منظور احمد کی فوج سے ’جبری ریٹائرمنٹ‘ کا معاملہ: میجر جنرل کی مبینہ ’جبری برطرفی‘ کے خلاف درخواست لاہور ہائی کورٹ نے مسترد کر دی

    • مصنف, اعظم خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

لاہور ہائی کورٹ نے پاکستانی فوج کے ایک سابق میجر جنرل کی جانب سے فوج سے مبینہ ’جبری برطرفی‘ کے خلاف دائر کردہ درخواست کو مسترد کر دیا ہے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ کے جج جسٹس عاصم حفیظ نے اس درخواست کو آئین کے آرٹیکل 199 کے سب سیکشن تین کی روشنی میں مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوج سے تعلق رکھنے والے کسی شخص کا معاملہ اگر اُس کی نوکری سے متعلق ہے تو اس بارے میں کوئی آرڈر جاری نہیں کیا جا سکتا۔

میجر جنرل منظور احمد نے فوج سے اپنی قبل از وقت ریٹائرمنٹ کو ’جبری برطرفی‘ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ فوجی حکام نے انھیں صدر پاکستان کو ایک خط لکھنے کی پاداش میں ’انتقامی کارروائی‘ کا نشانہ بنایا ہے۔

اِس سے قبل میجر جنرل منطور احمد نے اپنی برطرفی کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی درخواست دائر کی تھی تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے اس درخواست کو یہ کہہ کر نمٹا دیا تھا کہ یہ اُن کے دائرہ سماعت میں نہیں آتی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے درخواست گزار کو لاہور ہائی کورٹ سے رابطہ کرنے کی تجویز دی تھی۔

درخواست گزار کے وکیل عابد ساقی نے بی بی سی کو بتایا کہ عدالت کی طرف سے ان کی درخواست مسترد کیے جانے کے بارے میں مزید تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔ انھوں نے کہا کہ اس عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کرنے سے متعلق فیصلہ درخواست گزار سے مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔

سابق میجر جنرل منظور احمد نے دعویٰ کیا تھا کہ اپنی قبل از وقت ریٹائرمنٹ کے خلاف ’صدر پاکستان کو لکھے گئے ایک خط کے بعد انھیں فوج کی جانب سے انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا گیا۔‘

رواں ماہ کے آغاز میں فوج سے برطرف ہونے والے میجر جنرل نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپنی برطرفی کے خلاف درخواست دائر کرتے ہوئے اسے فوجی حکام کا ایک ’غیر قانونی‘ اور ’غیر منصفانہ‘ اقدام قرار دیا تھا۔

اپنی درخواست میں برطرف کیے جانے والے افسر نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ آرمی میں میجر جنرل سے لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی کا کوئی واضح اور شفاف طریقہ کار موجود نہیں ہے۔

بی بی سی نے ماضی میں فوج کے ترجمان سے اس معاملے پر مؤقف حاصل کرنے کے لیے رابطہ کیا تھا تاہم شعبہ اس بابت کوئی جواب اب تک موصول نہیں ہوا ہے۔

تاہم دیگر فوجی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ میجر جنرل کی جانب سے درخواست میں جو الزامات عائد کیے گئے ہیں ان میں کوئی حقیقت نہیں ہے کیونکہ فوج میرٹ پر یقین رکھتی ہے۔

میجر جنرل منظور احمد کا کیس ہے کیا؟

اپنے مقدمے کی تفصیلات بی بی سی کو بتاتے ہوئے برطرف میجر جنرل منظور احمد نے بتایا تھا کہ انھیں ملٹری سیکریٹری کی طرف سے گذشتہ برس 29 جون کو ریٹائرمنٹ کے احکامات موصول ہوئے جن میں یہ کہا گیا کہ وفاقی حکومت نے ان کی مدت ملازمت پوری ہونے پر ان کی معمول کی ریٹائرمنٹ کی منظوری دے دی ہے۔

اس کے بعد جنرل منظور احمد نے اپنی بھاگ دوڑ شروع کی اور اپنی ’جبری ریٹائرمنٹ‘ کے خلاف وفاقی حکومت کو گذشتہ برس 13 جولائی کو خط لکھا۔ مگر ان کے مطابق اُن کا یہ خط صدر پاکستان کو بھیجنے کے بجائے ملٹری سیکریٹری نے فوج کے ہیڈ کوارٹرز میں ایڈجوٹینٹ جنرل (اے جی) کو انکوائری کے لیے بھیج دیا۔

انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ اے جی سیکریٹریٹ نے انھیں بلا کر دو آپشن دیے: اپنے خط (رپریزنٹیشن ٹو پریذیڈنٹ آف پاکستان) کو واپس لے لو یا پھر برطرفی کے ساتھ کورٹ مارشل کا سامنا کرو۔ اُن کے مطابق جب وہ ان آپشنز کو خاطر میں نہ لائے تو ڈپٹی ملٹری سیکریٹری نے اُن کی ریٹائرمنٹ اور کورٹ آف انکوائری کو التوا میں ڈال دیا۔

خیال رہے کہ یہ انکوائری کور کمانڈر منگلا لیفٹیننٹ جنرل شاہین مظہر محمود کی سربراہی میں کی جا رہی تھی اور برطرف کیے جانے والے میجر جنرل کو اس کور کے ہی سپرد کر دیا گیا۔

میجر جنرل منظور احمد کے مطابق ان کی وقت سے پہلے جبری ریٹائرمنٹ اور پھر انکار پر برطرفی کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی جو کہ آرمی ایکٹ کی بھی خلاف ورزی ہے اور اس سے ’بدنیتی‘ ظاہر کرتی ہے۔

اُن کے مطابق اس کارروائی کے چھ ماہ بعد رواں برس نو مارچ کو آئی جی آرمز نے طلب کیا اور ملازمت سے برطرفی کا نوٹیفکیشن تھما دیا مگر اس میں بھی کوئی فرد جرم عائد نہیں کی گئی اور نہ وجہ بتائی گئی کہ ایسا کیوں کیا جا رہا ہے۔

برطرف میجر جنرل کے مطابق یہی وہ نکتہ تھا کہ انھوں نے نہ صرف وفاقی حکومت بلکہ انصاف کے حصول کے لیے عدالت سے بھی رجوع کرنے کا فیصلہ کیا۔

میجر جنرل منظور احمد کے تحفظات تھے کیا؟

میجر جنرل منظور احمد کے مطابق انھوں نے فوج میں میجر جنرل سے لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی کے طریقہ کار پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ انھوں نے موجودہ آرمی چیف کو بتایا تھا کہ اس ترقی کے لیے فوج میں مختلف خطوں یا صوبوں کا خیال نہیں رکھا جاتا، جس کے فوج کے ادارے پر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

برطرف کیے گئے جنرل نے وفاقی حکومت کے سامنے بھی فوج میں میجر جنرل سے لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے سے ترقی کے معیار پر سوالات اٹھائے اور کہا کہ اس طریقہ کار میں مختلف صوبوں، قومیتوں اور زبانوں کا خیال نہیں رکھا جاتا، جس سے فوج کے ادارے پر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

میجر جنرل کے مطابق اُن کی تجاویز کو زیر غور لانے کے بجائے انھیں ملازمت سے ہی فارغ کر دیا گیا۔

میجر جنرل منظور احمد کا کہنا تھا کہ انھوں نے اپنی 35 برس کی سروس میں فوج میں اہم ذمہ داریوں پر فرائض سر انجام دیے ہیں، جن میں چھ ماہ تک لیفٹیننٹ جنرل کے معیار کے ایک عہدے آئی جی آرمز کے طور پر بھی فرائض سرانجام دیے مگر بجائے اس کے کہ انھیں اگلے رینک میں ترقی دی جاتی اس بات نے اعلیٰ بااثر افسران کو ان کے خلاف اور بھڑکا دیا اور انھوں نے پھر ان کی برطرفی کی سازش تیار کی۔

برطرف کیے گئے میجر جنرل منظور احمد کے وکیل عابد ساقی نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ان کے مؤکل کے مطابق ان کے خلاف فوج میں گروپ بندی ہوئی اور انھیں ہدف بنا کر فوج سے نکالا گیا ہے۔ تاہم انھوں نے ابھی ان افسران کے نام نہیں بتائے جنھوں نے، اُن کے مطابق، ان کے خلاف دھڑے بندی کی۔

برطرف میجر جنرل نے الزام عائد کیا کہ تین سال قبل ان کے اور ان کے خاندان کے خلاف سوشل میڈیا پر ایک منظم مہم چلائی گئی تھی۔

خیال رہے کہ میجر جنرل منظور احمد کو ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید، لیفٹیننٹ جنرلز شمشاد مرزا، شاہین مظہر محمود اور ندیم ذکی منج کے ساتھ سنہ 2015 میں میجر جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی تھی۔

جنرل منظور کے مطابق ان پر نہ تو کوئی سنگین ضابطہ کار کی خلاف ورزی کا کیس بنا، نہ انھوں نے کوئی اہم ملکی راز فاش کیے۔۔۔ اور نہ کبھی ان کے خلاف کوئی تحقیقات ہوئیں اور پھر بھی انھیں برطرف کر دیا گیا جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اعلیٰ عسکری حکام نے غیر قانونی قدم اٹھایا ہے۔

