ملی۔
پولیس اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ خاتون کی گردن پر تیز دھار آلے کا زخم تھا۔ ان کی حالت بھی ٹھیک نظر نہیں آرہی تھی اور اس کی گردن سے خون نکل رہا تھا۔
'ہم دیکھتے ہی سمجھ گئے کہ بچہ زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ چکا ہے۔ اس کی گردن پر بھی زخم کا نشان موجود تھا۔'
مزید پڑھیے:
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پولیس اہلکار کے مطابق انھوں نے خاتون سے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کیں تو وہ صرف اتنا ہی کہہ سکیں کہ یہ بچہ یوسف گلفام ہے اور میں نسیم ہوں اور اس کے بعد وہ کوشش کرنے کے باوجود بھی مزید بات نہیں کرسکیں۔
پھر یہی خاتون ہسپتال میں تین روز زیر علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئیں۔
تاہم راولپنڈی پولیس کے سربراہ محمد احسان یونس نے اپنے جاری کردہ ایک وڈیو پیغام میں دعویٰ کیا ہے کہ پولیس نے واقعے کے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔
پولیس نے متاثرہ خاتون کی ہمشیرہ کی مدعیت میں ملزم کے خلاف قتل، اقدام قتل، اور زیادتی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
ہلاک ہونے والے ماں بیٹے کون تھے؟
راولپنڈی کے تھانہ چونترہ میں ماں بیٹے کے قتل کا مقدمہ مقتولہ نسیم بی بی کی بہن شمیم بی بی کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔
شمیم بی بی نے بتایا کہ وہ کُل پانچ بہن بھائی ہیں۔ ان کا تعلق وہاڑی سے ہے تاہم کچھ عرصے سے ان کا خاندان اسلام آباد اور راولپنڈی میں مقیم ہیں۔ شمیم بی بی نے بتایا کہ ان کی بہن نسیم راولپنڈی کے علاقے روات میں اپنے ماموں محمد رمضان کے پاس رہائش پذیر تھیں۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نسیم کی دس برس قبل کم عمری میں ہی شادی ہوگئی تھی جس کے بعد اگلے کئی سال تک وہ اولاد کے لیے بے چین تھیں تاہم بیٹے کی پیدائش کے بعد وہ بے حد خوش تھیں۔
'وہ اپنے بیٹے کو اپنی جان سے زیادہ چاہتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ پہلے اس کا نام یوسف رکھا، پھر پتا نہیں کیا ہوا اور اس نے کہنا شروع کر دیا کہ یہ تو دنیا کا خوبصورت ترین بیٹا ہے اور یوسف کے ساتھ گلفام بھی لگا دیا۔'
شمیم بی بی کا کہنا تھا کہ نسیم کا خاوند ساہیوال میں ہوتا ہے جبکہ یہ ساہیوال اور راولپنڈی آتی جاتی رہتی تھیں۔ اسی طرح اس کا خاوند بھی آتا جاتا رہا تھا۔ دونوں میاں بیوی اپنے بیٹے کو بہت خیال رکھتے تھے۔
'نسیم کو اگر کچھ اچھا کھانے کو ملتا تو وہ اپنے بیٹے کو کھلاتی تھیں، خود نہیں کھاتی تھیں۔'
وقوعہ کیا ہوا ہے؟
اس مقدمے میں نسیم بی بی کے ماموں محمد رمضان کی حیثیت گواہ کی سی ہے۔
شمیم بی بی کی جانب سے درج مقدمہ میں کہا گیا ہے کہ 24 جولائی کو ان کی بہن نسیم بی بی اپنے بیٹے گلفام کے ساتھ اپنے بھائی محمد رمضان کے ہمراہ گداگری کے لیے چک بیلی خان بازار پہنچے۔
مقدمے کے مطابق نسیم کا ایک جاننے والا شخص انھیں اور ان کے بیٹے کو اپنے ساتھ موٹر سائیکل پر بٹھا کر گاؤں مہوٹہ موہڑہ لے گیا۔
مقدمے میں کہا گیا ہے کہ دو گھنٹے بعد وہ شخص اپنی موٹر سائیکل پر تیزی سے ہمارے پاس سے گزر گیا جس سے شمیم بی بی اور محمد رمضان کو شک ہوا۔ جب انھوں نے نسیم بی بی اور گلفام کی تلاش شروع کو تو مہوٹہ موہڑہ کے جنگل میں انھیں نسیم اور ان کا بیٹا ملا۔
نسیم بی بی نے انھیں بتایا کہ وہ شخص انھیں اس مقام پر لے کر آیا تھا اور پھر اس نے ان کے ساتھ زبردستی جنسی فعل کیا۔ مقدمے کے مطابق نسیم نے کہا کہ ریپ کرنے کے بعد اس نے چھری نکال کر انھیں قتل کرنے کی نیت سے وار کیا جو ان کی گردن پر لگا اور وہ شدید زخمی ہو گئیں۔
پھر اس شخص نے چھری کا دوسرا وار ان کے بیٹے گلفام پر کیا۔ چھری اس کی گردن کے بائیں جانب لگی اور وہ بھی شدید زخمی ہو گیا اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر جاں بحق ہوگیا۔
'نسیم کی خواہش تھی کہ بیٹا بابو بنے'
نسیم بی بی کے ماموں محمد رمضان کا کہنا تھا کہ ہم لوگوں کو پڑھائی سے کوئی لینا دینا نہیں مگر نسیم بی بی اکثر کہا کرتی تھیں کہ وہ چاہتی تھیں کہ ان کا بیٹا گداگری سے وابستہ نہ ہو بلکہ وہ سکول جائے، تعلیم حاصل کرے اور بابو بنے۔
'جب کبھی بچے سکول جاتے دیکھتے تو اپنے بیٹے سے بات کرتی اور ان سے کہتی کہ دیکھو تم نے بھی ان کی طرح سکول جانا ہے۔'
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے محمد رمضان کا کہنا تھا کہ وہ اکثر گداگری کا کام چھوڑ کر کوئی اور کام کرنے کے نہ صرف منصوبے بناتی بلکہ ان پر عمل در آمد کرنے کی بھی کوشش کرتی تھی۔
'ایک دو مرتبہ اس نے بڑے لوگوں کی کوٹھیوں پر کام حاصل کرنے کی بھی کوشش کی تھی مگر اس کو کام نہیں ملا جس کے بعد وہ دوبارہ گداگری کی طرف متوجہ ہوگئی تھی۔'
شمیم بی بی کا کہنا تھا کہ میں اس سے اکثر کہا کرتی تھی ’بیٹے کی تعلیم اور گداگری چھوڑنے کی باتیں چھوڑو اور جب کام پر جایا کرو تو یوسف کو ساتھ نہ لے کر جایا کرو، مگر وہ میری بات نہیں مانتی تھی۔‘
تفتیش کہاں تک پہنچی؟
تھانہ چونترہ کے تفتیش کاروں نے بتایا ہے کہ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو حراست میں لے لیا ہے اور اس سے تفتیش کی جا رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہTwitter/@RWPPolice
مقدمہ درج ہونے کے بعد پولیس نے ملزم کی گرفتاری کے لیے اس کی تصاویر جاری کر کے عوام سے بھی مدد طلب کی تھی تاہم ملزم نے خود کو پولیس کے حوالے کر دیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق ملزم نے پولیس کے ہاتھوں مارے جانے کے ڈر سے گرفتاری دی۔
وقوعے کے روز ملزم نسیم بی بی کو ایک سنسان مقام پر لے کر گیا جہاں مقتولہ کی جانب سے مزاحمت کے باعث اس نے مشتعل ہو کر دونوں پر تیز دھار آلے سے وار کیا اور فرار ہو گیا۔
پولیس ترجمان محمد ماجد کے مطابق پولیس اہلکار ریسیکو 15 کی کال پر جائے وقوعہ پر مقتولہ کے خاندان کے ساتھ ساتھ ہی پہنچے تھے۔
گشت پر تعنیات پولیس پارٹی نے موقع کے تمام شواہد اکھٹے کرنے کے ساتھ اپنی کارروائی کا آغاز کردیا تھا۔ پولیس ترجمان کے مطابق پولیس نے مختلف نمونے بھی فرانزک لیبارٹری بھجوا دیے ہیں۔
پولیس ترجمان محمد ماجد کے مطابق ملزم چک بیلی میں فرنیچر کا کام کرتا ہے اور مقامی لوگوں سے تفتیش میں پتہ چلا کہ یہ خواتین چک بیلی کے علاقے میں بھیک مانگتی تھیں۔ چک بیلی کے تقریباً تمام ہی دوکاندار نسیم بی بی اور ان کے خاندان کو جانتے تھے۔
واقعے کے بعد نسیم بی بی کو طبی امداد کے لیے راولپنڈی ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال لایا گیا جہاں ایک دن بعد ان کی بھی موت ہو گئی۔

،تصویر کا ذریعہTwitter/MehreenSaeed10
وائرل ویڈیو کس نے بنائی؟
یہ معاملہ کئی دنوں سے سوشل میڈیا پر موضوع بحث بنا ہوا ہے اور حال ہی میں خواتین کے خلاف پرتشدد جرائم کے متعدد واقعات کے ساتھ اس پر بھی لوگوں میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ مسلسل تین دن سے #JusticeForNaseemaBibi ٹاپ ٹرینڈ میں شامل ہے۔
اس کی بنیادی وجہ واقعے کے بعد نسیم اور ان کے مردہ بیٹے کی بنائی گئی ایک ویڈیو ہے۔
ویڈیو میں بظاہر ایک شخص خاتون سے بیان لینے کی کوشش کرتا ہے اور تقریباً 16 سیکنڈ کی اس ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ خاتون بات کرنے کی کوشش کرتی ہیں مگر کر نہیں پاتیں۔
پولیس اہلکار محمد ماجد نے تصدیق کی کہ مذکورہ ویڈیو موقعے پر پہنچنے والے پولیس اہلکاروں نے بنائی تھی اور وہ اسے ثبوت کے طور پر عدالت میں پیش کریں گے۔
ان کے مطابق بدقسمتی سے مقتولہ پولیس پارٹی کو اپنا بیان ریکارڈ نہیں کروا سکیں مگر اس نے اپنی بہن اور اپنے ماموں محمد رمضان کو بتایا کہ اس پر اور بیٹے پر وار کس شخص نے کیے تھے۔



