فوج میں ترقی کا طریقہ کار کیا ہے؟

عسکری حکام کے مطابق مطابق فوج میں میرٹ کا ایک نظام موجود ہے اور اہم ذمہ داریوں پر ترقی علاقائی بنیادوں پر نہیں دی جاتی بلکہ اوپن میرٹ کا ایک واضح نظام موجود ہے۔

ان کے مطابق صرف میجر جنرل منظور احمد ہی وہ واحد افسر نہیں ہیں کہ جن کو میجر جنرل سے لیفٹننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی نہیں دی گئی بلکہ فوج میں دو درجن سے زائد ایسے میجر جنرلز ہیں جنھیں حالیہ عرصے میں لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی نہیں دی گئی۔

سابق سیکریٹری دفاع نعیم خالد لودھی نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ فوج میں نچلی سطح پر بھرتی میں تو علاقائی (ڈیموگرافک) تنوع کا خیال رکھا جاتا ہے کہ کس علاقے، صوبے اور ضلع سے کتنے لوگ سپاہی، صوبیدار اور حوالدار لیے جائیں مگر ان کے مطابق افسران کی سطح پر معاملہ مختلف ہو جاتا ہے۔

'سیکنڈ لیفٹیننٹ سے لے کر بریگیڈیئر تک تو ترقی کا ایک تحریری مسودہ موجود ہے مگر میجر جنرل بننے کے لیے بھی ’وار کورس‘ میں ایک خاص حد تک نمبرز حاصل کرنے ضروری ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق میجر جنرل سے لیفٹیننٹ جنرل بننے کے لیے کوئی واضح نظام تو موجود نہیں ہے مگر اس حوالے سے آرمی چیف دیگر اعلیٰ افسران سے مشاورت کے بعد کوئی فیصلہ کرتے ہیں کہ کسے اگلے رینک میں ترقی دی جانی چاہیے۔‘

یہ بھی پڑھیے

سابق سیکریٹری دفاع کے خیال میں اس طرح ترقی دینے سے قبل بھی دیکھا جاتا ہے کہ جس افسر کو ٹاسک دیا گیا تھا وہ اس نے کس حد تک کامیابی سے حاصل کیا اور اس دوران اس کی کوئی مسائل تو سامنے نہیں آئے ہیں۔ ان کے مطابق فوج نے اب بلوچستان اور سندھ میں اس مقصد کے لیے اکیڈمیاں اور کالج قائم کیے تاکہ ان علاقوں کی بھی فوج میں ہر سطح پر نمائندگی کو بڑھایا جا سکے اور یہی وجہ ہے کہ فوج میں ایک بلوچی افسر نے اعزازی شمشیر حاصل کی ہے۔

جب فوج میں بھرتی ہوا تو والد نے مخالفت کی مگر پھر جنرل تک فوج نے بنایا

لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ وہ لاہور میں رہتے تھے اور انجنیئرنگ کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد جب انھوں نے فوج میں بھرتی ہونے کا فیصلہ کیا تو ان کے والد نے اس فیصلے کی مخالفت کی کیونکہ خاندان اور علاقے میں دور دور تک کوئی فوج میں بھرتی نہیں ہوا۔

ان کے مطابق بھرتی ہونے سے لے کر جنرل بننے تک سارا سفر فوج نے ہی طے کرایا اور یہ سب ایک شفافیت اور میرٹ کے نظام کے تحت ہی ممکن ہو سکا ہے۔

ان کے مطابق کچھ افسران کو بتایا نہیں جاتا مگر ان کے خلاف کچھ ایسی شکایات اور انٹیلیجنس کی اِن پُٹ ہوتی ہے کہ جس کی بنیاد پر فیصلہ کیا جاتا ہے کہ اب اس کی ترقی کا سفر روک دیا جائے۔ ان کے مطابق مثلاً ایسی شکایات بھی سامنے آتی ہیں کہ کوئی افسر فوج میں منافرت پھیلا رہا ہے۔ بعض دفعہ افسران سے پوچھا بھی نہیں جاتا اور کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے مگر بعض دفعہ بلا کر جواب طلبی بھی کی جاتی ہے۔

سابق ایڈجوٹینٹ جنرل امجد شعیب کا کہنا تھا کہ تجاویز دینے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ کوئی ان پر عملدرآمد کی بھی ضد کر بیٹھے کیونکہ عملدرآمد حکام بالا اور وفاقی حکومت کا کام ہوتا ہے۔